عوام کو معاشی ثمرات سے نوازیے

حکومت نے عوام پرایک ہی دن میں 2مہنگائی بم گراتے ہوئے گھریلوصارفین کے لیے بجلی اورپٹرول کی قیمتوںمیںاضافہ کردیا.

غیر منطقی معاشی حکمت عملی بلاشبہ معاشی بے سمتی اور اقتصادی عدم استحکام کی طرف لے جانے کی زبردست قوت رکھتی ہے.فوٹو/فائل

لاہور:
حکومت نے عوام پرایک ہی دن میں دومہنگائی بم گراتے ہوئے گھریلوصارفین کے لیے بجلی اورپٹرول کی قیمتوںمیںاضافہ کردیا،جس کااطلاق فوری ہوگا ۔یہ کتنا عجیب اقتصادی تضاد اور تیل کی سیاست کا کیسا حیرت ناک فارمولا ہے کہ جس دن پاکستان کے عوام کے نصیب میں کسی قسم کی حقیقی اور ٹھوس ریلیف اور مالی استحکام کاری کے بجائے بجلی و تیل کی معاشی بمباری لکھ دی جاتی ہے، اسی روز بھارتی حکومت تیل کی قیمتوں میں3.66 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کرتی ہے، مئی میں کی جانے والی کمی کے بعد یہ بھارتی حکومت کی سب سے بڑی کمی قراردی گئی ہے جب کہ ہمارے اقتصادی ماہرین تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے ثمرات کے حوالے سے تاویلات اور معذرت خواہی کے بازار سجا لیتے ہیں اور عوام اسی انداز نظر کے باعث جمہوریت کے معاشی ثمرات سے محروم ہیں ۔

بتایا جاتا ہے کہ بھارتی تیل کمپنیوں نے یہ کمی روپے کی قدر میں استحکام کی خاطر کی ہے، تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل سے کم ہوکر 113 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے روپیہ ڈالر کے مقابلہ میں مستحکم ہوا ہے،اس لیے صارفین کو فائدہ دیا گیا۔جب کہ پاکستان میں ڈالر 109 روپے کا ہوگیا ہے ۔ پتا نہیں تیل کی ایک ہی عالمی مارکیٹ میں فائدہ سمیٹنے کا طریقہ ہمارے حکمرانوں کو کب آئے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ارباب اختیار معیشت اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو پیش نظر ضروررکھیں تاہم یہ یاد رکھیں کہ عوام کی زندگیوں سے ہی جمہوری عمل ، ریاستی بقا، حکومتی استحکام اور ملکی ترقی و خوشحالی کی سرگرمیاں مشروط ہیں۔اگر سابقہ حکومت بجلی گیس اورسی این جی کی مستقل فراہمی میں ناکام رہی تو اس ناکامی کا تسلسل خوش آیند نہیں۔نیپراکی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق 200 سے زائدیونٹس ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے بجلی 5.89 روپے فی یونٹ مہنگی کردی گئی ہے جس کے بعدفی یونٹ قیمت8.11 روپے سے بڑھ کر14روپے ہوگئی ہے۔

200 یونٹ یااس سے کم ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین اس اضافے سے مستثنیٰ ہوںگے۔بجلی کی قیمتوں میںاضافے کے فارمولے کے تحت 201 سے300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کے لیے5.89 روپے فی یونٹ،301 سے 700یونٹ تک کے صارفین کے لیے3.67 روپے فی یونٹ اور700 یونٹ سے زائداستعمال کرنیوالے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتمیں2.93 روپے فی یونٹ اضافہ کیا گیاہے۔ صورتحال میں بنیادی تبدیلی ناگزیر ہے ورنہ جمہوری عمل اور انتخابات پر سے عوام کا اعتمادمجروح ہونے کا اندیشہ ہے۔ معاشی فوائد اقتصادیات کے خانہ بر انداز چمن صرف اشرافیہ پر نہ لٹائیں جب کہ نجکاری کے ذریعہ امتیازی طبقات اور معیشت کی نئی نوآبادیاتی شکل کی واپسی کی راہ ہموار کرنے کا اگر کوئی پروگرام ہے تو خود کفالت، سادگی، غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی باتیں صرف دل کو خوش رکھنے کے لیے ہوںگی ۔علاوہ ازیں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی5.57 روپے فی لیٹرتک اضافہ کیا گیا ۔


