ایف بی آر میں خلاف ضابطہ تعیناتیوں کا انکشاف
افسرشاہی کی ملی بھگت سے گریڈ 18 اور اس سے اوپر کی آسامیوں پر جونیئرز کا بطور قائم مقام تقرر
ایل ڈی سی، یو ڈی سی، اسسٹنٹ ولوئر گریڈ کے دیگر اہلکار عرصہ دراز سے ترقیوں کے منتظر۔ فوٹو: فائل
LONDON:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں افسر شاہی کی ملی بھگت سے گریڈ 18 اور اس سے اوپرکی آسامیوں پر درجن سے زائد کم گریڈ کے افسران کی قائم مقام کے طور پر او پی ایس کی بنیاد پر تقرریاں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اسسٹنٹ، یوڈی سی اور ایل ڈی سی سمیت لوئر گریڈ کی 2 درجن کے قریب آسامیاں خالی پڑی ہیں لیکن ان آسامیوں پر نہ تو او پی ایس کی بنیاد پر قائم مقام تعیناتیاں کی جارہی ہیں اور نہ ہی ان لوئر گریڈ کے اہلکاروں کی ترقیاں کی جارہی ہیں۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ اس وقت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس گریڈ1 تا 22 کی 905 منظور شدہ آسامیاں ہیں جن میں سے 834 آسامیوں پر افسران و اہلکار تعینات ہیں جبکہ 71 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ خالی آسامیوں میں سے جو گریڈ 17 اور اس سے زائد کی ہیں ان پر افسران نے ملی بھت کرکے لوئر گریڈ کے افسران کو اوپی ایس کی بنیاد پر تعینات کررکھا ہے تاکہ یہ آسامیاں ضائع نہ ہوسکیں اور ترقیاں پانے پر یہ افسران اپ گریڈڈ پوسٹ پر بھی مستقل طور پر تعینات ہوسکیں۔
لیکن گریڈ 17 سے کم گریڈ کی 2 درجن سے زائد آسامیاں بھی خالی ہیں مگر ان خالی آسامیوں پر افسران کی طرز پر لوئر گریڈ کے اہلکاروں کو او پی ایس کی بنیاد پر تعینات نہیں کیا جارہا جس سے ایف بی آر کے لوئر گریڈ کے افسران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ ایف بی آر میں ایل ڈی سی، یوڈی سی، اسسٹنٹ، اسٹینو ٹائپسٹ، ڈسپیچ رائیڈر، او ایم او، نائب قاصد، ڈرافٹس مین، ڈی ای او انسپکٹر لیگل، چوکیدار اور ریسیپشنٹ سمیت دیگر اہلکار عرصہ دراز سے ترقیوں کے منتظر ہیں اور کئی اہلکار ترقی کی راہ تکتے تکتے ریٹائر ہو چکے ہیں اور متعدد ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں لیکن ان چھوٹے گریڈ کے اہلکاروں کے حقوق اور انکی ترقیوں کے بارے میں کسی افسر کو بھی کوئی خیال نہیں آرہا البتہ افسر شاہی چھائی ہوئی ہے اور گریڈ 17اور اس سے اوپر والے گریڈ کے افسران کی ترقیوں کی بھرمار ہیں اور جو ترقیوں کے منتظر ہیں انہیں ترقیوں سے پہلے ہی او پی ایس کی بنیاد پر اگلے گریڈوں میں تعینات کرکے آسامیاں قابو کرلی گئی ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں افسر شاہی کی ملی بھگت سے گریڈ 18 اور اس سے اوپرکی آسامیوں پر درجن سے زائد کم گریڈ کے افسران کی قائم مقام کے طور پر او پی ایس کی بنیاد پر تقرریاں کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اسسٹنٹ، یوڈی سی اور ایل ڈی سی سمیت لوئر گریڈ کی 2 درجن کے قریب آسامیاں خالی پڑی ہیں لیکن ان آسامیوں پر نہ تو او پی ایس کی بنیاد پر قائم مقام تعیناتیاں کی جارہی ہیں اور نہ ہی ان لوئر گریڈ کے اہلکاروں کی ترقیاں کی جارہی ہیں۔
ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ اس وقت فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس گریڈ1 تا 22 کی 905 منظور شدہ آسامیاں ہیں جن میں سے 834 آسامیوں پر افسران و اہلکار تعینات ہیں جبکہ 71 آسامیاں خالی پڑی ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ خالی آسامیوں میں سے جو گریڈ 17 اور اس سے زائد کی ہیں ان پر افسران نے ملی بھت کرکے لوئر گریڈ کے افسران کو اوپی ایس کی بنیاد پر تعینات کررکھا ہے تاکہ یہ آسامیاں ضائع نہ ہوسکیں اور ترقیاں پانے پر یہ افسران اپ گریڈڈ پوسٹ پر بھی مستقل طور پر تعینات ہوسکیں۔
لیکن گریڈ 17 سے کم گریڈ کی 2 درجن سے زائد آسامیاں بھی خالی ہیں مگر ان خالی آسامیوں پر افسران کی طرز پر لوئر گریڈ کے اہلکاروں کو او پی ایس کی بنیاد پر تعینات نہیں کیا جارہا جس سے ایف بی آر کے لوئر گریڈ کے افسران میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ ایف بی آر میں ایل ڈی سی، یوڈی سی، اسسٹنٹ، اسٹینو ٹائپسٹ، ڈسپیچ رائیڈر، او ایم او، نائب قاصد، ڈرافٹس مین، ڈی ای او انسپکٹر لیگل، چوکیدار اور ریسیپشنٹ سمیت دیگر اہلکار عرصہ دراز سے ترقیوں کے منتظر ہیں اور کئی اہلکار ترقی کی راہ تکتے تکتے ریٹائر ہو چکے ہیں اور متعدد ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں لیکن ان چھوٹے گریڈ کے اہلکاروں کے حقوق اور انکی ترقیوں کے بارے میں کسی افسر کو بھی کوئی خیال نہیں آرہا البتہ افسر شاہی چھائی ہوئی ہے اور گریڈ 17اور اس سے اوپر والے گریڈ کے افسران کی ترقیوں کی بھرمار ہیں اور جو ترقیوں کے منتظر ہیں انہیں ترقیوں سے پہلے ہی او پی ایس کی بنیاد پر اگلے گریڈوں میں تعینات کرکے آسامیاں قابو کرلی گئی ہیں۔