میڈیکل کالجوں کے سیکڑوں امیدوار ایڈمٹ کارڈ سے محروم

یونیورسٹیاں امیدواروں سے کتابچے کے ایک ہزار اور یونیورسٹی کے نام پر پے آرڈرکی مد میں 1500روپے وصول کررہی ہیں

این ٹی ایس کے نام علیحدہ سے ایک ہزار روپے کا پے آرڈر اورفارم جمع کرانے والے امیدوار کوہی ایڈمٹ کارڈجاری ہوگا،عملہ۔ فوٹو؛ فائل

کراچی سمیت صوبے کے سرکاری میڈیکل کالجوں میں شروع ہونے والے داخلوں کے لیے انٹری ٹیسٹ کے عمل کو پیچیدہ بنا دیا گیا۔

جس کی وجہ سے ہزاروں امیدواروں اور ان کے والدین کو پریشانی کا سامنا ہے، میڈیکل کالجوں میں داخلے کیلیے فی امیدوار مجموعی طور پر3 ہزار 500 روپے وصول کیے جارہے ہیں، اس میں سے ایک ہزار روپے فی امیدوار نیشنل ٹیسٹنگ سروسز وصول کررہا ہے،اس سے قبل نیشنل ٹیسٹنگ سروسز والوں کو متعلقہ یونیورسٹی ادائیگیاں کرتی تھیں اورمتعلقہ یونیورسٹی امیدواروں سے کتابچے، فارم اور انٹری ٹیسٹ کی فیس مجموعی طور پر2 ہزار 500روپے وصول کرتی تھیں ۔

امسال سے یونیورسٹیاں امیدواروں سے کتابچے کے ایک ہزار روپے اور یونیورسٹی کے نام پر بنوائے جانے والے پے آرڈرکی مد میں 1500روپے وصول کررہی ہیں، نیشنل ٹیسٹنگ سروسز امیدواروں سے انٹری ٹیسٹ کیلیے فی امیدوار ایک ہزار روپے کا علیحدہ سے پے آرڈر وصول کررہا ہے اس طرح انٹری ٹیسٹ میں شرکت کیلیے فی امیدوار3 ہزار500روپے وصول کیے جارہے ہیں ، کراچی کے ڈاؤ میڈیکل اورجناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سمیت اندرون سندھ کی میڈیکل یونیورسٹیوں میں داخلوں کیلیے انٹری ٹیسٹ میں مجموعی طور پر 14ہزار590 امیدوار شرکت کررہے ہیں، امیدواروں سے مجموعی فیس 5 کروڑ 10 لاکھ 65 ہزار روپے وصول کی گئی ہے۔




ان میں ایک کروڑ45 لاکھ90 ہزار روپے نیشنل ٹیسٹنگ سروسز نے امیدواروں سے وصول کی ، اس کے باوجود کراچی سمیت اندرون سندھ کے سیکڑوں طالب علموں کوایڈمٹ کارڈ موصول نہیں ہوئے جس کی وجہ سے طالب علموں اور ان کے والدین کو سخت ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،نیشنل ٹیسٹنگ سروسز کے عملے کا کہنا ہے فی امیدوار ایک ہزار روپے پے آرڈر جمع کرانے کے بعد امیدوارکو ایڈمٹ کارڈ جاری کیا جارہا ہے اور جن امیدواروں نے صرف متعلقہ یونیورسٹیوں میں پے آرڈر اورفارم جمع کرائے ان کو نیشنل ٹیسٹنگ سروسز ایڈمٹ کارڈ جاری نہیں کرے گی، ایڈمٹ کارڈ صرف ان ہی امیدواروں کوجاری کیا جائے گا۔

جنھوں نے نیشنل ٹیسٹنگ سروسزکے نام ایک ہزار روپے کا پے آرڈر اور فارم جمع کرایا ہے، متاثرہ امیدواروں اوران کے والدین نے ایکسپریس کوبتایا کہ امسال نیشنل ٹٰیسٹنگ سروسز نے میڈیکل کالجوں ویونیورسٹیوں میں داخلوں کیلیے انٹری ٹیسٹ میں شرکت کے طریقہ کارکوانتہائی پیچیدہ بنادیا ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں امیدوار انٹری ٹیسٹ میں شرکت سے محروم ہوجائیں گے، نیشنل ٹیسٹنگ سروسز حکام کا کہنا ہے کہ جن طالب علموں کوایڈمٹ کارڈ موصول نہیں ہوئے وہC.32/11/1کے ڈی اے اسکیم کارساز پر رابطہ کریں،واضح رہے کہ کراچی میں ڈاو یونیورسٹی میں4ہزار719، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی میں4ہزار417، لیاقت یونیورسٹی جامشورو4ہزار747،شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی لاڑکانہ2ہزار802،غلام محمد مہر میڈیکل کالج سکھر1733،پیپلز یونیورسٹی وویمن نوابشاہ368امیدواروں نے انٹری ٹیسٹ کیلیے متعلقہ یونیورسٹیوں میں فارم جمع کرائے ہیں جن کی مجموعی تعداد14ہزار590 ہے۔
Load Next Story