ٹی یوایف اسکیم کے تحت بینکوں کوہدایات جاری

مشینری وٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کیلیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی،اسٹیٹ بینک

مشینری وٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کیلیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی،اسٹیٹ بینک۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے وفاقی حکومت کی 'ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن فنڈ' (ٹی یوایف) اسکیم کے تحت بینکوں وترقیاتی مالیاتی اداروں کو ٹیکسٹائل صنعت کیلیے ''مارک اپ سپورٹ'' اور ''انویسٹمنٹ سپورٹ'' کی فراہمی کے دعووں (کلیمز) کی پروسیسنگ سے متعلق ہدایات جاری کی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے بینکوں کے صدور؍چیف ایگزیکٹوز کو جاری کیے گئے آئی ایچ اینڈ ایس ایم ای ایف ڈی سرکلر نمبر 3 کے مطابق وزارت ٹیکسٹائل صنعت کی اعلان کردہ اس اسکیم سے ٹیکسٹائل صنعت میں مشینری اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن کیلیے سرمایہ کاری کرنے کی حوصلہ افزائی ہو گی، بینک و ترقیاتی مالیاتی ادارے ٹیکسٹائل صنعت کے ان اداروں سے ''مارک اپ سپورٹ'' اور ''انویسٹمنٹ سپورٹ'' کیلیے دعوے وصول کر سکیں گے جو وزارت ٹیکسٹائل صنعت کے پاس رجسٹرڈ ہیں تاہم انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل چھان بین کے بعد صرف ایسے حقیقی دعوے ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر کو ارسال کریں جن کے ساتھ ٹیکسٹائل صنعت کی وزارت کا جاری کردہ مشینوں کی تنصیب اور کمرشل آپریشنز کا تصدیق نامہ بھی منسلک ہو، ہر سپورٹ کیلیے علیحدہ تصدیق نامہ ہونا چاہیے، متعلقہ وزارت کے نوٹیفکیشن/ ٹی یو ایف اسکیم میں مندرج شرائط و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے یہ دعوے ارسال کیے جائیں۔


اسکیم کے تحت ''مارک اپ سپورٹ'' کے دعوے ''فارم ٹی یو ایف- I'' پر کلیم فارم میں مندرج دستاویزات/ کاغذات کے ہمراہ جمع کرائے جا سکتے ہیں، یکم ستمبر 2009 کو یا اس کے بعد جاری کیے جانیوالے قرضے ہی ''مارک اپ سپورٹ'' کے اہل ہونگے، اسکیم کے تحت وفاقی حکومت 50 فیصد مارک اپ واپس کر سکے گی بشرطیکہ وہ زیادہ سے زیادہ 5 فیصد سالانہ یا ان میں سے جو بھی رقم کم ہو تاہم ایک الگ قانونی ادارے کی حیثیت سے رجسٹرڈ کوئی کمپنی ہر ذیلی سیکٹر کیلیے سالانہ 50 ملین روپے کی زیادہ سے زیادہ مارک اپ سپورٹ کی اہل ہو گی، اسی طرح اسکیم کے تحت ''انویسٹمنٹ سپورٹ'' کے دعوے ''فارم ٹی یو ایف- II'' پر کلیم فارم میں مندرج دستاویزات/ کاغذات کے ہمراہ جمع کرائے جا سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت ایس ایم ایز کو قرضوں سے یا خود اپنے وسائل سے حاصل کردہ 10 ملین روپے تک کے نئے پلانٹ اور مشینری کی درآمد پر 20 فیصد تک انویسٹمنٹ سپورٹ فراہم کریگی، وفاقی حکومت ایس ایم ایز کے علاوہ دیگر اہل منصوبوں کو بھی ان کے وسائل سے درآمد شدہ نئے پلانٹ اور مشینری کے عوض 5 فیصد انویسٹمنٹ سپورٹ فراہم کر سکتی ہے تاہم کوئی کمپنی ہر ذیلی سیکٹر کیلیے 50 ملین روپے کی زیادہ سے زیادہ سپورٹ کی اہل ہو گی، انویسمنٹ سپورٹ کیلیے اس اسکیم کے تحت ماسوائے ایس ایم ایز کے دیگر یونٹس سے بینک کی ضمانت حاصل کی جائیگی۔ اسٹیٹ بینک نے متعلقہ بینکوں/ ڈی ایف آئیز کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے انتظامات کے مطابق بشمول اس اسکیم کے استفادہ کنندہ سے حاصل کردہ اقرار نامے کے اس امر کو یقینی بنائیں کہ وہ یہ سہولتیں دوسری بار حاصل نہیں کر رہے۔

مزید برآں، بینکوں/ ڈی ایف آئیز کو یہ امر بھی یقینی بنانا چاہیے کہ یہ دعوے ٹی یو ایف نوٹیفکیشن نمبرز (18)TID/10-P-I, 3(18)TID/12-P-I, TUF دستاویزاور اسٹیٹ بینک کے 30 اگست 2012 کے سرکلرنمبر 3 میں مندرج ہدایات پر سختی سے عملدرآمد کرتے ہوئے پیش کیے گئے ہیں، ایس بی پی بی ایس سی (بینک) کے دفتر میں ان دعووں کو پراسیس کیا جائیگا، سپورٹ کی رقم بینک یا ڈی ایف آئی کے ایس بی پی بی ایس سی (بینک) کے دفتر کھولے گئے اکاؤنٹس میں کریڈٹ کے ذریعے جاری یا ادا کی جائیگی بشرطیکہ اس کیلیے بجٹ دستیاب ہو۔ بینکوں کے صدور اور چیف ایگزیکٹوز کوسرکلرکے ذریعے بتایاگیا ہے کہ اسٹیٹ بینک اس سلسلے میں حکومت سے متعلقہ مدتوں کیلیے ضروری رقوم کی وصولی کے بعد ہی ششماہی بنیاد پر بینکوں ومالیاتی اداروں کو سپورٹ فراہم کریگا۔
Load Next Story