پاک بھارت تعلقات میں خوشنما موڑ
پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور امن کی امید پر ہونے والی من موہن نواز ملاقات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی ...
جن صائب خیالات کا اظہار بھارتی وزیر اعظم نے کیا، یہ اس امر کا غماز ہے کہ بھارت بھی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے. فوٹو: اے ایف پی
پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور امن کی امید پر ہونے والی من موہن نواز ملاقات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے حل کے لیے مثبت بات چیت کے آثار واضح نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ یہ صرف دو ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان ایک رسمی ملاقات نہیں تھی بلکہ اس ملاقات سے ڈیڑھ ارب انسانوں کا مستقبل وابستہ ہے، امریکا سے واپسی پر نئی دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی پہلی ترجیح کنٹرول لائن پر امن کا قیام ہے، دونوں طرف کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کی ملاقاتوں میں جو فیصلے ہوں گے، ان پر عمل درآمد میں وقت لگے گا، نواز شریف سے ملاقات خوشگوار اور کارآمد رہی، مجھے نواز شریف کے کامیاب ہونے کی امید ہے، میری دعا ہے کہ نواز شریف اپنے ارادوں میں کامیاب ہوں۔
جن صائب خیالات کا اظہار بھارتی وزیر اعظم نے کیا، یہ اس امر کا غماز ہے کہ بھارت بھی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا اصل سبب انتہا پسندانہ سوچ کے حامل افراد اور تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر ہیں۔ حد تو یہ ہوئی اس ملاقات سے پہلے پے در پے واقعات کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا اور ایک ایسا وقت بھی آیا جس میں یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ شاید یہ ملاقات نہ ہو سکے کیونکہ منموہن سنگھ پر شدت پسندوں کا بہت زیادہ دبائو تھا لیکن انھوں نے اس دبائو کو رد کرتے ہوئے ملاقات کو ترجیح دی۔ ہمسائے سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کی خواہش ہر ایک کی ہوتی ہے، تقسیم کے وقت جو حل طلب مسائل برطانیہ جاتے جاتے چھوڑ گیا تھا ان میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ بھی تھا، ہم تین جنگیں تو لڑ چکے مگر سوائے تباہی و بربادی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔
میاں نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اس بات کا مینڈیٹ عوام نے دیا ہے وہ تو اپنی تقریب حلف برداری میں منموہن سنگھ کی شرکت کی خواہش بھی رکھتے تھے جو بوجوہ پوری نہ ہو سکی۔ بدلتی دنیا اور وقت کے بدلتے تقاضوں کے عین مطابق پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ قیادت کو اس بات کا یقیناً ادراک ہو گیا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، جنگ سے نفرت اور امن سے محبت خطے کے عوام کی بھرپور خواہش ہے۔ عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کے مطابق فیصلے کرنا دونوں ممالک کی قیادت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ دونوں طرف کے انتہا پسند نہیں چاہتے کہ امن کا عمل آگے بڑھے، وہاں انتہا پسند مہابھارت کا اور ادھر لال قلعے پر اسلامی پرچم لہرانے کا خواب دیکھنے والے دراصل امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
خطے میں جب تک اچھے ہمسائے کی طرح رہنے کا ڈھنگ اور انداز نہیں اپنایا جائے گا اس وقت تک نفرت کا الائو جلتا رہے گا، الائو پر خلوص، محبت اور چاہت کے جذبات کا پانی ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایٹم بم بنانا، اس پر فخر کرنا اور استعمال کی خواہش کرنا تو ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سوچ کا عکاس ہے۔ خطے کی اولین ضرورت امن ہے کیونکہ امن کا روڈ میپ ہی ڈیڑھ ارب انسانوں کی غربت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی حوالے سے امریکا نے پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ اس آگے بڑھنے کے لیے ایک مثبت قدم بھی قرار دیتے ہوئے اپنے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت، خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے یہی عوام کی دیرینہ خواہش ہے۔
جن صائب خیالات کا اظہار بھارتی وزیر اعظم نے کیا، یہ اس امر کا غماز ہے کہ بھارت بھی بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کا اصل سبب انتہا پسندانہ سوچ کے حامل افراد اور تنظیمیں اور غیر ریاستی عناصر ہیں۔ حد تو یہ ہوئی اس ملاقات سے پہلے پے در پے واقعات کے بعد سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا اور ایک ایسا وقت بھی آیا جس میں یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ شاید یہ ملاقات نہ ہو سکے کیونکہ منموہن سنگھ پر شدت پسندوں کا بہت زیادہ دبائو تھا لیکن انھوں نے اس دبائو کو رد کرتے ہوئے ملاقات کو ترجیح دی۔ ہمسائے سے اچھے اور خوشگوار تعلقات کی خواہش ہر ایک کی ہوتی ہے، تقسیم کے وقت جو حل طلب مسائل برطانیہ جاتے جاتے چھوڑ گیا تھا ان میں سرفہرست کشمیر کا مسئلہ بھی تھا، ہم تین جنگیں تو لڑ چکے مگر سوائے تباہی و بربادی کے کچھ ہاتھ نہیں آیا۔
میاں نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی بھارت سے بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا تھا انھوں نے کہا تھا کہ انھیں اس بات کا مینڈیٹ عوام نے دیا ہے وہ تو اپنی تقریب حلف برداری میں منموہن سنگھ کی شرکت کی خواہش بھی رکھتے تھے جو بوجوہ پوری نہ ہو سکی۔ بدلتی دنیا اور وقت کے بدلتے تقاضوں کے عین مطابق پاکستان اور بھارت کی اعلیٰ قیادت کو اس بات کا یقیناً ادراک ہو گیا ہے کہ جنگ مسائل کا حل نہیں، جنگ سے نفرت اور امن سے محبت خطے کے عوام کی بھرپور خواہش ہے۔ عوام کی امنگوں اور آرزوئوں کے مطابق فیصلے کرنا دونوں ممالک کی قیادت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ دونوں طرف کے انتہا پسند نہیں چاہتے کہ امن کا عمل آگے بڑھے، وہاں انتہا پسند مہابھارت کا اور ادھر لال قلعے پر اسلامی پرچم لہرانے کا خواب دیکھنے والے دراصل امن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
خطے میں جب تک اچھے ہمسائے کی طرح رہنے کا ڈھنگ اور انداز نہیں اپنایا جائے گا اس وقت تک نفرت کا الائو جلتا رہے گا، الائو پر خلوص، محبت اور چاہت کے جذبات کا پانی ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایٹم بم بنانا، اس پر فخر کرنا اور استعمال کی خواہش کرنا تو ایک دوسرے کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی سوچ کا عکاس ہے۔ خطے کی اولین ضرورت امن ہے کیونکہ امن کا روڈ میپ ہی ڈیڑھ ارب انسانوں کی غربت کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی حوالے سے امریکا نے پاک بھارت وزرائے اعظم ملاقات کو نہ صرف سراہا ہے بلکہ اس آگے بڑھنے کے لیے ایک مثبت قدم بھی قرار دیتے ہوئے اپنے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت، خطے میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہو جائے یہی عوام کی دیرینہ خواہش ہے۔