تاہم وزیراعظم کی طرف سے پٹرول اورڈیزل کی قیمت میں دوروپے فی لیٹرکے حساب سے سبسڈی دینے کی منظوری دینے کی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں 6.12 روپے کے بجائے 4.12 روپے فی لیٹراورہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 6.69روپے کے بجائے 4.69 روپے فی لیٹربڑھائی گئی ہے۔پٹرول کی قیمت 4.12 روپے فی لیٹراضافہ کے ساتھ 109.13روپے سے بڑھاکر113.25 روپے فی لیٹر،ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 4.69 روپے اضافہ کے ساتھ 112.26روپے سے بڑھا کر 116.95روپے فی لیٹرکردی گئی ہے۔مٹی کے تیل کی قیمت میں2.14 روپے اضافہ کے ساتھ 105.99روپے سے بڑھا کر 108.13روپے فی لیٹر، ایچ اوبی سی کی قیمت میں5.57روپے اضافہ کے ساتھ 138.33روپے سے بڑھا کر143.90روپے فی لیٹرجب کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت 2.81 روپے اضافہ کے ساتھ 98.43 روپے سے بڑھاکر 101.24 روپے فی لیٹرکردی گئی ہے۔ نیپرا نے بجلی پرماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ ختم کرنے کی سفارش کی ہے اورکہا ہے کہ فیول لاگت ماہانہ کے بجائے چھ ماہ یاہرسال ایڈجسٹ کی جائے۔

بجلی کی قیمتوں میں60 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا گیا،جسکے بعد لازماً سیکڑوں کا بل ہزاروں میں تبدیل ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے قرض لینے کی شرائط میں ایک شرط بجلی اورگیس کی قیمتوںمیں اضافہ بھی تھا،جسے حکومت نے منظورکر لیا تھا۔وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ پٹرول اورڈیزل پرسبسڈی دینے سے حکومت کودوارب دس کروڑ روپے کانقصان ہوگا۔ ایکسپریس،،کوٹیکس وصولیوںکے عبوری اعداد وشمارکے مطابق ایف بی آرنے رواںمالی سال 2013-14کی پہلی سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 480 ارب روپے کی ٹیکس وصولیاںکیں،رواںمالی سال کی پہلی سہ ماہی کے لیے مقررکردہ 512ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف کے مقابلہ میں32 ارب روپے کم ہیں ۔ ادھر اطلاع ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے بجلی اورپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میںکیے جانے والے حالیہ اضافے سے عوام کی جیبوں سے 170ارب روپے ماہانہ سے زائد نکلوائے جائیں گے حکام کے مطابق ملک میں بجلی کے مجموعی طور پر 87ارب سے زیادہ یونٹ فروخت ہوتے ہیں جن میں سے 30 سے 35 ارب یونٹ 200یونٹ ماہانہ سے زائد استعمال کرنے والے صارفین استعمال کرتے ہیں جب کہ گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 764ارب روپے کے بل جاری کیے گئے جن میں سے 716ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں۔

غیر منطقی معاشی حکمت عملی بلاشبہ معاشی بے سمتی اور اقتصادی عدم استحکام کی طرف لے جانے کی زبردست قوت رکھتی ہے،معاشی ماہرین بجلی ،گیس، سی این جی اور تیل کی جملہ مصنوعات کی قیمتوں میں وقفے وقفے سے جس معاشی قتل کا اعلان کرتے ہیں اس سے عوام کی نفسیات و اعصاب کی دنیا ززیرو زبر ہوجاتی ہے، معاشرے میں پھیلی ہوئی بے چینی کا بنیادی سبب معاشی محرومیاں ہیں۔قومی امنگوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ حکومت کو اپنے معاشی ایجنڈہ کو سابقہ حکومتوں کی معاشی اورتیل کی مصنوعاتی پالیسی سے الگ شکل دینی چاہیے تاکہ مشکلات اور مالی مجبوریوں کے شکار عوام کو معاشی ثمرات اور ٹریکل ڈائون کے مستقل فوائد میسر ہوں اور یہ منفی تاثر ختم ہوسکے کہ امریکی ایجنڈہ اور سفارش پر آئی ایم ایف نے 5 ستمبر2013 کو پاکستان کو6.7ارب ڈالر کا قرضہ دیاہے جس کے نتیجے میں بجلی،گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہوتا رہیگا،صنعتوں میں پیداواری لاگت بڑھے گی،افراط زر اہداف سے زیادہ اور شرح نمو مالی سال کے بجٹ اہداف سے کم رہے گی،اور قومی اثاثے غیر ملکیوں کو بیچے جائیں گے۔چنانچہ ان اندیشوں سے ماورا ایسی شفاف اقتصادی پالیسی وضع ہونی چاہیے جس میں عوام کو معاشی دھچکوں سے زیادہ حقیقی ریلیف مہیا ہوسکے ، ملک تاریکی سے نکل کر روشنی میں آئے، اور مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو۔
Load Next Story