گنے کی کرشنگ میں تاخیر سے زراعت تباہ ہو گی ندیم قمر
پاکستان خصوصاً سندھ میں نہ صرف کپاس بلکہ دھان کی قیمت بھی نہایت کم مقرر کی گئی ہے
حکومتی غفلت کے باعث شوگر ملوں نے بوائلر بھی اسٹارٹ نہیں کیے،اجلاس سے خطاب
ایوان زراعت سندھ کے صدر ڈاکٹر سید ندیم قمر نے کہا ہے کہ سندھ حکومت خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔
کیونکہ شوگر کین ایکٹ کے تحت شوگر ملز کو یکم اکتوبر سے چلنا تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک شوگر ملز نہیں چل سکیں اور نہ ہی شوگر ملز نے اپنے بوائلرز کو گرم کیا ہے، یہ عمل سندھ کی زراعت کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایوان زراعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ عالمی سطح پر دھان اور کپاس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان خصوصاً سندھ میں نہ صرف کپاس بلکہ دھان کی قیمت بھی نہایت کم مقرر کی گئی ہے جس سے آبادگاروں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کپاس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں فی من قیمت چار ہزار روپے ہے۔
جبکہ کراچی میں تاجر کپاس 32 سو روپے فی من کے حساب سے خرید رہے ہیں، حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لے تاکہ آبادگاروںکی بے چینی ختم ہو سکے۔ انھوں نے کہاکہ 4 سال سے دھان کی امدادی قیمت میں اضافہ ہی نہیں کیا گیا۔
جس کی وجہ سے چاول کیکاشتکاروں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کی اس معاملے میں پراسرار خاموشی سے سندھ کی زرعی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اجلاسکے شرکا کا کہنا تھا کہ سندھ کے آبادگار طویل عرصے سے پانی کیقلت کیخلاف اسلام آباد میں احتجاج کر رہے ہیں ان کے مسائل حل کرانے کیلیے حکومت سنجیدہ کوشش کرے۔ اجلاس سے آغا نصراﷲ خان، میر امداد علی، نبی بخش سٹھیو، میر عبدالکریم تالپور، آغا خادم حسین شاہ، ڈاکٹر روشن علی کھوسو اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
کیونکہ شوگر کین ایکٹ کے تحت شوگر ملز کو یکم اکتوبر سے چلنا تھا لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک شوگر ملز نہیں چل سکیں اور نہ ہی شوگر ملز نے اپنے بوائلرز کو گرم کیا ہے، یہ عمل سندھ کی زراعت کو تباہ کر سکتا ہے۔ ایوان زراعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ عالمی سطح پر دھان اور کپاس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے لیکن پاکستان خصوصاً سندھ میں نہ صرف کپاس بلکہ دھان کی قیمت بھی نہایت کم مقرر کی گئی ہے جس سے آبادگاروں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ کپاس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں فی من قیمت چار ہزار روپے ہے۔
جبکہ کراچی میں تاجر کپاس 32 سو روپے فی من کے حساب سے خرید رہے ہیں، حکومت اس معاملے کا فوری نوٹس لے تاکہ آبادگاروںکی بے چینی ختم ہو سکے۔ انھوں نے کہاکہ 4 سال سے دھان کی امدادی قیمت میں اضافہ ہی نہیں کیا گیا۔
جس کی وجہ سے چاول کیکاشتکاروں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے اور حکومت کی اس معاملے میں پراسرار خاموشی سے سندھ کی زرعی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ اجلاسکے شرکا کا کہنا تھا کہ سندھ کے آبادگار طویل عرصے سے پانی کیقلت کیخلاف اسلام آباد میں احتجاج کر رہے ہیں ان کے مسائل حل کرانے کیلیے حکومت سنجیدہ کوشش کرے۔ اجلاس سے آغا نصراﷲ خان، میر امداد علی، نبی بخش سٹھیو، میر عبدالکریم تالپور، آغا خادم حسین شاہ، ڈاکٹر روشن علی کھوسو اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