آواران امداد و بحالی کا منتظر

بلوچستان کے علاقے آواران کی تحصیل مشکے کا مکین کبیر جناح اسپتال میں اپنی داستان صحافیوں کو سنا رہا تھا۔

tauceeph@gmail.com

اسد میرا دوسرا بچہ ہے ، زلزلے میں اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔ میری 5 سالہ بچی مہتاب اور ڈیڑھ سالہ بچہ مکان کے ملبے میں دب کر جاں بحق ہوگئے۔ میری بیوی اپنے بچے کو گود میں لیے کمرے سے نکلنے کی کوشش کررہی تھی مگر وہ بھی زخموں کی تاب نہ لاسکی۔ بلوچستان کے علاقے آواران کی تحصیل مشکے کا مکین کبیر جناح اسپتال میں اپنی داستان صحافیوں کو سنا رہا تھا ۔ کبیر آواران میںپولیس افسر ہیں اوران کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت میں اس کا خاندان تباہ ہوگیا وہ اب کس سے شکایت کرے ۔ جناح اسپتال کے زچہ وارڈ میں ایک کراچی کا خاندان موجود ہے اس خاندان کی خاتون گل بی بی کا کہنا ہے کہ اس کی بیٹی کی شادی آواران میں ہوئی ۔

بیٹی اپنے سسرال میں خوش تھی اس کے شوہر کا کجھورکا باغ ہے ۔گل بہار آج کل امید سے ہے زلزلے میں اس کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں مگر ماں کے پیٹ میں بچہ محفوظ رہا۔ یہ ایسی داستانیں ہزاروں لوگوں کی ہیں ۔ آواران کا شمار ملک کے پسماندہ ترین اضلاع میں ہوتا ہے۔ یہاں کی آبادی 2 لاکھ افراد پر مشتمل ہے جن میں سے اکثریت کا تعلق زراعت کے شعبے سے ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آواران اس خطے سے گزرنے والے زلزلے کی تین فالٹ لائنوں کا جنکشن ہے ۔آواران کی تین تحصیل ہیں،اس میں سب سے خوشحال تحصیل مشکے کی ہے مشکے میں پانی دستیاب ہے گندم کی پیداوار ہوتی ہے ، کجھور کے باغات ہیں مگر دو تحصیلیں بنجر ہیں ، سب سے زیادہ تباہی مشکے میں ہوئی ہے ۔

چند سال قبل اس علاقے میں قحط پڑنے سے انسانی جانیں ضایع ہوئی تھی ، اس علاقے میں طبی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔مشکے میں صر ف ایک ڈسپنسری ہے ۔ سڑکیں مٹی سے تعمیر ہوتی ہیں اور ان کا قریب ترین شہرکراچی ہے جو 350کلو میٹر دور ہے ایک نئی گاڑی 8 سے10 گھنٹے میں کراچی پہنچتی ہے ۔ کوئٹہ پہنچنے میں 12 سے 15 گھنٹے لگتے ہیں۔صحافیوں کا کہنا ہے کہ امریکی ارضیاتی مرکز نے زلزلے کے فوراََ بعد اس کے زلزلے مرکز کی نشاندہی کردی تھی مگر حکومت بلوچستان وفاقی حکومت اور فوج کی امدادی ایجنسیاں 48 گھنٹے بعد آواران پہنچ سکیں جن زخمیوں کے لواحقین انتظام کرسکتے تھے انھوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو کراچی پہنچایا۔

ایدھی ایمبولینس کے رضاکار آواران پہنچے جنہوں نے زخمیوں کو کراچی منتقل کیا۔زلزلے کی بناء پر اس سڑک پر رکاوٹیں پڑگئیں پھریہ سڑک یکطرفہ ہے ، زخمیوں کو کراچی منتقل کرنے میں خاصا وقت لگا۔ اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئی کہ سول اسپتال اور جناح اسپتال میں زلزلے کے زخمیوں کی طبی امداد کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے مگر سول اسپتال کراچی میں سرجیکل کمپلیکس کی لفٹ خراب ہونے کی بناء پر مریض سخت مشکلات کا شکار ہیں ۔ جناح اسپتال میں بیڈ اور دوائیوں کی کمی ہے۔ مریضوں کے لواحقین مارے مارے پھر رہے ہیں ، ہمیشہ کی طرح ایدھیایمبولینس سروس نے سب سے زیادہ مدد کی مگر سانحہ اتنا بڑا ہے کہ ہر شخص کو امداد نہیں مل پا رہی ۔


ایک زخمی کے رشتے دار کا کہنا ہے کہ ہم غریب لوگ اگر سکت رکھتے تو ہم کبھی ان سرکاری اسپتالوں کا رخ نہ کرتے ۔کراچی میں فعال سماجی تنظیمیں اس صورتحال پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں ، یہ صورتحال تو کراچی پہنچنے والے مریضوں کی ہے ۔ زلزلے کے مرکز اور ان کے اطراف کے علاقے میں صورتحال انتہائی خراب ہے ۔ زلزلے کا یہ جھٹکا ریکٹر اسکیل میں 7 درجے سے زیادہ تھا یوں زلزلے کے بعد مسلسل آفٹر شاک آرہے ہیں ان علاقوں کے اکثر مکانات کچے تھے ان میں سے کئی مکانات ٹوٹ گئے ۔ مرنے والوں کی لاشیں تدفین کی منتظر ہیں ۔ زخمیوں کی فوری امداد کے لیے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی تعداد انتہائی کم ہے ۔ فوج ہیلی کاپٹر فوری امدا د کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ۔ ان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زلزلے کے بعد کھانے کے پیکٹ زمین پر گرائے جاتے رہے ہیں مگر اس علاقے کے ایک شخص کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر پیکٹ مٹی اور گندے پانی میں ضایع ہو گئے، ان کا علاقہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کا مرکز رہا ہے ، اس تحریک کے رہنما ڈاکٹراللہ نذرکا تعلق آواران سے ہے۔ یوں یہ علاقے مسلسل فرنٹئیرکور کے آپریشن کی زد میں رہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آر سی ڈی ہائی وے اور اطراف کے راستوں پر ایف سی نے چوکیاں قائم کی ہوئی ہیں ، تمام لوگوں کو ان چوکیوں سے گزر کر آواران ڈسٹرکٹ کے مختلف علاقوں میں داخل ہونا پڑتا ہے ۔

