پولیس افسر کیخلاف مدعی تاجر وکیل سے جھگڑے کے الزام میں گرفتار
مدعی مقدمہ نے اسلحہ دکھایا،وکیل، ملزم سے اسلحہ برآمدہوا،پولیس،سخت سیکیورٹی میںاسلحہ لیکرکیسے آسکتا ہوں،معظم حامد
مدعی مقدمہ نے اسلحہ دکھایا،وکیل، ملزم سے اسلحہ برآمدہوا،پولیس،سخت سیکیورٹی میںاسلحہ لیکرکیسے آسکتا ہوں،معظم حامد۔ فوٹو: فائل
ایس ایچ او شفیق تنولی کے خلاف درج ڈکیتی کے مقدمے میں مدعی مقامی تاجرمعظم حامد کو سٹی کورٹ کے وکلا پر مبینہ قاتلانہ حملے کے الزام میں تھانہ سٹی کورٹ نے گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
استغاثہ کے مطابق تھانہ سٹی کورٹ میں وکیل ملک عظمت جبار نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ وہ ڈکیتی کے الزام میں ملوث ملزم انسپکٹر شفیق تنولی کی عبوری ضمانت کی توثیق کیلیے سیشن جج جنوبی کے روبرو پیش ہوئے تھے تاہم وکلا کے عدالتی بائیکاٹ کے باعث سماعت 4ستمبر تک ملتوی ہوگئی تھی ، سماعت کے بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں موجود مدعی مقدمہ نے اس سے تلخ کلامی کی ،ہاتھا پائی کی اورخاتون وکیل مسماۃ شازیہ خان کے کپڑے پھاڑ دیے تھے اور اسلحے کے زور پر انھیں قتل کی دھمکی دی، بعدازاں چند وکلا نے اسے قابو کیا اور پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے پستول برآمد ہوا ہے اور اس کے خلاف دو مقدمات درج کرلیے ہیں جبکہ ملزم کے مطابق معاملہ استغاثہ کے برعکس ہے، ملزم نے بتایا کہ 16جون کو کینیڈا سے آنے کی خوشی میں ایک محفل غزل اس کے گھر میں منعقد ہوئی تھی جس کا بندوبست ملازم حسین ، اس کی اہلیہ نایاب اور اکمل نے کیا تھا ،تقریب کے اختتام کے بعد ا سکے دوست و احباب واپس چلے گئے تھے ،ایک گھنٹے بعد انسپکٹر شفیق تنولی اپنے دیگر پولیس اہلکاروں اور مذکورہ ملزمان کے ہمراہ زبردستی اس کے بنگلے میں داخل ہوا اور تمام ملازمین کو یرغمال بناکر لاکھوں روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی کے علاوہ کروڑوں مالیت کے طلائی زیورات و دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔
اس کے خلاف تھانہ درخشاں میں مقدمہ درج کرایا تھا تاہم پولیس افسر نے اپنی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرالی تھی جمعرات کو وہ ملزم کی عبوری ضمانت کی منسوخی کیلیے سٹی کورٹ آیا تھا لیکن ملزم انسپکٹر شفیق تنولی نے مارپیٹ کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور اسی منصوبہ بندی کے تحت اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا ہے سٹی کورٹ میں سخت سیکیورٹی ہے کوئی بھی شخص بغیر تلاشی کے کورٹ میں داخل نہیں ہوسکتا کیسے ممکن ہے کہ وہ اسلحے کے ساتھ کورٹ میں داخل ہوسکے اگر پولیس کا دعویٰ سچا ہے تو سٹی کورٹ کی سیکیورٹی ناقص ہے کوئی بھی دہشت گردی یا خود کش حملہ آور آسکتا ہے ۔
استغاثہ کے مطابق تھانہ سٹی کورٹ میں وکیل ملک عظمت جبار نے رپورٹ درج کرائی ہے کہ وہ ڈکیتی کے الزام میں ملوث ملزم انسپکٹر شفیق تنولی کی عبوری ضمانت کی توثیق کیلیے سیشن جج جنوبی کے روبرو پیش ہوئے تھے تاہم وکلا کے عدالتی بائیکاٹ کے باعث سماعت 4ستمبر تک ملتوی ہوگئی تھی ، سماعت کے بعد سٹی کورٹ کے احاطے میں موجود مدعی مقدمہ نے اس سے تلخ کلامی کی ،ہاتھا پائی کی اورخاتون وکیل مسماۃ شازیہ خان کے کپڑے پھاڑ دیے تھے اور اسلحے کے زور پر انھیں قتل کی دھمکی دی، بعدازاں چند وکلا نے اسے قابو کیا اور پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزم کے قبضے سے پستول برآمد ہوا ہے اور اس کے خلاف دو مقدمات درج کرلیے ہیں جبکہ ملزم کے مطابق معاملہ استغاثہ کے برعکس ہے، ملزم نے بتایا کہ 16جون کو کینیڈا سے آنے کی خوشی میں ایک محفل غزل اس کے گھر میں منعقد ہوئی تھی جس کا بندوبست ملازم حسین ، اس کی اہلیہ نایاب اور اکمل نے کیا تھا ،تقریب کے اختتام کے بعد ا سکے دوست و احباب واپس چلے گئے تھے ،ایک گھنٹے بعد انسپکٹر شفیق تنولی اپنے دیگر پولیس اہلکاروں اور مذکورہ ملزمان کے ہمراہ زبردستی اس کے بنگلے میں داخل ہوا اور تمام ملازمین کو یرغمال بناکر لاکھوں روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی کے علاوہ کروڑوں مالیت کے طلائی زیورات و دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔
اس کے خلاف تھانہ درخشاں میں مقدمہ درج کرایا تھا تاہم پولیس افسر نے اپنی ضمانت قبل ازگرفتاری منظور کرالی تھی جمعرات کو وہ ملزم کی عبوری ضمانت کی منسوخی کیلیے سٹی کورٹ آیا تھا لیکن ملزم انسپکٹر شفیق تنولی نے مارپیٹ کی منصوبہ بندی کی ہوئی تھی اور اسی منصوبہ بندی کے تحت اسے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا ہے سٹی کورٹ میں سخت سیکیورٹی ہے کوئی بھی شخص بغیر تلاشی کے کورٹ میں داخل نہیں ہوسکتا کیسے ممکن ہے کہ وہ اسلحے کے ساتھ کورٹ میں داخل ہوسکے اگر پولیس کا دعویٰ سچا ہے تو سٹی کورٹ کی سیکیورٹی ناقص ہے کوئی بھی دہشت گردی یا خود کش حملہ آور آسکتا ہے ۔