’دو لفظوں میں پوشیدہ کُل میری کہانی ہے‘

جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات مزاج پُرسی کے چند الفاظ سے شروع اور ختم ہوئی۔

Abdulqhasan@hotmail.com

PAKPATTAN:
'کیہ حال اے تُسی ٹھیک او' 'اللہ دا شکر ہے۔ تُسی سنائو تہاڈا کیہہ حال اے' چکوال اور امرتسر کی ملی جلی پنجابی کے ان سوالیہ رسمی سے الفاظ سے جنوبی ایشیا کے دو بڑے متحارب ملکوں کے وزرائے اعظم کی بہت ہی اہم سمجھی جانے والی ملاقات کا آغاز ہوا اور یوں سمجھیے کہ مزاج پُرسی کے انھی چند الفاظ پر یہ ملاقات ختم بھی ہو گئی یا اس کا نتیجہ یہی مزاج پُرسی کے رسمی الفاظ ہی رہے۔ دونوں ملکوں کے لیے بے حد اہم ملک امریکا کی سرزمین پر اور اقوام متحدہ کے ایک سالانہ اجلاس کے آس پاس ہونے والی یہ ملاقات جس قدر بے اثر بے سود اور بیکار رہی اس کی مثال شاید انھی دو ملکوں کی کسی دوسری ملاقات میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ ان دونوں ملکوں کی آزادی کی صرف 66 برس کی تاریخ ان ملکوں کی آبادی کی نظروں سے گزری ہے اس میں جنگیں بھی ہیں، جنگوں کی دھمکیاں بھی ہیں، بدگمانیاں بھی ہیں اور کسی ایٹمی جنگ جیسے خطرے بھی ہیں۔ دونوں ملکوں کو خوب معلوم ہے کہ کسی کے اپنی آبادی وسائل اور عالمی تعلقات جتنے بھی کیوں نہ ہوں، وہ اب گرم جنگ سے دور ہی رہیں گے۔

ایٹمی جنگ کی تباہی کا یہ دونوں ایٹمی ملک تصور بھی نہیں کر سکتے اور کوئی ملک اگر قومی خود کشی پر تیار ہے تو اس کی مرضی۔ ایٹم بم بھارت نے پہلے بنایا اور پاکستان کو اس کی طاقت اور تباہی کی دھمکیاں بھی دیں۔ لیکن ذہنی طور پر اس بظاہر بڑے مگر اندر سے چھوٹے ملک کو یہ معلوم نہیں تھا یا وہ یہ ادراک کرنا نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان کے پاس بھی اس سے زیادہ طاقت ور بم ہے اور کہیں زیادہ موثر میزائل کا سسٹم بھی کل بھی اور آج بھی بھارت پاکستان کے حملے کی تاب نہیں لا سکتا۔ پاکستان کے بھارت کی طرف پرواز کرنے والے کسی میزائل کو راستے میں روکنا قطعاً ممکن نہیں ہے اور بھارت کا کوئی شہر اور اس کی کوئی فوجی چھائونی پاکستانی حملے سے بچ نہیں سکتی۔ دونوں میں کون ملک بڑا ہے اور کون چھوٹا، ایٹم بم کی اندھی آنکھیں اسے دیکھ نہیں سکتیں۔ یوں تو میں بار بار ایٹم بم کا ذکر کر رہا ہوں لیکن خدا نہ کرے دونوں ملکوں میں کوئی ایسا دیوانہ حاکم آ جائے جو اس خطے کو کھنڈر بنا کر ماضی کی تاریخ میں بدل دے۔

بھارت کے اصل باشندوں کو چونکہ اپنی تاریخ کے آزادی کے صرف چند برس ہی ملے ہیں۔ انگریزوں کی آمد پر ان کی غلامی کا نیا دور شروع ہوا جب ان پر سے مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکومت ختم ہو گئی اور اس کی جگہ ان کی انگریزی غلامی شروع ہوئی۔ کوئی 66 برس پہلے ہی یہ برطانوی غلامی ختم ہوئی، یوں سمجھئے کہ بھارت کے باشندے اپنی صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ میں صرف حال ہی کے چند برس آزاد رہے اور اس دوران ان کے سابق حکمران مسلمان آپس میں لڑتے رہے کہ کیوں نہ وہ متحد ہو کر بھارت میں ہی رہتے اور انگریزوں کے جانے پر اپنی کھوئی ہوئی حکمرانی واپس لیتے لیکن یہ خالصتاً جذباتی فیصلہ مسلمانوں کے محمد علی جناح جیسے حقیقت پسند لیڈروں نے قبول نہ کیا اور اس کی جگہ دو قومی نظریہ اپنایا جس میں مسلمانوں کے سابقہ غلام بھارتیوں کو ایک الگ قوم تسلیم کیا گیا۔


