سعودی عرب آئل تنصیبات پر حملے اور نئے خطرات

سعودی حکام بھی امریکی سازشوں سے آگاہ ہیں کہ کس طرح امریکا نے صدام حسین کے گردسازشوں کا جال بن کر کویت پر حملہ کروایا۔

سعودی حکام بھی امریکی سازشوں سے آگاہ ہیں کہ کس طرح امریکا نے صدام حسین کے گردسازشوں کا جال بن کر کویت پر حملہ کروایا۔ فوٹو:رائٹرز

امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے الزام عائد کیا ہے کہ ہفتے کے روز سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی تیل کی کمپنی آرامکو کے دو پلانٹس پر ہونے والے ڈرون حملوں میں ایران براہ راست ملوث ہے جب کہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس امریکی الزام کو مسترد کرتے ہوئے اسے صریحاً دھوکا بازی قرار دیا ہے۔

ادھر یمن کے حوثی باغیوں نے ان ڈرون حملوں کی ذمے داری قبول کی تھی تاہم امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اسے ماننے سے انکار کر دیا کہ ڈرون حملے حوثی باغیوں نے کیے تھے۔ انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ سعودی عرب پر 100کے قریب ڈرون حملوں میں ایران ملوث ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کو ٹیلی فونک گفتگو میں تیل تنصیبات کے تحفظ کے لیے مدد کی پیشکش کی جب کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب اس قسم کی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سعودی آئل تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی ہیں جس کے اثرات پاکستان پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، خدشہ ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10سے 12روپے کا اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ قیمتیں بڑھنے سے پاکستان کے برآمدی بل میں 80کروڑ ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔

سعودی عرب ایک پرامن ملک تصور کیا جاتا ہے لیکن جب سے یمن کے ساتھ اس کی چپقلش شروع ہوئی ہے وہاں پر دہشت گردانہ کارروائیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں' اب سعودی عرب کی تیل کی سب سے بڑی کمپنی کے دو پلانٹس پر حملے افسوسناک ہیں' میڈیا میں ایسی باتیں بھی آرہی ہیں کہ حوثی باغی ان حملوں کی ذمے داری قبول کر رہے ہیں جب کہ امریکی وزیر خارجہ اسے کسی طور بھی تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں اور اس کا الزام براہ راست ایران پر تھوپنے کی کوشش کر رہے ہیں' انھوں نے اپنی ٹویٹ میں واضح لکھا کہ شدت پسندی کو ہوا دینے کے خاتمے کی تمام تر کوششوں کے باوجود ایران نے دنیا کو آئل سپلائی کرنے والی ریفائنری پر پے در پے حملے کیے' ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ یہ حملے یمن سے کیے گئے ہوں۔


اس امریکی الزام میں حیرت کے ساتھ تشویش کے کئی پہلو پوشیدہ ہیں کہ جب ایران ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کر رہا تو امریکا زبردستی اس پر الزام تھوپنے کی کیوں کوشش کر رہا ہے' اس کے پس منظر میں اس کی کیا منصوبہ بندی اور عزائم ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اس امریکی الزام سے خلیج کے علاقے میں جنگ کے بادل گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں' امریکا گزشتہ کئی برسوں سے ایران پر حملے کے لیے پر تول رہا ہے' پہلے ایٹمی ٹیکنالوجی کے فروغ کا الزام لگا کر ایران پر پابندیاں عائد کی جاتی رہیں مگر اب دہشت گردی کا الزام لگا کر ایران کے خلاف سازشوں کا نیا جال بنا جا رہا ہے۔

سعودی حکام بھی امریکی سازشوں سے آگاہ ہیں کہ کس طرح امریکا نے صدام حسین کے گرد سازشوں کا جال بن کر کویت پر حملہ کروایا اور پھر کویت کو شدید نقصان پہنچانے کے بعد عراق کو تباہ کر دیا، یہی وجہ ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ کی دفاعی تعاون کی پیشکش پر شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح طور پر کہہ دیا کہ سعودی عرب اس قسم کی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سعودی عرب کا رویہ انتہائی دانشمندانہ ہے۔ یہ بات حقیقت ہے کہ جن قوتوں نے سعودی آئل تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے ، وہ مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے دشمن ہیں۔مشرق وسطی میں جو کچھ ہورہا ہے ، اس پر مسلم ممالک کو یک سو ہوکر سوچنا چاہیے کیونکہ اب صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرچکی ہے۔ حوثیوں کو بھی اپنے طرز عمل پر غور کرناچاہیے اور ایران ، سعودی عرب کو بھی دشمنوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ اس سے پیشتر کہ مشرق وسطیٰ اور خلیج کے علاقے میں جنگ سے تباہی کے نئے مناظر سامنے آئیں۔

سعودی عرب اور ایرانی حکام کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے اور باہمی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ عراق' لیبیا' افغانستان اور شام میں ہونے والی خانہ جنگی اور ہر طرف پھیلی ہوئی تباہی کے بعد مسلمان دنیا مزید کسی اسلامی ملک میں انتشار اور خانہ جنگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ کئی مسلم ممالک پہلے ہی انتشار کا شکار ہیں، وقت آ گیا ہے کہ مسلم دنیا اپنے تحفظ اور سلامتی کے لیے کسی قسم کی سازش کا شکارہونے کے بجائے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو کر اپنے تحفظ کو یقینی بنائے۔
Load Next Story