چہ دلاوراست دزدے

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن سے مصنوعی امن کی عارضی قلعی کھل گئی اور قاتل پھر سے سرگرم ہوگئے۔

قانون شکن اور مسلح افراد کراچی کی مخدوش صورتحال کا جس دیدہ دلیری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں وہ قانون نافذ کرنے حکام کے لیے ایک لمحہ فکریہ اور ویک اپ کال ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں ٹارگٹڈ آپریشن سے مصنوعی امن کی عارضی قلعی کھل گئی، قاتل پھر سے سرگرم ہوگئے، پیر کو شہر میں ٹارگٹ کلرزکے ہاتھوں 17 افراد لقمہ اجل بنے۔ قانون شکن اور مسلح افراد منی پاکستان کی مخدوش صورتحال کا جس دیدہ دلیری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور موت کا بہیمانہ جشن جس درندگی کے ساتھ منایا جارہا ہے وہ قانون نافذ کرنے والے ان حکام کے لیے ایک لمحہ فکریہ اور ویک اپ کال ہے جو اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ان قانون شکن قوتوں کی تلاش میں دن رات سرگرداں ہیں اور اب تک 700 کے لگ بھگ ایسے مفرور،اشتہاریوں اور خطرناک ملزمان کو حراست میں لیا جاچکا ہے جو سنگین مقدمات میں ملوث ہیں اور جو کراچی کے دو کروڑ عوام کے جان ومال کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔


مگر سوال یہ ہے کہ منی پاکستان کے جنگل جیسے معاشرے میں ان ملزمان کے مقدمات اور انھیں سزا دینے میں تاخیر کا پہلو کیوں نمایاں ہے، آخر وہ 450 ملزمان کہاں ہیں جن کی فہرست وزیراعظم کو پیش کی گئی تھی اور ان کی فوری گرفتاری کی ہدایت سپریم کورٹ بھی دے چکی ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس سے بڑی تعداد ابھی حراست میں لی جائے گی اور آپریشن کا دوسرا اور تیسرا مرحلہ خاصا صبر آزما اور ''ہمت مرداں مدد خدا'' جیسا ہوگا۔ بہرحال یہ حقیقت واقعی دردناک ہے کہ امن عارضی ثابت ہوا اور ایک ہی دن میں ٹارگٹ کلرز نے اتنے شہریوں کو ہلاک کیا۔

کراچی میں مسلح گینگز،مافیائیں اور اسلحے کی مضبوط لابیاں اپنے اثرو رسوخ کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ پورے ملک میں جرائم کا خوفناک نیٹ ورک رکھتی ہیں۔ان عناصر سے کراچی سمیت پورے ملک کی سلامتی خطرے میں ہے، اتنے بڑے آپریشن کے باوجود ان کی یہ ہمت کہ وہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں خون کی ہولی کھیلیں اور ان کے سرغنہ اور کارندے تک موقعے پرگرفتارنہ ہوسکیں ،الامان و الحفیظ! ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ حکومت آپریشن میں پکڑے جانے والوں کو قانون کے مطابق جلد سے جلد سزا دلوائے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو اور کراچی میں امن قائم ہو۔
Load Next Story