سینٹرل جیل میں قیدیوں پر تشدد کرکے رقم کی وصولی جاری
کرپٹ افسران کو منصوبے کے تحت جیل کے اہم مقامات پر تعینات کردیا جاتا ہے، ذرائع
جیل میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو غیر اہم تعیناتیاں دے دی گئیں ۔فوٹو : فائل
CHICAGO:
سینٹرل جیل میں آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن کے منظور نظر اہلکار قیدیوں پر تشدد کرکے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کرنے میں مصروف ہیں، جیل میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو غیر اہم تعیناتیاں دے دی گئیں جبکہ کرپٹ افسران کو اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا ۔
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ سینٹرل جیل کراچی میں آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن کے منظور نظر اہلکار قیدیوں پر تشدد کرکے ان سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کرنے میں مصروف ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں نئے آنے والے قیدیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ اگر انھوں نے مطلوبہ رقم نہ دی تو ان پر تشدد کیا جائے گا ، مالی طور پر مستحکم قیدی تو رقم دے کر اپنی جان چھڑانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن کمزور مالی حیثیت رکھنے والے افراد ظلم کی چکی میں پس جاتے ہیں ، متعدد قیدیوں کے اہل خانہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ جیل حکام کے اس طرز عمل کے باعث قرضوں میں جکڑ گئے ہیں ، اگر ان کے رویے پر احتجاج کریں تو جیل میں قید ان کے قیدی پر مزید تشدد کیا جاتا ہے ،
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ جیل ملیر کا بدنام اہلکار عباس ابڑو پیش پیش ہے جوکہ سینٹرل جیل میں تعینات نذیر شاہ کا منظور نظر ہے ، نذیر شاہ اور عباس ابڑو کے خلاف ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں تعیناتی کے دوران بھی متعدد مرتبہ کرپشن کے الزامات لگے اور کئی مرتبہ انکوائری کی گئی لیکن ہر مرتبہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے اور کارروائی سے بچ جاتے ، نذیر شاہ نے مبینہ طور پر آئی جی جیل نصرت منگن کے ساتھ ساز باز کرکے سینٹرل جیل میں پوسٹنگ لے لی اور اپنے منظور نظر اہلکار عباس ابڑو کے ذریعے لاکھوں روپے قیدیوں سے حاصل کرتے ہیں اور مبینہ طور پر نصرت منگن کو بھی ان کا حصہ پہنچایا جاتا ہے ، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیل کے دیگر سینئر افسران نے بتایا کہ کرپٹ افسران کو اہم مقامات پر تعینات کردیا جاتا ہے جبکہ اچھی شہرت کے حامل افسران کو غیر اہم پوسٹنگ دیدی جاتی ہے ، محکمہ جیل خانہ جات ان کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کررہا ہے ، غیر اہم پوسٹنگ کے باعث ان کی صلاحیتوں کو بھی زنگ لگتا جارہا ہے۔
سینٹرل جیل میں آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن کے منظور نظر اہلکار قیدیوں پر تشدد کرکے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کرنے میں مصروف ہیں، جیل میں اچھی شہرت کے حامل افسران کو غیر اہم تعیناتیاں دے دی گئیں جبکہ کرپٹ افسران کو اہم مقامات پر تعینات کردیا گیا ۔
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا ہے کہ سینٹرل جیل کراچی میں آئی جی جیل خانہ جات نصرت منگن کے منظور نظر اہلکار قیدیوں پر تشدد کرکے ان سے مبینہ طور پر لاکھوں روپے وصول کرنے میں مصروف ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل میں نئے آنے والے قیدیوں کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے کہ اگر انھوں نے مطلوبہ رقم نہ دی تو ان پر تشدد کیا جائے گا ، مالی طور پر مستحکم قیدی تو رقم دے کر اپنی جان چھڑانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں لیکن کمزور مالی حیثیت رکھنے والے افراد ظلم کی چکی میں پس جاتے ہیں ، متعدد قیدیوں کے اہل خانہ نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ جیل حکام کے اس طرز عمل کے باعث قرضوں میں جکڑ گئے ہیں ، اگر ان کے رویے پر احتجاج کریں تو جیل میں قید ان کے قیدی پر مزید تشدد کیا جاتا ہے ،
ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ جیل ملیر کا بدنام اہلکار عباس ابڑو پیش پیش ہے جوکہ سینٹرل جیل میں تعینات نذیر شاہ کا منظور نظر ہے ، نذیر شاہ اور عباس ابڑو کے خلاف ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں تعیناتی کے دوران بھی متعدد مرتبہ کرپشن کے الزامات لگے اور کئی مرتبہ انکوائری کی گئی لیکن ہر مرتبہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے اور کارروائی سے بچ جاتے ، نذیر شاہ نے مبینہ طور پر آئی جی جیل نصرت منگن کے ساتھ ساز باز کرکے سینٹرل جیل میں پوسٹنگ لے لی اور اپنے منظور نظر اہلکار عباس ابڑو کے ذریعے لاکھوں روپے قیدیوں سے حاصل کرتے ہیں اور مبینہ طور پر نصرت منگن کو بھی ان کا حصہ پہنچایا جاتا ہے ، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جیل کے دیگر سینئر افسران نے بتایا کہ کرپٹ افسران کو اہم مقامات پر تعینات کردیا جاتا ہے جبکہ اچھی شہرت کے حامل افسران کو غیر اہم پوسٹنگ دیدی جاتی ہے ، محکمہ جیل خانہ جات ان کی صلاحیتوں سے استفادہ نہیں کررہا ہے ، غیر اہم پوسٹنگ کے باعث ان کی صلاحیتوں کو بھی زنگ لگتا جارہا ہے۔