حکومت نے2 سال کے لیے معاشی ایمرجنسی لگا دی خرم دستگیر
معیشت کی 2 سال مرمت کے بعدریلیف فراہم کرنے کی پوزیشن میں آجائیں گے،وزیرمملکت تجارت
خرم دستگیر نے کہا کہ تسلسل پر مبنی سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر برآمدات کے حجم میں اضافہ ممکن نہیں۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
حکومت نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں بڑا آپریشن کلین اپ کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت تجارتی سبسڈیز کے اسکینڈلز میں ملوث باقی ماندہ نشاندہی شدہ افسران کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
یہ بات وزیر مملکت برائے تجارت خرم دستگیر خان نے منگل کی شب ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین مہتاب چاؤلہ کی جانب سے دیے گئے عشائیہ سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی، اس موقع پر مہتاب الدین چاؤلہ، علی رضا، ایس ایم منیر، میاں زاہد حسین ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو 2 سال بعد ریلیف دینے کی پوزیشن میں آئے گی کیونکہ ان 2 برسوں میں پاکستان کی بگڑی ہوئی معیشت کودرست سمت پر لانے کے لیے حکومت ایمرجنسی عائد کرتے ہوئے معیشت کی مرمت اور بہتری کے لیے سرگرم عمل ہے، معیشت کو بچانے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر تھا اور عوام کو بھاری بوجھ سے بچانے کے لیے حکومت نے پہلے بجلی چوری روکنے کے لیے بڑا آپریشن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تسلسل پر مبنی سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر برآمدات کے حجم میں اضافہ ممکن نہیں، گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری برآئے جی ڈی پی تناسب12.5 فیصد تھی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس عرصے میں سرمایہ کاری وصنعت کاری تقریبا رک گئی تھی جس کی مرمت موجودہ حکومت کو کرنی پڑرہی ہے لہٰذا تاجر و صنعتکار اور پوری قوم کو حکومت کے ساتھ مل کرمستقل مزاجی کے ساتھ معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، وزارت تجارت مڈٹرم فریم ورک کی حامل تجارتی پالیسی کے ساتھ ایکسپورٹ میں بڑا جمپ لینے کی حکمت عملی پر گامزن ہے جس کے تحت ملکی برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل قوانین، ٹیرف اور سرخ فیتوں کو ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے کیونکہ حکومت ان 2 برسوں میں ملکی برآمدات کو دگنا کرنے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاشی معاملات کو شفاف انداز میں چلانے کی غرض سے تمام قومی اداروں میں تجربہ کار، کہنہ مشق، قابل اچھی شہرت رکھنے والے ایماندارافراد کی تقرریاں کی جائیں گی جبکہ ٹی ڈی اے پی میں ایڈہاک ازم کو ختم کرنے کیلیے رواں ماہ کے اختتام تک نیا بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں نجی شعبے کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ایک سوال پر خرم دستگیر نے بتایا کہ وزارت تجارت اکتوبر میں معاشی ڈپلومیسی میں سرگرم عمل رہے گی تاکہ دسمبر2013 میں یورپین یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ مل جائے۔
مقامی ٹاولز انڈسٹری کی جانب سے 1.4 ارب ڈالر مالیت کی ٹاول ایکسپورٹ کو انہوں نے سنگ میل قراردیتے ہوئے کہا کہ 48 برسوں کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان سے اتنی خطیر مالیت کے ٹاولز ایکسپورٹ کیے گئے جس کیلیے ٹی ایم اے کے اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ اپنی نگاہیں برآمدی اہداف کیلیے اونچی رکھیں جبکہ حکومت کا عزم ہے کہ وہ تجارت وصنعت کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلیے نیک نیتی کے ساتھ سرگرم عمل ہے، ن لیگ کی حکومت عوام تاجروصنعتکاروں کے لیے حاکم نہیں بلکہ ایک دوست اور ساتھی کی حیثیت رکھتی ہے، انہی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی سمت کو تبدیل کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے جس کی مشاورت میں تاجربرادری کا ایک بڑا حصہ ہوگا، پالیسی سازی کے حوالے سے تجارت وصنعتی شعبوں کے ساتھ مذاکرات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔
