ماضی کے عظیم کرکٹر میانداد بطور منتظم مکمل طور پر ناکام
6 برس میں کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود ڈی جی نے کوئی بڑا کام نہ کیا۔
ہواؤں کا رخ دیکھتے ہوئے خود ہی پی سی بی کا عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔ فوٹو: اے پی پی/فائل
ماضی کے عظیم ترین کرکٹر جاوید میانداد بطور منتظم مکمل طور پر ناکام ہوگئے،6 برس میں کروڑوں روپے معاوضہ لینے کے باوجود وہ بطور ڈائریکٹر جنرل پی سی بی کوئی کارنامہ نہیں دکھا پائے۔
پاکستانی کرکٹ میں بہتری کے آثار تک نہیں پیدا ہوسکے، سابق کپتان نے ہوائوں کا رخ دیکھتے ہوئے خود ہی عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔ تفصیلات کے مطابق جاویدمیانداد نے انٹرنیشنل کرکٹ میں بے شمار کارنامے انجام دیے، پاکستان کرکٹ ان کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی، اب بھی ٹاپ ٹیسٹ اسکورر کا مقامی ریکارڈ ان کے نام کے آگے درج ہے، ان کی کرکٹ خدمات کا ایک زمانہ معترف مگر ماضی کے اتنے بڑے کھلاڑی بطور منتظمین بری طرح ناکام ہوگئے، انھیں 2008 میں پی سی سی کے اس وقت کے چیئرمین اعجاز بٹ نے ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا تھا، ان کا معاوضہ کبھی نہیں بتایا گیا مگر رپورٹس کے مطابق یہ سات لاکھ روپے ماہانہ کے لگ بھگ ہے، اس حساب سے میانداد 6 برس میں کروڑوں روپے لے چکے ہیں مگر ان کے بے مثال تجربے کا پاکستان کرکٹ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
صورتحال اب بھی ویسی ہے جیسی ان کے آنے سے قبل تھی بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگئی۔ حکومت کی جانب سے پی سی بی میں نئے سیکریٹری کا تقرر کیا گیا جس کی بنیادی ذمہ داری ادارے پر بوجھ ملازمین کو فارغ کرنا ہے، ہوائوں کا رخ دیکھتے ہوئے جاوید میانداد نے بھی عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔ اسلام آبادہائیکورٹ نے پی سی بی کے بارے میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بطور بیٹسمین شاندار صلاحیتوں کی وجہ سے میانداد کو ڈی جی کے بجائے کوچ ہونا چاہیے۔ سابق کپتان نے اپنے بیان میں کہا کہ میں کافی عرصے سے سن اور پڑھ رہا ہوں کہ ڈی جی کے طور پر کام کرنے میں میرا کوئی مفاد ہے، مگر میں واضح کرناچاہتا ہوں کہ میں نے کرکٹ میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کیں۔
حکومت نے مجھے ہلال امتیاز سے نوازا، آئی سی سی نے ہال آف فیم میں شامل کیا، صدر پاکستان نے چین میں پاکستان کا کرکٹ سفیر مقرر کیا، میں اپنی خدمات کو تسلیم کرنے پر معزز عدالت کا بھی مشکور ہوں، میں نے پاکستان کرکٹ کیلیے بہت کچھ کیا، اسے اب بھی میری ضرورت ہے اگر میرے جانے سے بورڈ کے چھوٹے ملازمین کی ملازمتیں بچتی ہیں تو میں عہدہ چھوڑنے والا پہلا شخص ہوںگا،دنیائے کرکٹ مجھے ڈی جی نہیں بلکہ جاویدمیانداد کے نام سے جانتی اور دنیا میں بہت سے لوگ کرکٹ میں میری خدمات کی وجہ سے پاکستان سے واقف ہیں، مجھے پاکستانی ہونے پر فخر اور ملک نے مجھے یہ شناخت دی، میں نے ہمیشہ عزت سے کرکٹ کھیلی اور ہر فورم پر اسی طرح کام کرتا رہوں گا۔
پاکستانی کرکٹ میں بہتری کے آثار تک نہیں پیدا ہوسکے، سابق کپتان نے ہوائوں کا رخ دیکھتے ہوئے خود ہی عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔ تفصیلات کے مطابق جاویدمیانداد نے انٹرنیشنل کرکٹ میں بے شمار کارنامے انجام دیے، پاکستان کرکٹ ان کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوتی، اب بھی ٹاپ ٹیسٹ اسکورر کا مقامی ریکارڈ ان کے نام کے آگے درج ہے، ان کی کرکٹ خدمات کا ایک زمانہ معترف مگر ماضی کے اتنے بڑے کھلاڑی بطور منتظمین بری طرح ناکام ہوگئے، انھیں 2008 میں پی سی سی کے اس وقت کے چیئرمین اعجاز بٹ نے ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا تھا، ان کا معاوضہ کبھی نہیں بتایا گیا مگر رپورٹس کے مطابق یہ سات لاکھ روپے ماہانہ کے لگ بھگ ہے، اس حساب سے میانداد 6 برس میں کروڑوں روپے لے چکے ہیں مگر ان کے بے مثال تجربے کا پاکستان کرکٹ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
صورتحال اب بھی ویسی ہے جیسی ان کے آنے سے قبل تھی بلکہ اس سے بھی بدتر ہوگئی۔ حکومت کی جانب سے پی سی بی میں نئے سیکریٹری کا تقرر کیا گیا جس کی بنیادی ذمہ داری ادارے پر بوجھ ملازمین کو فارغ کرنا ہے، ہوائوں کا رخ دیکھتے ہوئے جاوید میانداد نے بھی عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کردی۔ اسلام آبادہائیکورٹ نے پی سی بی کے بارے میں اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ بطور بیٹسمین شاندار صلاحیتوں کی وجہ سے میانداد کو ڈی جی کے بجائے کوچ ہونا چاہیے۔ سابق کپتان نے اپنے بیان میں کہا کہ میں کافی عرصے سے سن اور پڑھ رہا ہوں کہ ڈی جی کے طور پر کام کرنے میں میرا کوئی مفاد ہے، مگر میں واضح کرناچاہتا ہوں کہ میں نے کرکٹ میں بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل کیں۔
حکومت نے مجھے ہلال امتیاز سے نوازا، آئی سی سی نے ہال آف فیم میں شامل کیا، صدر پاکستان نے چین میں پاکستان کا کرکٹ سفیر مقرر کیا، میں اپنی خدمات کو تسلیم کرنے پر معزز عدالت کا بھی مشکور ہوں، میں نے پاکستان کرکٹ کیلیے بہت کچھ کیا، اسے اب بھی میری ضرورت ہے اگر میرے جانے سے بورڈ کے چھوٹے ملازمین کی ملازمتیں بچتی ہیں تو میں عہدہ چھوڑنے والا پہلا شخص ہوںگا،دنیائے کرکٹ مجھے ڈی جی نہیں بلکہ جاویدمیانداد کے نام سے جانتی اور دنیا میں بہت سے لوگ کرکٹ میں میری خدمات کی وجہ سے پاکستان سے واقف ہیں، مجھے پاکستانی ہونے پر فخر اور ملک نے مجھے یہ شناخت دی، میں نے ہمیشہ عزت سے کرکٹ کھیلی اور ہر فورم پر اسی طرح کام کرتا رہوں گا۔