قیدی کے فرار کا الزام آرام باغ تھانے کے پولیس افسر اور اہلکاروں کا ریمانڈ دیدیا گیا

ملزم مصطفی کو اے سی ایل سی کی جانب سے بطور امانت حوالات میں بند کیا گیا تھا

جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا فوٹو: فائل

جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی بشیر احمد چنہ نے حوالات سے قیدی فرار کرانے کے الزام میں گرفتار ملزمان اے ایس آئی امیر ، ہیڈ محرر مقصود اور کانسٹیبل فرید کو یکم اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ پر تھانہ آرام باغ پولیس کی تحویل میں دیدیا۔

ملزمان پر الزام ہے کہ انھوں نے رقم کے عوض تھانے کے حوالات سے کارلفٹنگ کی وارداتوں میں گرفتار ملزم مصطفی کو فرار کرادیا تھا، ملزم کو اے سی ایل سی پولیس کی جانب سے بطور امانت حوالات میں بند کیا گیا تھا، ملزمان کے خلاف غفلت و لاپرواہی برتنے کے مقدمات درج ہیں، دریں اثنا جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی سلیمان برور نے قبضہ مافیا سے تعلق رکھنے والے ملزمان سرور ، رفیق ، اختر ، نادیہ ، ثمینہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھجوادیا ملزمان کے خلاف تھانہ سولجز بازار میں مقدمہ درج ہوا تھا ۔




عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے انتھونی جوزف نے مقدمے میں موقف اختیار کیا کہ دوسرے تھانے کی پولیس میرے سیکیورٹی گارڈ کو گرفتار کرکے لے گئی اس کے بعد ملزمان نے گھر پر دھاوا بول دیا اور میرے بنگلے پر قابض ہوگئے، تفتیشی افسر زاہد حسین جدون نے ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ مقدمے میں عدم گرفتار ملزمان کو گرفتار کرنا ہے۔

علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نور محمد کی عدالت نے وفاقی اردو یونیورسٹی کے ویلفیئر افسر کے بھائی پولیس کانسٹیبل ناصر خان کو قتل کرنے کے مقدمے میں ملوث گینگ وار سے تعلق رکھنے والے ملزم شعیب احمد عرف چکنا کا ایک یوم کا جسما نی ریمانڈ دیتے ہوئے ملزم کے مقدمے کی پولیس فائل پیش کرنے کا حکم دیا، ملزم کے خلاف تھانہ گارڈن میں16اگست2013 کو مدعی طارق خان نیازی کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا اور بتایا کہ ملزم نے فائرنگ کرکے ناصر خان کو ہلاک کردیا ہے، ملزم کو کرائم برانچ نے گرفتارکرکے عدالت میں پیش کیا تھا۔
Load Next Story