آپریشن میں مجرمانہ عناصر ٹارگٹ ہوں
بلوچستان،کراچی اور خیبر پختونخوا میں مارو ، چھپ جائوکا بازار گرم ہے
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے امریکا کے دورے سے واپسی پر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے سب سے پہلے کراچی کی صورتحال اور جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ فوٹو: فائل
وفاقی اورسندھ حکومت نے کراچی میں جرائم پیشہ افرادکے خلاف ٹارگٹڈ آپریشن بھرپورانداز میں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔بلاشبہ فیصلے کا یہ پہلو اس اعتبار سے تشنہ ہے کہ کراچی کی مخدوش سماجی صورتحال اور طالبان سے جاری ''وار اینڈ پیس '' کے معمے کا کوئی حل جلد سامنے آئے گا۔ واضح رہے کہ تند و تیز آپریشن میں بھی بدھ کو منی پاکستان میں خونریزی ہوئی اور مختلف علاقوں میں 10افراد ہلاک ہوگئے جب کہ منگل کو 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ ایکسپریس کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق سندھ حکومت نے وفاق کو آگاہ کیا ہے کہ کراچی میں سوفیصد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر پولیس اور رینجرز کے ذریعے اور وزیراعظم نوازشریف کی سربراہی میں چند ہفتے قبل کراچی میں منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں ٹارگٹڈ آپریشن کیا جارہا ہے جس میں کوئی تفریق نہیں کی جارہی کہ کون کس جماعت سے تعلق رکھتا ہے ۔
یہ اشارہ غالباً ایم کیو ایم کے کراچی پولیس چیف شاہد حیات کو عہدے سے فوری طور پر برطرف کرنے کے مطالبے کے پیش نظر دیا گیا ہے، تاہم زمینی صورتحال خاصی تلخ،اندوہ ناک ،غیر یقینی اور فیصلہ کن بھی ہے کہ آپریشن کا ڈریگن کس سمت جائے گا ۔ قانون نافذ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صرف جرائم پیشہ عناصر کو فوکس کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انتہائی جامع اندازمیں فوری ایکشن لیا جارہا ہے، آپریشن کے دوران گرفتار افراد جو بھی اعتراف کررہے ہیں، ان کے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیانات کو انسداددہشتگردی سمیت دیگرعدالتوں میں ٹھوس شہادتوں کے طور پر پیش کیا جائے گا۔مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی میں مجرموں کی سفارش نہ کریں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے امریکا کے دورے سے واپسی پر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے سب سے پہلے کراچی کی صورتحال اور جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جس میں وزیر داخلہ نے انھیں آگاہ کیا کہ وہ ان کی ہدایت کے مطابق صوبائی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ، اسی طرح وفاقی حکومت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میںبھی امن وامان کے قیام کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کررہی ہے۔
وزیرداخلہ نے خیبرپختونخوامیں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو بریف کیا۔ سیکیورٹی حکام اور آپریشن پر مامور فورسزسمیت سب کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کراچی میں بدامنی اور انارکی کو ملک کی مجموعی صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، جس شہر میں قتل وغارت کے سیاسی محرکات اور مضمرات بھی ہیں،جرائم میں ملوث مافیائیں سرگرم ہیں، دوسری طرف طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو ان کے 6 کارکن مارے جاتے ہیں جس میں ان کا کراچی کا امیر بھی شامل ہوتا ہے۔ مجرمانہ سرگرمیوں کے کئی دھارے اور کرائے کے قاتلوں کا مضبوط نیٹ ورک کراچی کو میدان جنگ بنائے ہوئے ہے۔ ان سے لڑنے کے لیے ایک سال کا عرصہ بھی کم ہے کیونکہ 30 برس سے منی پاکستان سیاسی بازی گروں ، بے نام فسطائی قوتوں اور جرائم پیشہ عناصرکے ہاتھوں لہو لہان ہے۔ منی پاکستان ملک کا معاشی دل ہے اس پر خنجر چلیں گے تو اہل وطن کو چین و قرار کیسے نصیب ہوگا۔ اس قتل و غارت کے مہیب اثرات کا ادراک کرنے میں تاخیر کی گئی تو بڑا غضب ہوگا۔کم از کم کراچی کو بیروت و صومالیہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔سوچئے جاری آپریشن کے دوران ہی کراچی میں 27 افراد کا دو روز میں قتل دہشت گردی کی انتہا نہیں؟