حکومت نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں بڑا آپریشن کلین اپ کا آغاز کردیا ہے جس کے تحت تجارتی سبسڈیز کے اسکینڈلز میں ملوث باقی ماندہ نشاندہی شدہ افسران کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔
یہ بات وزیر مملکت برائے تجارت خرم دستگیر خان نے منگل کی شب ٹاولز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین مہتاب چاؤلہ کی جانب سے دیے گئے عشائیہ سے خطاب اور صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی، اس موقع پر مہتاب الدین چاؤلہ، علی رضا، ایس ایم منیر، میاں زاہد حسین ودیگر نے بھی خطاب کیا۔ خرم دستگیر نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کو 2 سال بعد ریلیف دینے کی پوزیشن میں آئے گی کیونکہ ان 2 برسوں میں پاکستان کی بگڑی ہوئی معیشت کودرست سمت پر لانے کے لیے حکومت ایمرجنسی عائد کرتے ہوئے معیشت کی مرمت اور بہتری کے لیے سرگرم عمل ہے، معیشت کو بچانے کے لیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ ناگزیر تھا اور عوام کو بھاری بوجھ سے بچانے کے لیے حکومت نے پہلے بجلی چوری روکنے کے لیے بڑا آپریشن کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تسلسل پر مبنی سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے بغیر برآمدات کے حجم میں اضافہ ممکن نہیں، گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان میں سرمایہ کاری برآئے جی ڈی پی تناسب12.5 فیصد تھی جس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس عرصے میں سرمایہ کاری وصنعت کاری تقریبا رک گئی تھی جس کی مرمت موجودہ حکومت کو کرنی پڑرہی ہے لہٰذا تاجر و صنعتکار اور پوری قوم کو حکومت کے ساتھ مل کرمستقل مزاجی کے ساتھ معاشی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا، وزارت تجارت مڈٹرم فریم ورک کی حامل تجارتی پالیسی کے ساتھ ایکسپورٹ میں بڑا جمپ لینے کی حکمت عملی پر گامزن ہے جس کے تحت ملکی برآمدات میں اضافے کی راہ میں حائل قوانین، ٹیرف اور سرخ فیتوں کو ختم کرنے کی پالیسی اختیار کی جارہی ہے کیونکہ حکومت ان 2 برسوں میں ملکی برآمدات کو دگنا کرنے کی خواہاں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاشی معاملات کو شفاف انداز میں چلانے کی غرض سے تمام قومی اداروں میں تجربہ کار، کہنہ مشق، قابل اچھی شہرت رکھنے والے ایماندارافراد کی تقرریاں کی جائیں گی جبکہ ٹی ڈی اے پی میں ایڈہاک ازم کو ختم کرنے کیلیے رواں ماہ کے اختتام تک نیا بورڈ تشکیل دیا جائے گا جس میں نجی شعبے کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ ایک سوال پر خرم دستگیر نے بتایا کہ وزارت تجارت اکتوبر میں معاشی ڈپلومیسی میں سرگرم عمل رہے گی تاکہ دسمبر2013 میں یورپین یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ مل جائے۔
مقامی ٹاولز انڈسٹری کی جانب سے 1.4 ارب ڈالر مالیت کی ٹاول ایکسپورٹ کو انہوں نے سنگ میل قراردیتے ہوئے کہا کہ 48 برسوں کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان سے اتنی خطیر مالیت کے ٹاولز ایکسپورٹ کیے گئے جس کیلیے ٹی ایم اے کے اراکین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ انہوں نے برآمدکنندگان پر زور دیا کہ وہ اپنی نگاہیں برآمدی اہداف کیلیے اونچی رکھیں جبکہ حکومت کا عزم ہے کہ وہ تجارت وصنعت کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلیے نیک نیتی کے ساتھ سرگرم عمل ہے، ن لیگ کی حکومت عوام تاجروصنعتکاروں کے لیے حاکم نہیں بلکہ ایک دوست اور ساتھی کی حیثیت رکھتی ہے، انہی عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی سازی کی سمت کو تبدیل کرنے کا آغاز کردیا گیا ہے جس کی مشاورت میں تاجربرادری کا ایک بڑا حصہ ہوگا، پالیسی سازی کے حوالے سے تجارت وصنعتی شعبوں کے ساتھ مذاکرات کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