بلوچستان کے حالات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ ایف سی کے آپریشن کی بناء پر آبادی کا ایک بڑا حصہ اس علاقے سے ہجرت کرگیا تھا صرف غریب آبادی کے بچے اپنے گھروں میں مقیم تھے جو سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ ہمارے ملک میں سب سے منظم ایجنسی پاکستان فوج کی ہے جس کو ہمیشہ ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے پھر فوری آپریشن کے لیے ہیلی کاپٹر موثر ذریعہ ہے یہ ہیلی کاپٹر نہ صرف فضاء سے امدادی کاروائیاں کرتے ہیں بلکہ ناہموار زمین پر اترتے ہیں ۔ یوں ان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ہزاروں لوگ محفوظ مقامات پرپہنچ سکے تھے ۔ زلزلے میں اب تک سرکاری طور پر 700 سے کچھ زیادہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوسکی ہے ، آواران اور اطراف کے پہاڑی علاقے میں گن شپ ہیلی کاپٹر فوجی آپریشن میں شامل رہے ، اس بناء پر لوگ خوف کا شکار ہیں ۔ علیحدگی پسندوںکو خدشہ ہے کہ امدادی آپریشن کی آڑ میں فوجی آپریشن ہوگا ، جاسوس داخل ہوجائیں گے، یوں اعتماد کا بحران ہے ۔

ذرایع ابلاغ پر فوجی ہیلی کاپٹروں پر حملوں کی خبریں شایع ہوئی ہیں ، امدادی ٹرک لوٹنے کی خبریں بھی آئی ہیں ۔ کراچی کے بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں پر حملے کی خبریں تصدیق شدہ نہیں ہیں، یوں ہزاروں افراد زخمی ہیں امدادی ٹیمیں مختلف گائوں میں پہنچ نہیں پا رہی ہیں اور مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اگرچہ پنجاب اور سندھ کے وزیراعلیٰ ، وفاقی وزیر داخلہ نے آواران کا دورہ کیا ہے ۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر مالک اپنی لندن کی مصروفیات کو منسوخ کرکے آواران پہنچ گئے ہیں مگر حالات خراب ہیں اس صورتحال میں حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت مختلف ممالک کی امداد کی پیش کشوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ بعض سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیر کے زلزلے اور آنے والے مختلف سیلابوں کے متاثرین کی امداد والی گہما گہمی نظر نہیں آتی ۔ کراچی سے ایم کیو ایم نے امدادی ٹرک بھیجے ہیں ، جہادی تنظیم تحریک الدعوہ والے سب سے پہلے امدادی کھیپ آواران بھیجنے میں کامیاب ہوئے مگر جماعت اسلامی ، پیپلزپارٹی ، مسلم لیگ والے اس صورتحال سے لاتعلق نظر آتے ہیں ۔

ایک سینئر صحافی نے کہا کہ ٹی وی چینلز کی ریٹنگ کی دوڑ میں آواران کا زلزلہ شامل نہیں ہے یوں لوگوں میں آگہی پیدا کرنے کا فریضہ پورا نہیں ہوپارہا ہے ۔ یہ انتہائی افسوس ناک صورتحال ہے ، بلوچستان کے لوگوں کے بارے میں بے حسی کی صورتحال کا مستقبل میں خاصا نقصان ہوگا۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے آواران کے نوجوانوںکو پنجاب میں ملازمتیں دینے کا خوش آیند اعلان کیا تاہم اس وقت معاملہ تو ملازمتوںسے زیادہ امدادی سرگرمیوں کا ہے ۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نے 5 کروڑ کی امداد کاتو اعلان کیامگر وہ کراچی کے اسپتالوں میں زخمیوں کے علاج کے معیار کو بلند کرنے کے لیے ذاتی طورپر نگرانی کریں تو نتائج زیادہ بہتر ہوسکتے ہیں ، پھر بلوچستان کے حقوق کی حمایت کرنے والے اس موقعے پر پی ایل ایف کے سربراہ ڈاکٹر نذر اللہ سے اپیل کریں کہ 3 ماہ کے لیے فوجی و دیگر امدادی ٹیموں پر حملہ نہ کریںتو حالات بہترہوسکتے ہیں ۔ اس طرح ایف سی بھی آپریشن نہ کرانے کی یقین دہانی کرائے تو امدادی سرگرمیاں بہتر ہوسکتی ہیں۔بہرحال آواران کے عوام مدد کے منتظر ہیںاور اب بھی بے شمارانسانی زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے لیکن اس کی فکر کس کو ہے ، دیکھنا یہ ہے۔
Load Next Story