ادھر پاک افغان سرحد پرافغان کسٹم ہائوس کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 2 افغان فوجیوں اورایک ایف سی اہلکارسمیت 7 افرادجاں بحق اور 14زخمی ہو گئے۔لیویز ذرایع کے مطابق ایک پیدل خودکش حملہ آور نے ایک گدھا گاڑی کے ساتھ باب دوستی پرزیرو پوائنٹ پر پہنچ کر وہاں اس وقت دھماکا کیا جب اہلکار پاک افغان سرحد کراس کرنے والے افراداورگاڑیوں کی چیکنگ کررہے تھے۔ دھماکے کے وقت پاک افغان اہلکاروں کی میٹنگ بھی جاری تھی تاہم یہ اس مقام سے کچھ فاصلے پرکیا گیاجس کے باعث میٹنگ میں مصروف اہلکار محفوظ رہے۔ایف سی کے مطابق یہ ایک خودکش دھماکا تھا، مرنے والوں میں ایک ایف سی اہلکار بھی شامل ہے ۔ زخمیوں میں بھی5 ایف سی اہلکار شامل ہیں ۔دھماکے کے بعد پاک افغان سرحدی گیٹ باب دوستی کوتا حکم ثانی ہر قسم کے آمدورفت کے لیے بندکر دیا گیا ہے جب کہ زلزلہ سے متاثرہ ضلع آواران کے علاقے جھلوری مشکے میں سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں2سیکیورٹی اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔
بلاشبہ ایک ہولناک افراتفری ہے ، ملک گیر سطح پرملک دشمن ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں ہے، بلوچستان،کراچی اور خیبر پختونخوا میں مارو ، چھپ جائوکا بازار گرم ہے، یہ درست ہے کہ فورسز سایوں کا تعاقب نہیں کررہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قبائلی علاقوں اورشہروں میں فوج ، پولیس ، رینجرزاور ایف سی جدید اسلحہ سے لیس جمہوریت اور ریاست مخالف قوتوں سے نبرد آزما ہیں، اس لیے فوری نتائج کی تمنا نہیں رکھنی چاہیے،یہ جنگ دہشت گردی کے بطن سے اٹھی ہے اور اب اس کے دردانگیزاثرات کے خاتمے کا وقت ہے۔کراچی کی مختلف مارکیٹوں کے تاجروں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے باقی مرحلے جلد مکمل کرنے چاہئیں، آپریشن سے حالات پہلے سے قدرے بہتر ہیں مگر بھتے کی پرچیاں اوردھمکی آمیز فون کالوںکا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔دوسری طرف جوں جوں عید قریب آرہی ہے تاجروں کے خوف میں اضافہ ہورہا ہے اور بھتہ خور بھی رابطے تیز کررہے ہیں۔لازم ہے کہ ان کے رابطوں کی تمام لائنیں کٹ جانی چاہئیں۔ قانون شکن عناصر واکی ٹاکی استعمال کررہے ہیں ،ان کے مخبروں کے پاس انتہائی قیمتی موبائل فون ہیں جن کے ذریعے وہ پولیس اور رینجرز کی نقل و حمل سے متعلق معلومات اور اطلاعات فوری طور پر حاصل کرکے لوکیشن بدلتے رہتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ منی پاکستان کو ہمہ جہتی خونریزی اور بدامنی سے نجات دلانے کے لیے یہ قیمتی موقع ہے ۔بس آپریشن کی سمت درست رہنی چاہیے ، اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہیے۔اسی میں منی پاکستان کا مفاد ہے۔
یہ اشارہ غالباً ایم کیو ایم کے کراچی پولیس چیف شاہد حیات کو عہدے سے فوری طور پر برطرف کرنے کے مطالبے کے پیش نظر دیا گیا ہے، تاہم زمینی صورتحال خاصی تلخ،اندوہ ناک ،غیر یقینی اور فیصلہ کن بھی ہے کہ آپریشن کا ڈریگن کس سمت جائے گا ۔ قانون نافذ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ صرف جرائم پیشہ عناصر کو فوکس کیا گیا ہے اور ان کے خلاف انتہائی جامع اندازمیں فوری ایکشن لیا جارہا ہے، آپریشن کے دوران گرفتار افراد جو بھی اعتراف کررہے ہیں، ان کے پولیس کو ریکارڈ کرائے گئے بیانات کو انسداددہشتگردی سمیت دیگرعدالتوں میں ٹھوس شہادتوں کے طور پر پیش کیا جائے گا۔مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں کراچی میں مجرموں کی سفارش نہ کریں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے امریکا کے دورے سے واپسی پر وزیر داخلہ چوہدری نثار سے سب سے پہلے کراچی کی صورتحال اور جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جس میں وزیر داخلہ نے انھیں آگاہ کیا کہ وہ ان کی ہدایت کے مطابق صوبائی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ، اسی طرح وفاقی حکومت بلوچستان اور خیبرپختونخوا میںبھی امن وامان کے قیام کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کررہی ہے۔
