ڈیزل کی قیمت تجویز کردہ اضافے سے زیادہ بڑھائے جانے کا انکشاف
سمری میں2.63روپے بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی لیکن اضافہ4.69روپے ہوا، اوگرااوروزارت پٹرولیم کا موقف
صرف مٹی کے تیل کی قیمتوں کانوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں، دیگرمصنوعات کے نرخوں کا تعین آئل کمپنیزایڈوائزری کمیٹی کا کام ہے، اوگرا حکام فوٹو: فائل
وفاقی حکومت کی طرف سے یکم اکتوبر سے اعلان کردہ پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں تجویزکردہ اضافے سے بھی2.06 روپے فی لیٹرزیادہ اضافے کاانکشاف ہوا ہے۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.63 روپے فی لیٹر اضافہ تجویز کیا گیا تھامگر 4.69 روپے فی لیٹر اضافہ کیاگیا۔اوگرااوروزارت پٹرولیم نے وزارت خزانہ کواس کاذمے دار قراردیاہے ۔اس ضمن میں اوگرا حکام سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اوگرا صرف مٹی کے تیل کی قیمتوں کانوٹیفکیشن جاری کرتی ہے جبکہ دیگر تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آئل کمپنیزایڈوائزری کمیٹی کرتی ہے۔
اوگرا صرف اوسی اے سی کے اعدادوشمارکے درست ہونے کے حوالے سے کائونٹرچیک کرتااورمانیٹرنگ کاکام کرتاہے،اوگرانے اپنی مانیٹرنگ سمری میں ہائی ساپیڈڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کی سفارش کی تھی جس پرعمل نہیں ہوا۔ وزارت پٹرولیم کے حکام نے بھی رابطہ کرنے پروزارت خزانہ کوذمے دارقراردیا۔وزارت پٹرولیم حکام کاکہنا ہے کہ وزارت پٹرولیم نے سارا اضافہ صارفین کو منتقل نہ کرنیکی سفارش کی تھی مگر وزارت خزانہ نے اسے تسلیم نہیں کیا۔اس بارے میں وزارت خزانہ کا موقف جاننے کیلیے وزارت خزانہ کے ترجمان رانااسد امین سے ان کے موبائل پر رابطہ کیا گیا مگر فون اٹینڈ نہیں کیا گیا۔
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.63 روپے فی لیٹر اضافہ تجویز کیا گیا تھامگر 4.69 روپے فی لیٹر اضافہ کیاگیا۔اوگرااوروزارت پٹرولیم نے وزارت خزانہ کواس کاذمے دار قراردیاہے ۔اس ضمن میں اوگرا حکام سے جب رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اوگرا صرف مٹی کے تیل کی قیمتوں کانوٹیفکیشن جاری کرتی ہے جبکہ دیگر تمام پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین آئل کمپنیزایڈوائزری کمیٹی کرتی ہے۔
اوگرا صرف اوسی اے سی کے اعدادوشمارکے درست ہونے کے حوالے سے کائونٹرچیک کرتااورمانیٹرنگ کاکام کرتاہے،اوگرانے اپنی مانیٹرنگ سمری میں ہائی ساپیڈڈیزل کی قیمت میں اضافہ نہ کرنے کی سفارش کی تھی جس پرعمل نہیں ہوا۔ وزارت پٹرولیم کے حکام نے بھی رابطہ کرنے پروزارت خزانہ کوذمے دارقراردیا۔وزارت پٹرولیم حکام کاکہنا ہے کہ وزارت پٹرولیم نے سارا اضافہ صارفین کو منتقل نہ کرنیکی سفارش کی تھی مگر وزارت خزانہ نے اسے تسلیم نہیں کیا۔اس بارے میں وزارت خزانہ کا موقف جاننے کیلیے وزارت خزانہ کے ترجمان رانااسد امین سے ان کے موبائل پر رابطہ کیا گیا مگر فون اٹینڈ نہیں کیا گیا۔