2022 فٹبال ورلڈ کپ تعمیراتی کام میں قطر لندن کی پیروی کرے
مدد کیلیے تیار ہیں، اولمپکس کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا، ڈیوڈ کیمرون
2012 اولمپک وینیوز کیلیے سائٹس کی تعمیر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ فوٹو: فائل
برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ 2022 فٹبال ورلڈ کپ کا میزبان قطر تعمیراتی کام میں لندن کی پیروی کرے، 2012 اولمپک وینیوز کیلیے سائٹس کی تعمیر میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
فٹبال ٹورنامنٹ کیلیے تعمیر ہونے والی سائٹس پر تارکین وطن ورکرز کی اموات کی رپورٹس پر کیمرون نے کہاکہ میرا پیغام ہے کہ وہ بہتری پر زور دیں، جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہم اولمپکس میں پورا اولمپک پارک ریکارڈ مدت اور محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے، زخمیوں کی کم سے کم تعداد کے ساتھ کوئی شخص بھی ہلاک نہیں ہوا تھا۔ کیمرون نے کہاکہ برطانوی تعمیراتی صنعت پوری دنیا کیلیے ایک مثال ہے ، اگر کسی ملک کو اس سلسلے میں مدد کی ضرورت ہے تو ہم حاضر ہیں، ماضی میں ہم اس شعبے میں بہتر نہیں تھے، میں سمجھتا ہوں ہر کسی پر لازم ہے کہ وہ بہترین حفاظتی معیارات پر زور دے ۔
دوسری جانب قطر کی نیشنل ہیومین رائٹس کمیٹی نے برطانوی اخبار گارڈین کے ان دعووں کی تردید کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ 2022 ورلڈ کپ آرگنائزرز نیپالی تعمیراتی ورکرز کے ساتھ 'غلاموں' جیسا برتاؤ کررہے ہیں، علی ال ماری کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے لگائے گئے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ قطر میں کسی قسم کی غلامی یا جبری مشقت نہیں ہے، گارڈین کی رپورٹ جھوٹی اور مرنے والوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے۔
ماری نے مشکلات کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حل کیلیے پوری طرح کوشاں ہے۔ قطر کی وزارت محنت کے بین الاقوامی تعلقات کے مشیر علی احمد ال خلیفی نے بتایا کہ گارڈین کی رپورٹس کے نتیجے میں ہم انسپکٹرز کی تعداد 150 تک کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں ورکرز کے ساتھ مسائل نہ ہوں۔ اسی سلسلے میں قطر میں تارکین وطن ورکرز کی ورکنگ کنڈیشنز کا جائزہ لینے کیلیے انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف ٹریڈ یونین 7 اکتوبر کو ایک وفد بھیج رہی ہے۔
فٹبال ٹورنامنٹ کیلیے تعمیر ہونے والی سائٹس پر تارکین وطن ورکرز کی اموات کی رپورٹس پر کیمرون نے کہاکہ میرا پیغام ہے کہ وہ بہتری پر زور دیں، جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہم اولمپکس میں پورا اولمپک پارک ریکارڈ مدت اور محفوظ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے، زخمیوں کی کم سے کم تعداد کے ساتھ کوئی شخص بھی ہلاک نہیں ہوا تھا۔ کیمرون نے کہاکہ برطانوی تعمیراتی صنعت پوری دنیا کیلیے ایک مثال ہے ، اگر کسی ملک کو اس سلسلے میں مدد کی ضرورت ہے تو ہم حاضر ہیں، ماضی میں ہم اس شعبے میں بہتر نہیں تھے، میں سمجھتا ہوں ہر کسی پر لازم ہے کہ وہ بہترین حفاظتی معیارات پر زور دے ۔
دوسری جانب قطر کی نیشنل ہیومین رائٹس کمیٹی نے برطانوی اخبار گارڈین کے ان دعووں کی تردید کر دی جس میں کہا گیا تھا کہ 2022 ورلڈ کپ آرگنائزرز نیپالی تعمیراتی ورکرز کے ساتھ 'غلاموں' جیسا برتاؤ کررہے ہیں، علی ال ماری کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے لگائے گئے الزامات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ پریس کانفرنس میں انھوں نے بتایا کہ قطر میں کسی قسم کی غلامی یا جبری مشقت نہیں ہے، گارڈین کی رپورٹ جھوٹی اور مرنے والوں کی تعداد مبالغہ آمیز ہے۔
ماری نے مشکلات کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت حل کیلیے پوری طرح کوشاں ہے۔ قطر کی وزارت محنت کے بین الاقوامی تعلقات کے مشیر علی احمد ال خلیفی نے بتایا کہ گارڈین کی رپورٹس کے نتیجے میں ہم انسپکٹرز کی تعداد 150 تک کررہے ہیں تاکہ مستقبل میں ورکرز کے ساتھ مسائل نہ ہوں۔ اسی سلسلے میں قطر میں تارکین وطن ورکرز کی ورکنگ کنڈیشنز کا جائزہ لینے کیلیے انٹرنیشنل کنفیڈریشن آف ٹریڈ یونین 7 اکتوبر کو ایک وفد بھیج رہی ہے۔