وزیرداخلہ نے خیبرپختونخوامیں دہشت گردی کی حالیہ لہر کے حوالے سے بھی وزیراعظم کو بریف کیا۔ سیکیورٹی حکام اور آپریشن پر مامور فورسزسمیت سب کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کراچی میں بدامنی اور انارکی کو ملک کی مجموعی صورتحال سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا، جس شہر میں قتل وغارت کے سیاسی محرکات اور مضمرات بھی ہیں،جرائم میں ملوث مافیائیں سرگرم ہیں، دوسری طرف طالبان کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو ان کے 6 کارکن مارے جاتے ہیں جس میں ان کا کراچی کا امیر بھی شامل ہوتا ہے۔ مجرمانہ سرگرمیوں کے کئی دھارے اور کرائے کے قاتلوں کا مضبوط نیٹ ورک کراچی کو میدان جنگ بنائے ہوئے ہے۔ ان سے لڑنے کے لیے ایک سال کا عرصہ بھی کم ہے کیونکہ 30 برس سے منی پاکستان سیاسی بازی گروں ، بے نام فسطائی قوتوں اور جرائم پیشہ عناصرکے ہاتھوں لہو لہان ہے۔ منی پاکستان ملک کا معاشی دل ہے اس پر خنجر چلیں گے تو اہل وطن کو چین و قرار کیسے نصیب ہوگا۔ اس قتل و غارت کے مہیب اثرات کا ادراک کرنے میں تاخیر کی گئی تو بڑا غضب ہوگا۔کم از کم کراچی کو بیروت و صومالیہ بننے میں دیر نہیں لگے گی۔سوچئے جاری آپریشن کے دوران ہی کراچی میں 27 افراد کا دو روز میں قتل دہشت گردی کی انتہا نہیں؟
ادھر پاک افغان سرحد پرافغان کسٹم ہائوس کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 2 افغان فوجیوں اورایک ایف سی اہلکارسمیت 7 افرادجاں بحق اور 14زخمی ہو گئے۔لیویز ذرایع کے مطابق ایک پیدل خودکش حملہ آور نے ایک گدھا گاڑی کے ساتھ باب دوستی پرزیرو پوائنٹ پر پہنچ کر وہاں اس وقت دھماکا کیا جب اہلکار پاک افغان سرحد کراس کرنے والے افراداورگاڑیوں کی چیکنگ کررہے تھے۔ دھماکے کے وقت پاک افغان اہلکاروں کی میٹنگ بھی جاری تھی تاہم یہ اس مقام سے کچھ فاصلے پرکیا گیاجس کے باعث میٹنگ میں مصروف اہلکار محفوظ رہے۔ایف سی کے مطابق یہ ایک خودکش دھماکا تھا، مرنے والوں میں ایک ایف سی اہلکار بھی شامل ہے ۔ زخمیوں میں بھی5 ایف سی اہلکار شامل ہیں ۔دھماکے کے بعد پاک افغان سرحدی گیٹ باب دوستی کوتا حکم ثانی ہر قسم کے آمدورفت کے لیے بندکر دیا گیا ہے جب کہ زلزلہ سے متاثرہ ضلع آواران کے علاقے جھلوری مشکے میں سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں2سیکیورٹی اہلکار شہید اور 3 زخمی ہوگئے۔
بلاشبہ ایک ہولناک افراتفری ہے ، ملک گیر سطح پرملک دشمن ریاستی رٹ کو چیلنج کر رہے ہیں ہے، بلوچستان،کراچی اور خیبر پختونخوا میں مارو ، چھپ جائوکا بازار گرم ہے، یہ درست ہے کہ فورسز سایوں کا تعاقب نہیں کررہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ قبائلی علاقوں اورشہروں میں فوج ، پولیس ، رینجرزاور ایف سی جدید اسلحہ سے لیس جمہوریت اور ریاست مخالف قوتوں سے نبرد آزما ہیں، اس لیے فوری نتائج کی تمنا نہیں رکھنی چاہیے،یہ جنگ دہشت گردی کے بطن سے اٹھی ہے اور اب اس کے دردانگیزاثرات کے خاتمے کا وقت ہے۔کراچی کی مختلف مارکیٹوں کے تاجروں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ ٹارگٹڈ آپریشن کے باقی مرحلے جلد مکمل کرنے چاہئیں، آپریشن سے حالات پہلے سے قدرے بہتر ہیں مگر بھتے کی پرچیاں اوردھمکی آمیز فون کالوںکا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔دوسری طرف جوں جوں عید قریب آرہی ہے تاجروں کے خوف میں اضافہ ہورہا ہے اور بھتہ خور بھی رابطے تیز کررہے ہیں۔لازم ہے کہ ان کے رابطوں کی تمام لائنیں کٹ جانی چاہئیں۔ قانون شکن عناصر واکی ٹاکی استعمال کررہے ہیں ،ان کے مخبروں کے پاس انتہائی قیمتی موبائل فون ہیں جن کے ذریعے وہ پولیس اور رینجرز کی نقل و حمل سے متعلق معلومات اور اطلاعات فوری طور پر حاصل کرکے لوکیشن بدلتے رہتے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ منی پاکستان کو ہمہ جہتی خونریزی اور بدامنی سے نجات دلانے کے لیے یہ قیمتی موقع ہے ۔بس آپریشن کی سمت درست رہنی چاہیے ، اور کسی کو شکایت کا موقع نہیں دینا چاہیے۔اسی میں منی پاکستان کا مفاد ہے۔