حکومت اور طالبان مذاکرات کا روڈ میپ دیں

طالبان نے ایک منحرف کمانڈر ملا نبی حنفی کے مرکز پر فائرنگ اور خود کش حملہ کر کے 13افراد کو ہلاک کردیا۔

حکومت ابھی تک طالبان سے مذاکرات کے موقف پر قائم ہے لیکن حکومت کا اس حوالے سے کوئی روڈ میپ سامنے نہیں آیا ہے۔ فوٹو: فائل

اخبارات میں شایع ہونے والی اطلاعات کے مطابق جمعرات کی صبح ہنگو کی تحصیل سپین ٹل میں طالبان نے اپنے ایک مقامی منحرف کمانڈر ملا نبی حنفی کے مرکز پر فائرنگ اور خود کش حملہ کر کے 13افراد کو ہلاک کردیا جب کہ ملا نبی حنفی سمیت 20 افراد زخمی ہو گئے۔ ملا نبی حنفی کے محافظوں کی جوابی فائرنگ سے دو حملہ آور ہلاک جب کہ تیسرے نے مرکز کے اندر اپنے سمیت بارود سے بھری گاڑی اڑا دی۔ ذرایع کے مطابق ملا نبی حنفی کا بیٹا بھی مارا گیا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ ملا نبی حنفی حکومت کا حمایت یافتہ کمانڈر ہے جو ہمارے خلاف کارروائیاں کرتا ہے، اس لیے اس پر حملہ کیا گیا، مزید حملے بھی کریں گے۔

طالبان کی طرف سے یہ حملہ ان گروپوںاور افراد کے خلاف انتباہ ہے جو ان کی مرضی کے برعکس حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ طالبان نے اپنے گروپوں کے ان لوگوں کو جو کسی بھی معنی میں حکومت کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں واضح پیغام دے دیا ہے کہ ان کا انجام بھی ملا نبی حنفی ایسا ہی ہو گا۔ طالبان ایک عرصے سے پورے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور کسی بھی طور اپنی کارروائیاں بند کرنے کے لیے تیار نہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ کالعدم تحریک طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے اشارے بھی دے رہی ہے اور دوسری طرف مذاکرات کے حامی اپنے ہی لوگوں پر خودکش حملے بھی کرا رہی ہے' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگجوئوں کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان مختلف جنگجو گروپوں کا ڈھیلا ڈھالا اتحاد ہے اور اس میں مرکزیت کا فقدان ہے۔ مولوی فضل اللہ جو افغانستان میں مقیم ہے' اس کا گروپ بھی طالبان کہلاتا ہے اور وہ کھلے بندوں پاکستان کے قومی مفادات کے خلاف کام کر رہا ہے، وہ اپنے طور پر آزادانہ کارروائیاں کر رہا ہے۔

حکومت نے طالبان سے مذاکرات کے لیے دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے اے پی سی بلائی۔ اس اے پی سی نے وفاقی حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے کا مینڈیٹ دے دیا تھا لیکن چند روز قبل پشاور میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد ارباب حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات نہ کرنے کے بھیاشارے سامنے آئے تاہم عملاً حکومت ابھی تک طالبان سے مذاکرات کے موقف پر قائم ہے لیکن حکومت کا اس حوالے سے کوئی روڈ میپ سامنے نہیں آیا۔آج کے دن تک بھی طالبان سے مذاکرات کے لیے کسی کمیٹی کا اعلان نہیں کیا گیا تاکہ قوم کو پتہ چلے کہ طالبان سے کون مذاکرات کرے گا اور اس کا ایجنڈا کیا ہو گا اور اگر یہ مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو گئے تو حکومت کا تب لائحہ عمل کیا ہو گا۔ حکومت کو طالبان سے مذاکرات کے سلسلے میں واضح روڈ میپ دینا چاہیے۔ دوسری طرف طالبان کی جانب سے بھی حکومت سے مذاکرات کے لیے تاحال کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی بلکہ انھوں نے حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔


چند روز قبل علما ء کرام نے خدا اور رسولؐ کا واسطہ دیتے ہوئے حکومت اور طالبان سے جنگ بندی کی اپیل کی تھی مگر ملا نبی حنفی کے خلاف طالبان کی کارروائی سے لگتا ہے کہ انھوں نے علما کی اپیل بھی مسترد کر دی اور وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جو افراد حکومت کی حمایت کر رہے ہیں، طالبان انھیں نشانہ بنا کر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ ایک طاقتور گروہ ہے جو کوئی بھی اس کی مرضی کے خلاف کام کرے گا، وہ اس پر حملے کریں گے۔بعض مذہبی اور سیاسی جماعتیں حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے کے دباؤ ڈال رہی ہیں ، وہ اس خوف کا اظہار کر رہی ہیں کہ اگر طالبان سے مذاکرات کر کے مسئلہ حل نہ کیا گیا تو یہ جنگ کئی عشروں تک جاری رہے گی جس کا نقصان ملک کو پہنچے گا لیکن وہ جماعتیں یہ بھول جاتی ہیں کہ حکومت طالبان کے خلاف کوئی آپریشن نہیں کر رہی اور نہ ہی انھیں کوئی نقصان پہنچا رہی ہے ، فورسز جوابی کارروائی کرنے پر مجبور ہیںجب کہ طالبان نے اپنی کارروائیوں کی وجہ سے پورے ملک میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کر رکھا ہے۔

جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو پاکستانی حکومت اس سلسلے میں امریکا سے مسلسل احتجاج اور یہ حملے بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے مگر امریکا یہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان حملوں میں حکومت پاکستان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس سے حکمت و دانش سے نبٹا جا سکتا ہے' اس مسئلے پر اگر جذباتی فیصلہ کیا گیا تو یہ پاکستان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے اور قبائلی علاقوں کے لیے پہلے سے بھی زیادہ تباہ کن ثابت ہو گا' ایسی صورت میں طالبان پہلے سے بھی زیادہ مشکل میں پھنس جائیں گے۔ لہٰذا طالبان قیادت کو بھی اس معاملے میں حکومت پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے۔ طالبان اگر حکومت پاکستان سے مذاکرات میں مخلص ہیں تو انھیں فی الفور اپنی دہشت گردانہ کارروائیاں بند کرنا ہوں گی۔

دوسری طرف ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کو بھی سوچنا ہو گا کہ حکومت تو لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دے رہی ہے مگر طالبان جواب میں نہ صرف دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ ان افراد کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں جو ان کے موقف سے اختلاف کر کے حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ طالبان اپنے حملوں سے یہ ظاہر کرنا چاہ رہے ہیں کہ علاقے کی واحد طاقت وہی ہے اور حکومت کی حمایت کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صرف وہی کریں گے۔ علما کا ایک گروپ حکومت کو طالبان سے مذاکرات کرنے اور دوسرا گروپ نہ کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ سنی اتحاد کونسل نے طالبان کو ہتھیار پھینکنے کا مشورہ دیا ہے۔ علماء کرام اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے تمام اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں'گومگو کی کیفیت سے یہ مسئلہ کبھی حل نہ ہو گا، حکومت اگر طالبان سے مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو وہ فوری طور پر کمیٹی تشکیل دے اور واضح روڈ میپ کا اعلان کرے جس کی بنیاد پر وہ مذاکرات کرنا چاہتی ہے ۔ اسی طرح طالبان بھی اپنی نیک نیتی کا اظہار کرنے کے لیے روڈ میپ جاری کریں اور دہشت گردی کی کارروائیاں بند کرنے کا اعلان کریں کیونکہ فورسز صرف جوابی کارروائیاں کرتی ہیں۔
Load Next Story