مشرف کیخلاف غداری کیس عدالت نے وفاق سے رپورٹ طلب کرلی

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر اورجسٹس اشرف جہاں پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے 13نومبر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

مجھے کیس ابھی دیا گیا ہے اس کا مطالعہ نہیں کرسکا،ڈپٹی اٹارنی جنرل ۔فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر اورجسٹس اشرف جہاں پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج اور کارروائی سے متعلق وفاقی حکومت کو 13نومبر تک رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

جمعرات کو راہ راست ٹرسٹ کی درخواست کی سماعت کے موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل محسن امام نے موقف اختیار کیا کہ انھیں یہ کیس ابھی دیا گیا ہے وہ اس کا مطالعہ نہیں کرسکے اس لیے مہلت دی جائے۔ فاضل بینچ نے انھیں ہدایت کی کہ وہ آئندہ عدالتی احکام پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کریں۔ واضح رہے کہ 2011میں ڈپٹی اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی تھی کہ درخواست گذار عطا اللہ شاہ کی شکایت پر ایف آئی اے انکوائری کرے گی اور قانون کے مطابق اقدام کیا جائے گا، اس یقین دہانی پر درخواست گذار نے اطمینان کا اظہار کیا اور عدالت نے درخواست گذار کے اطمینان کے بعد درخواست نمٹادی، راہ راست ٹرسٹ کے عطا اللہ شاہ نے سیکریٹری وزارت داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیارکیاتھا کہ سابق صدر اور آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کرکے ایمرجنسی نافذ کی اور عبوری آئین جاری کیا۔


مدعا علیہ نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے 61ججوں کو فارغ کردیا اور انھیں غیر قانونی طور پر نظربند کردیا تاہم 31جولائی 2009 کو سپریم کورٹ نے قراردیا کہ 3 نومبر کے اقدامات غیرآئینی تھے، اس فیصلے کی روشنی میں درخواست گذار نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف ہائی ٹریژن ایکٹ کی دفعہ 2,3 کے تحت غداری کے الزام میں مقدمہ درج کرانے کے لیے ایف آئی اے کو درخواست دی تھی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف پر آئین توڑنے کا الزام ثابت ہوگیا تھا اور ایف آئی اے ایکٹ 1974 کے تحت ایف آئی اے ہی وہ ادارہ ہے جو ملزمان کے خلاف کارروائی کرسکتا ہے لیکن ایف آئی اے نے ان کی درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی۔

درخواست گذار نے عدالت عالیہ سے استدعا کی تھی کہ ایف آئی اے کو ہدایت کی جائے کہ وہ آئین توڑنے کے الزام میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف بلا کسی تاخیر کے مقدمہ درج کیا جائے اور ضروری اقدامات کیے جائیں، تاہم ایف آئی اے کی جانب سے کوئی رد عمل ظاہر نہ کرنے پر درخواست گذار نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے جس میں ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی گئی تھی کہ اس حوالے سے متعلقہ دستاویزات عدالت میں پیش کی جائیں مگر سرکاری وکلا سماعت ملتوی کراتے رہے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد نہیں ہوا، اس درخواست کی آخری سماعت 15اپریل2013کو ہوئی مگرڈپٹی اٹارنی جنرل پیش نہیں ہوئے۔درخواست میں کہا گیا کہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت مقدمہ درج کرنے کیلیے اب کسی افسر کی ضرورت نہیں یہ مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی تسلیم کرچکے ہیں مگر وزارت داخلہ اور وزارت قانون سپریم کورٹ سے حقائق چھپارہی ہے۔
Load Next Story