دو فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے 2 درجن سے زائد مختلف اشیائے ضروریہ پر2فیصد اضافی سیلزٹیکس عائد کردیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق۔۔۔
آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد ریونیو اکٹھا کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ جن اشیا پر2فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ فوٹو: فائل
وفاقی حکومت نے 2 درجن سے زائد مختلف اشیائے ضروریہ پر2فیصد اضافی سیلزٹیکس عائد کردیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حکومت نے یہ اقدام آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے اٹھایا ہے۔ آئی ایم ایف نے جی ڈی پی کے 0.4 فیصد ریونیو اکٹھا کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ جن اشیا پر2فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے، مینوفیکچررز کو ان اشیا کی پرچون قیمتیں پیکنگ میٹریل پر پرنٹ نہیں کرنا پڑیں گی۔ جن اشیا پر2 فیصد اضافی سیلزٹیکس عائد کیا گیا ہے، ان میں اسلحہ، گولہ بارود، مٹھائیاں، بسکٹ، ٹافیاں، چاکلیٹ، ائیرکنڈیشنر، ریفریجریٹر، مائیکرو ویو اوون، پینٹ، ڈسٹمپر، وارنش، ٹائر، ٹیوب اور بیٹریاں، آٹو پارٹس اور اسیسریز، لبریکنٹ آئل، بریک فلیوڈ، ٹرانسمشن فلیوڈ، ٹیپ ریکارڈر اینڈ پلیئر سمیت گھریلو استعمال کی دیگر الیکٹرک اشیا، کوکنگ رینج، گیزر، اوون، گیس ہیٹر، الیکٹرک بلب، ٹیوب لائٹ، پنکھے، الیکٹرانک استری، واشنگ مشین، ٹیلی ویژن، ٹیلی فون سیٹ، سمیت گھریلو استعمال کی دیگر الیکٹرانک مصنوعات، اسٹوریج بیٹریاں، فوم اور اسپرنگ میٹرس، فوم کی تیار کردہ دیگر تمام گھریلو مصنوعات، انیملز، لیکرز، پالش اور ٹائلز شامل ہیں۔
بعض اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 30ارب سے زائد کا ریونیو شارٹ فال ہے جسے پورا کرنے اور آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے یہ اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ٹیلی ویژن سیٹ، ٹیلی فون سیٹ، گھریلو استعمال کے گیس اور بجلی کے آلات سمیت دیگر اشیاء پر صرف مینوفیکچررز کی سطح پردو فیصد اضافی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا لیکن اس کے بعد کے بعد مراحل پر ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کی سطح پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے یقینی طور پر مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور اس سے عوام متاثر ہوں گے جب کہ حکومت ، کارخانے دار اور تاجر فائدے میں رہیں گے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ مینوفیکچرز اپنی مصنوعات کی قیمتیں پیکنگ میٹریل پر پرنٹ کر دیں۔ اس سے معیشت کی کی ڈاکومینٹیشن زیادہ بہترانداز میں ہو سکتی ہے۔ حکومت کے حالیہ فیصلے میں سب سے زیادہ فائدہ کارخانے دار اور تاجر ہی اٹھائیں گے۔
حکومت نے اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اب ہو گا یہ کہ جن اشیاء پر 2 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے، وہ عام صارف کو کئی گنا زیادہ قیمت پر ملیں گی۔ اس وقت بھی یہ ہو رہا ہے کہ بہت سے تاجر حضرات سیلز ٹیکس کا اندراج ہی نہیں کرتے اور چیز صارف کو بیچ دیتے ہیں۔ یوں اس کے منافع میں کی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے متمول طبقے کو ٹیکس نیٹ میں جکڑا جائے۔ وہ علاقے جہاں سے ٹیکس بہت کم حاصل ہو رہاہے وہاں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ بڑے بڑے اسٹوروں سے یومیہ بکری پر اضافی ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ اس طرح عوام کے منتخب نمائندے کم ازکم اپنی موجودہ آئینی مدت تک کے لیے اپنی مراعات سے دستبردار ہو جائیں تو بھی حکومت کو فائدہ مل سکتا ہے۔
بعض اطلاعات کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 30ارب سے زائد کا ریونیو شارٹ فال ہے جسے پورا کرنے اور آئی ایم ایف کی شرط پوری کرنے کے لیے یہ اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ ایف بی آر نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ ٹیلی ویژن سیٹ، ٹیلی فون سیٹ، گھریلو استعمال کے گیس اور بجلی کے آلات سمیت دیگر اشیاء پر صرف مینوفیکچررز کی سطح پردو فیصد اضافی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہوگا لیکن اس کے بعد کے بعد مراحل پر ہول سیلرز، ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کی سطح پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے سے یقینی طور پر مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور اس سے عوام متاثر ہوں گے جب کہ حکومت ، کارخانے دار اور تاجر فائدے میں رہیں گے۔ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے کہ مینوفیکچرز اپنی مصنوعات کی قیمتیں پیکنگ میٹریل پر پرنٹ کر دیں۔ اس سے معیشت کی کی ڈاکومینٹیشن زیادہ بہترانداز میں ہو سکتی ہے۔ حکومت کے حالیہ فیصلے میں سب سے زیادہ فائدہ کارخانے دار اور تاجر ہی اٹھائیں گے۔
حکومت نے اپنے خسارے کو پورا کرنے کے لیے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ اب ہو گا یہ کہ جن اشیاء پر 2 فیصد اضافی سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ہے، وہ عام صارف کو کئی گنا زیادہ قیمت پر ملیں گی۔ اس وقت بھی یہ ہو رہا ہے کہ بہت سے تاجر حضرات سیلز ٹیکس کا اندراج ہی نہیں کرتے اور چیز صارف کو بیچ دیتے ہیں۔ یوں اس کے منافع میں کی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ حکومت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس سے نکلنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے متمول طبقے کو ٹیکس نیٹ میں جکڑا جائے۔ وہ علاقے جہاں سے ٹیکس بہت کم حاصل ہو رہاہے وہاں سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ بڑے بڑے اسٹوروں سے یومیہ بکری پر اضافی ٹیکس عائد ہونا چاہیے۔ اس طرح عوام کے منتخب نمائندے کم ازکم اپنی موجودہ آئینی مدت تک کے لیے اپنی مراعات سے دستبردار ہو جائیں تو بھی حکومت کو فائدہ مل سکتا ہے۔