یہ باتیں پاک بھارت وزرائے اعظم کی ملاقات سے یاد آ گئیں۔ ''مہان'' بھارت کے لیڈر نے پاکستانی وزیر اعظم کی ایک تقریر سے ناراض ہو کر پاکستانی وزیر اعظم سے ملنے جانے کا پروگرام بدل دیا اور پاکستانی وزیر اعظم کو پاکستانی ہوٹل روز ویلٹ سے اپنے کرائے کے ہوٹل میں بلا لیا۔ بھارت کی طرف سے جو بدمزگی پیدا ہو گئی تھی، وہ اس ملاقات میں بھی موجود رہی اور سچ یہ ہے کہ یہ ملاقات حال چال پوچھنے تک ہی رہی اور اس بات پر کہ میاں صاحب نے بھارتی وزیر اعظم کو کسی بوڑھی مائی کی طرح کیوں کہا جو امریکی صدر سے شکایت لگانے گئی تھی۔

بھارت نے پاکستانیوں پر کتنی کاری ضربیں لگائی ہیں۔ پہلی ضرب کشمیر کی ہے جسے بھارت نے فوجی قبضے میں لے لیا اور پاکستان کی جتنی فوج ہے اتنی فوج بھارت نے کشمیر میں جھونک رکھی ہے۔ پورا کشمیر بھارت سے بے زار ہے اور اسے ایک قابض ملک سمجھتا ہے۔ کشمیریوں کی جانی قربانی اور عزتوں کی قربانی کا کوئی حساب نہیں اور جس دن کوئی جاندار باغیرت پاکستانی حکومت آئی وہ یہ حساب کتاب بھی چکائے گی اور اس دن بھارت کا یہ اٹوٹ انگ کشمیر کی کسی وادی میں گرا پڑا ہو گا۔ یہ اٹوٹ اس لیے ہے کہ ہم پاکستانی اسے توڑنے کی ہمت نہیں پا رہے ورنہ یہ ہم پر فرض ہے کہ کشمیر کے مسلمانوں کو آزاد کرائیں اور وہ پاکستان کا ایک حصہ بن کر پاکستان میں شامل رہیں۔ بھارتیوں کی بدنیتوں کا یہ حال ہے کہ اس نے ہمارا پانی بند کرنا شروع کر دیا ہے جو ہمیں کسی بڑی جنگ سے واگزار کرانا پڑے گا۔

یہ ہماری پاکستانی حکومتوں کی نالائقی اور ملک دشمنی ہے کہ وہ یہ سب دیکھتی رہیں اور اسے روکنے کی کوشش نہیں کی اور ایک ناقابل فراموش کاری ضرب مشرقی پاکستان کی علیحدگی ہے جہاں بھارت نے دنیا کے ہر اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوج کشی کے ذریعہ مشرقی پاکستان میں کارروائی کی اور ہمارے حکمرانوں نے بھارت کی مزاحمت نہ کی بلکہ اسے موقع دیا کہ وہ ہمیں تاریخی شکست اور عبرت سے دوچار کر دے۔ بھارت نے تو جو کیا سو کیا ہمارے لیڈروں نے بھی غداری کی اور بنگال میں میر جعفر پھر سے زندہ ہو گیا۔ اس موضوع پر تو بہت ہی لکھا جا چکا ہے اور لکھا جاتا رہے گا فی الوقت بات دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کی ملاقات کی ہے، ایسے پس منظر میں یہ ملاقاتیں کیسے کامیاب ہو سکتی ہیں سوائے خیر و عافیت معلوم کرنے کے کہ تُسی سنائو کیا حال ہے اور پھر پاکستان میں تخریب کاری میں بھارت کا ہاتھ واضح ہے۔
Load Next Story