ڈنگی وائرس سے اموات وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کی کارکردگی رپورٹ طلب کر لی
ڈنگی سرویلنس سیل کی کارکردگی صفر ہے۔
1700سے زائد افراد ڈنگی بخار میں مبتلااور12افرادجاں بحق ہوچکے ۔فوٹو: ایکسپریس / فائل
وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے کراچی سمیت صوبے میں ڈنگی وائرس سے ہونے والی اموات اور اس کی روک تھام کے حوالے سے محکمہ صحت سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
جس پر ڈنگی سرویلنس سیل اور محکمہ صحت نے تفصیلی رپورٹ مرتب کی جس میں ڈنگی سرویلنس سیل نے کراچی میں مختلف اداروں کے تحت کیے جانے والے آگاہی سیمینار بھی اپنے کھاتے میں ڈال دیے، سول اسپتال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنگی سرویلنس سیل کا سربراہ ماہروبائی امراض کومقرر کیا جائے کیونکہ موجودہ سربراہ صرف ایم بی بی ایس ہے اور وبائی امراض پھیلنے پر صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی سرویلنس سیل میں ماہرین امراض خون اورانفیکشن کنٹرول کرنے والے ماہرین کو شامل کیاجائے اوراس سیل کا سربراہ کسی ماہر وبائی امراض کو مقررکیاجائے تاکہ کراچی سمیت سندھ میں ہر سال رپورٹ ہونے والے متاثرہ مریضوں کو علاج ومعالجے کی بہتر سہولتیں مہیا کی جاسکیں،ماہرین نے کہاکہ ڈنگی سرویلنس سیل عوام کی آگاہی اورعلاج کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائن جاری نہیں ہر سال صرف چنداخبارات کومریضوں کے اعدادوشمار جاری کرکے حکومت سے امداد وصول کررہا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ڈنگی سرویلنس سیل کا دائرہ کراچی سمیت صوبے میں پھیلاجا ئے تاکہ اندرون سندھ میں متاثر ہونے والے مریضوں کو بھی علاج ومعالجے کی سہولتیں مہیا کی جا سکیں،امسال کراچی سمیت صوبے میں 1700 سے زائد افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور12افراد وائرس کا شکار ہوکرجاں بحق ہوچکے ہیں لیکن ڈنگی سرویلنس سیل کے سربراہ کی جانب سے علاج کیلیے گائیڈلائن فراہم کی گئی اور نہ ہی آگاہی کیلیے کوئی مہم شروع کی جا سکی۔
جس پر ڈنگی سرویلنس سیل اور محکمہ صحت نے تفصیلی رپورٹ مرتب کی جس میں ڈنگی سرویلنس سیل نے کراچی میں مختلف اداروں کے تحت کیے جانے والے آگاہی سیمینار بھی اپنے کھاتے میں ڈال دیے، سول اسپتال کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈنگی سرویلنس سیل کا سربراہ ماہروبائی امراض کومقرر کیا جائے کیونکہ موجودہ سربراہ صرف ایم بی بی ایس ہے اور وبائی امراض پھیلنے پر صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ۔
طبی ماہرین نے بتایا کہ ڈنگی سرویلنس سیل میں ماہرین امراض خون اورانفیکشن کنٹرول کرنے والے ماہرین کو شامل کیاجائے اوراس سیل کا سربراہ کسی ماہر وبائی امراض کو مقررکیاجائے تاکہ کراچی سمیت سندھ میں ہر سال رپورٹ ہونے والے متاثرہ مریضوں کو علاج ومعالجے کی بہتر سہولتیں مہیا کی جاسکیں،ماہرین نے کہاکہ ڈنگی سرویلنس سیل عوام کی آگاہی اورعلاج کے حوالے سے کوئی گائیڈ لائن جاری نہیں ہر سال صرف چنداخبارات کومریضوں کے اعدادوشمار جاری کرکے حکومت سے امداد وصول کررہا ہے۔
ماہرین نے کہا کہ ڈنگی سرویلنس سیل کا دائرہ کراچی سمیت صوبے میں پھیلاجا ئے تاکہ اندرون سندھ میں متاثر ہونے والے مریضوں کو بھی علاج ومعالجے کی سہولتیں مہیا کی جا سکیں،امسال کراچی سمیت صوبے میں 1700 سے زائد افراد ڈنگی وائرس کا شکار ہوچکے ہیں اور12افراد وائرس کا شکار ہوکرجاں بحق ہوچکے ہیں لیکن ڈنگی سرویلنس سیل کے سربراہ کی جانب سے علاج کیلیے گائیڈلائن فراہم کی گئی اور نہ ہی آگاہی کیلیے کوئی مہم شروع کی جا سکی۔