سالڈویسٹ مینجمنٹ میں پاکستان کی مددکرینگےسوئس ادارہ
سوئس کمپنیوں کی دلچسپی کا فائدہ اٹھایاجائے،ریجنل ڈائریکٹرگلوبل انٹرپرائز، کاٹی سے خطاب
پاکستان میں موجود ذرائع اور مواقع سے بیرونی کمپنیاں بھرپورفائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ فوٹو: فائل
سوئٹزرلینڈ گلوبل انٹرپرائز ایشیا پیسفک کے ریجنل ڈائریکٹر والف گنگ شوازین بیچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں فوڈپروسیسنگ، ویسٹ مینجمنٹ اور سالڈ ویسٹ سمیت ہائیڈرو ٹیکنالوجی میں بھرپورمواقع موجودہیں، سالڈ اور کیمیائی ویسٹ پاکستان کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے جس کے لیے انکا ادارہ تعاون کرنے کے لیے تیارہے۔
یہ بات انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری اراکین سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین، کاٹی کے صدر فرخ مظہرنے بھی خطاب کیا۔ والف گنگ شوازین بیچ نے کہا کہ پاکستان میں موجودمواقع اور ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے سوئس کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں جس کا فائدہ اٹھایاجاسکتا ہے۔ اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلی ایس ایم منیر نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں سالڈ ویسٹ اورکیمیائی پانی کے اخراج کے لیے کوئی مربوط نظام موجودنہیں ہے۔
کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا کہ دنیا بھر میں گلوبل تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے پالیسیوں کاتعین کیاجارہا ہے اور پاکستان ترقی یافتہ ملک کی دوڑ سے پیچھے ہے لہذا پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی میں مدد فراہم کی جائے تاکہ گلوبل تقاضوں کو پوراکیاجاسکے۔کاٹی کے صدر فرخ مظہر نے کہا کہ پاکستان میں موجود ذرائع اور مواقع سے بیرونی کمپنیاں بھرپورفائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کار جوائنٹ وینچر کے ذریعے سرمایہ کاری کو ممکن بناسکتے ہیں اور سوئس کمپنیاں پاکستان میںملنے والے منافع کی سب سے زیادہ شرح کومدنظررکھتے ہوئے سالڈ ویسٹ کوٹھکانے لگانے کے منصوبے پر کام کرنے کوترجیح دیں، کورنگی ایسوسی ایشن کی جانب سے بھرپورتعاون فراہم کیا جائیگا۔ اس موقع پر کائٹ کے چیف مسعودنقی اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرگلزارفیروز نے کورنگی کے علاقے میں پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کی جانب سے لگائے جانیوالے ایفلونٹ پلانٹ کے بارے میں آگہی فراہم کی۔
یہ بات انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈاینڈانڈسٹری اراکین سے خطاب کے دوران کہی، اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر، کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدرمیاں زاہد حسین، کاٹی کے صدر فرخ مظہرنے بھی خطاب کیا۔ والف گنگ شوازین بیچ نے کہا کہ پاکستان میں موجودمواقع اور ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے سوئس کمپنیاں دلچسپی لے رہی ہیں جس کا فائدہ اٹھایاجاسکتا ہے۔ اس موقع پر کاٹی کے سرپرست اعلی ایس ایم منیر نے کہا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں سالڈ ویسٹ اورکیمیائی پانی کے اخراج کے لیے کوئی مربوط نظام موجودنہیں ہے۔
کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا کہ دنیا بھر میں گلوبل تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے پالیسیوں کاتعین کیاجارہا ہے اور پاکستان ترقی یافتہ ملک کی دوڑ سے پیچھے ہے لہذا پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی میں مدد فراہم کی جائے تاکہ گلوبل تقاضوں کو پوراکیاجاسکے۔کاٹی کے صدر فرخ مظہر نے کہا کہ پاکستان میں موجود ذرائع اور مواقع سے بیرونی کمپنیاں بھرپورفائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
انہوںنے کہا کہ پاکستان میں نجی شعبے کے ساتھ بین الاقوامی سرمایہ کار جوائنٹ وینچر کے ذریعے سرمایہ کاری کو ممکن بناسکتے ہیں اور سوئس کمپنیاں پاکستان میںملنے والے منافع کی سب سے زیادہ شرح کومدنظررکھتے ہوئے سالڈ ویسٹ کوٹھکانے لگانے کے منصوبے پر کام کرنے کوترجیح دیں، کورنگی ایسوسی ایشن کی جانب سے بھرپورتعاون فراہم کیا جائیگا۔ اس موقع پر کائٹ کے چیف مسعودنقی اور ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرگلزارفیروز نے کورنگی کے علاقے میں پاکستان ٹینرز ایسوسی ایشن کی جانب سے لگائے جانیوالے ایفلونٹ پلانٹ کے بارے میں آگہی فراہم کی۔