رانی باغ حیدرآبادکا چڑیا گھر زبوں حالی کا شکار

مختلف حصوں میں گندہ پانی جمع ، دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث قیمتی جانور مر گئے

حيدرآباد: زير نظر تصوير، كسي نئي كنسٹريكشن كي نہيں ، بلكہ حيدرآباد كے تاريخي راني باغ ميں واقع چڑيا گھر ميں لائے جانے والے خوبصورت اور ناياب جانوروں كے ليے بنائے جانے والے پنچروں كي ہے تين كروڑ روپے كي ماليت سے لائے جانے والے جانور تو تيزي سے مر گيے اور خالي پنچرے، جانوروں كے مرنے ميں ہونے والي كوتاہيوں كي داستان سنا رہے ہيں ۔(فوٹو : شاہد علی / ایکسپریس)

اونچی دکان پھیکا پکوان کا محاورہ تو سب نے سن رکھا ہوگا لیکن اس کی عملی تصویر حیدرآباد کا رانی باغ اور اس میں واقع چڑیا گھر ہے، جی ہاں یہ حیدرآباد کا قدیم رانی باغ ہی ہے۔ ستمبر2006ئکی طوفانی بارشوں سے اجڑنے والے رانی باغ کی2008 ء میں اُس وقت کی ضلعی حکومت نے 15کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے از سر نو تزئین و آرائیش کرائی اور گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے افتتاح کیا تھا۔ افتتاح کے وقت یہاں کے چڑیا گھر میں شیر، ہرن، شتر مرغ، لامبا، لنگور، سیاہ ہرن، زبیرا، پونی گھوڑے سمیت دنیا کے دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے مختلف اقسام کے قیمتی اور نایاب جانور و پرندے موجود تھے جنہیں دیکھنے کیلیے سندھ بھر سے لوگ آتے تھے،


اس وقت تعلقہ قاسم آباد کے اصرار پر اس کا نظم و نسق اس کے حوالے کر دیا گیالیکن صرف چند سال میں ہی مال مفت دل بے رحم کے مصداق رانی باغ اور چڑیا گھر کے دو انٹری ٹکٹ رکھ کر مال تو بنانے کی کوشش کی گئی لیکن اس آمدنی سے اس کی دیکھ بھال کیلیے کچھ نہیں کیا گیا اور شاید یہی وجہ ہے کہ صرف چند برسوں میں رانی باغ اور چڑیا گھر کا حال اجڑے دیار جیسا ہو گیا ہے،

اکثر حصوں سے گھاس غائب اور گندہ پانی بھی جمع ہے۔ چڑیا گھر میں شیر، ہرن، بٹیر، فاختہ، لال طوطا، الپاکا جیسے نایاب اور قیمتی جانور تو نہیں رہے لیکن ڈبل ٹکٹ لیکر چڑیا گھر آنیوالوں کی تفریح طبع کیلیے انتظامیہ نے مرنے والے نایاب جانوروں کے پنجروں کو پالتو کبوتروں اور بکروں سے بھر دیا ہے۔ اسی کو کہتے ہیں اونچی دکان پھیکا پکوان۔ شہریوں نے رانی باغ کی زبوں حالی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
Load Next Story