بھینس کالونی میں شوہر کے قتل میں ملوث بیوی اور آشنا گرفتار

متوفی کی اہلیہ شہنازکے موبائل فون ڈیٹا سے قتل کا معمہ حل ہوا، ہربار بیان بدلتی رہی، سکھن پولیس

مقتول کی غیرموجودگی میں دونوں اکثر ملتے تھے، فیاض نے علی شیر کو بہانے سے بھینس کالونی سے آگے جنگل میں 4 گولیاں مار کر قتل کیا۔ فوٹو: فائل

سکھن انویسٹی گیشن پولیس نے بھینس کالونی میں 7 روز قبل قتل کیے جانے والے شخص کے قتل میں ملوث مقتول کی اہلیہ اور اس کے آشنا کو گرفتار کرکے آلہ قتل پستول برآمد کرلیا جب کہ گرفتار ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

سکھن انویسٹی گیشن پولیس نے 8 ستمبر کو بھینس کالونی میں قتل کیے جانے والے 35 سالہ علی شیر کی اہلیہ شہناز اور اس کے آشنا سجاد کو گرفتار کر کے آلہ قتل پستول برآمد کرلیا، پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول اور اس کی اہلیہ کی موبائل فون کا ڈیٹا چیک کرنے پر قتل کا معمہ حل ہو گیا۔


ابتدائی طور مقتول کی اہلیہ مختلف اوقات میں بیان لیے گئے ہر بیان میں اس کا موقف تبدیل ہوجاتا تھا جس پر شبہ ہوا تو پولیس نے اسے باقاعدہ حراست میں لے کر تفتیش کی تو اس نے نہ صرف اپنے جرم کا اعتراف کرلیا بلکہ آشنا سجاد کے بارے میں بھی سب کچھ بتادیا جس پر پولیس نے ملزم سجاد کو بھی حراست میں کر تفتیش کی تو اس نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کرلیا۔

شہناز نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا کہ علی شیر سے اس کا اکثر جھگڑا ہوتا تھا جس میں وہ اس کو مارتا پیٹتا بھی تھا اسی دوران فیاض نے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا جس پر اس سے محبت ہوگئی اور وہ دونوں اکثر فیاض کی غیر موجودگی میں ملتے بھی تھے اسی دوران اس نے فیاض کے ساتھ منصوبہ بندی کے تحت شوہر کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ منصوبے کے تحت 8 ستمبر کو فیاض علی شیر کو بہانے سے بھینس کالونی گلی نمبر 12 سے آگے سنسان جنگل میں لے گیا اور فائرنگ کر کے 4 گولیاں مار کر اسے قتل کردیا۔

ملزمہ شہناز کی محبت میں قاتل بننے والے ملزم سجاد نے پولیس کو قتل کی کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ 6 سال قبل سوات میں شہناز سے دوستی ہوئی جس کے بعد فون پر رابطہ تھا 2 سال قبل بھی شہنازنے اپنے شوہر کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا تھا ، پولیس نے قتل کا مقدمہ مقتول کے بھائی عجب خان کی مدعیت میں درج کیا تھا۔
Load Next Story