لڑکی کی ہلاکت کامعمہ حل نہ ہوسکا والدہ تاحال لاپتہ

14 ستمبرکومبینہ ٹاؤن کے علاقے میںفلیٹ سے 26 سالہ طاہرہ کی لاش ملی تھی

پوسٹ مارٹم رپورٹ میں لڑکی سے زیادتی کے شواہد نہیں ملے،تفتیشی افسردلاور ۔ فوٹو: فائل

مبینہ ٹاؤن میں لڑکی کی ہلاکت کامعمہ حل نہ ہوسکا جبکہ اس کی والدہ تاحال پراسرارطور پر لاپتہ ہے۔

14 ستمبرکومبینہ ٹاؤن تھانے کے علاقے میں گلشن ویواپارٹمنٹ کے فلیٹ نمبرای سیون سے26 سالہ لڑکی کی کئی روز پرانی برہنہ لاش ملی تھی جس کی شناخت طاہرہ بتول بنت سید غلام علی شاہ کے نام سے کی گئی تھی،متوفیہ اپنی والد زاہدہ بی بی کے ساتھ رہتی تھی جبکہ اس کی والدہ پراسرار طور پرلاپتہ ہوگئی تھی جس کا تاحال پتہ نہیں چل سکا ہے۔


پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد لڑکی کی لاش خالہ زاد بھائی نویدکے حوالے کرکے لڑکی کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف سرکارمدعیت میں درج کرکے باقاعدہ تفتیش کا آغاز کردیا تھا۔

مقدمے کے تفتیشی افسردلاورحسین جوکھیو نے ایکسپریس کوبتایا کہ متوفیہ لڑکی طاہرہ معذورتھی چلنے پھرنے اور بولنے سے بھی قاصر تھی جبکہ لڑکی کی والدہ زاہد بی بی پر بھی فالج کا اٹیک ہو چکا ہے۔ پولیس کو فلیٹ سے ایک پرس ملا تھا جس میں مقتولہ اوراس کی والدہ کا قومی شناختی کارڈ اور ایک موبائل فون موجود تھا۔

موبائل فون کاریکارڈ حاصل کرنے کے لیے اس کا ای آئی ئی ایم آئی نمبر متعلقہ حکام کو بھیجاہے،موبائل فون نمبراوراس کا ریکارڈجلد پولیس کومل جائے گا جس کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ مقتولہ کی والدہ کا آخری مرتبہ کس سے رابطہ ہوا تھا اوروہ اب تک کہاں ہے۔
Load Next Story