گیس سیس سےاستثنیٰ دیاجائےویلیوایڈڈٹیکسٹائل سیکٹر

حکومت10فیصداسٹیک ہولڈرزسے مذاکرات،90فیصد کونظرانداز کر رہی ہے۔

حکومت10فیصداسٹیک ہولڈرزسے مذاکرات،90فیصد کونظرانداز کر رہی ہے. فوٹو فائل

ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے گیس انفرااسٹرکچر سیس سے مکمل استثنیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے90 فیصد اسٹیک ہولڈرزکو یکسرنظراندازکررہی ہے۔ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل فورم کے چیئرمین رانامحمد مشتاق نے سیس میں کمی کے حوالے سے صرف10 فیصد ٹیکسٹائل اسٹیک ہولڈرپر مشتمل ایک ٹیکسٹائل انجمن سے مذاکرات کرنے پر حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کو90 فیصد اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ انڈسٹری کو بھی اعتماد میں لینا چاہیے جو نٹ ویئر، اپیرل، کلاتھنگ، ٹاول، بیڈویئر ، ڈینم اور ٹیکسٹائل پرو سسنگ وغیرہ پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش میں گیس ٹیرف کا موازنہ کیا جائے تو بنگلہ دیش میں گیس ٹیرف فی مکعب فٹ 5.25 ٹاکا جبکہ پاکستان میں 17.28 روپے فی مکعب فٹ ہے، پاکستان میں ڈالر کی شرح مبادلہ 94.78 روپے اور بنگلہ دیش میں 81.38 روپے ہے، اگر اضافی لاگت کو مینوفیکچرنگ لاگت میں شامل کیا جائے تو گارمنٹس کی لاگت بڑھ جائے گی کیونکہ پاکستان میں گیس ٹیرف بنگلہ دیش کی نسبت 182 فیصد اورافرادی قوت کی کم از کم اجرت 127 فیصد زیادہ ہے جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کی ٹیکسٹائل مصنوعات سستی ہو جائیں گی جوعالمی سطح پر پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کیلیے تباہ کن ثابت ہوگا۔


انہوں نے کہا کہ امریکا نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران انڈسٹریل گیس ٹیرف 52.04 فیصد کم کیے ہیں جبکہ پاکستان میں گیس ٹیرف بلند ترین سطح تک پہنچ گیا ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری کیلیے ایک اور بڑا جھٹکا یہ ہے کہ حکومت ڈی ایل ٹی ایل اسکیم سے انحراف کررہی ہے اورسابقہ آر اینڈ ڈی اسکیم کے تحت داخل کردہ کلیمز کی خطیر رقوم بھی روک رکھی ہیں جس سے برآمدکنندگان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل پالیسی 2009-14 پراس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جا رہا، اگر اس طرزکے جارحانہ اقدامات برقرار رکھے گئے تو پاکستان میںکاروبار کرنے کی لاگت غیر معمولی طور پر بڑھ جائے گی، یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو خطیرمالیت کازرمبادلہ کما کردینے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جارہی ہے حالانکہ اس شعبے کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد حصہ اور مجموعی ملکی روزگار میں 42 فیصد حصہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ 5 زیروریٹڈ ایکسپورٹ سیکٹرز کو گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس سے مکمل طور پر مستثنیٰ قراردیا جائے۔
Load Next Story