وزیربلدیات کی کارروائی 12غیرقانونی ہائیڈرینٹس مسمارکر دیئے گئے

کورنگی روڈ پر12 غیرقانونی ہائیڈرنٹ مسمارکرکے 2 درجن ٹینکرز ضبط کرلیے گئے۔

صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر کی زیرنگرانی کورنگی کے علاقے میں غیر قانونی ہائیڈرنٹ کو مسمار کیا جا رہا ہے(فوٹو ایکسپریس)

سندھ کے وزیر بلدیات اویس مظفر نے ہفتہ کو شہر کے مختلف علاقوں میں دورے کے دوران کورنگی روڈ پر قائم 12 غیرقانونی ہائیڈرنٹ مسمار کرادیے۔

جبکہ پولیس نے وہاں موجود 2 درجن سے زائد واٹر ٹینکر قبضے میں لے کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا، وزیر بلدیات نے واٹر بورڈ کورنگی کے ایک سپرنٹنڈنٹ انجینئر سمیت 5 افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیے جن میں سپرنٹنڈنٹ انجینئر کورنگی سعید شیخ ، ایگزیکٹو انجینئر راشد ایوب ، ایگزیکٹو انجینئر ابرار،شارق حادی اور نثار شامل ہیں جبکہ کارروائی میں متعدد ہائیڈرینٹس ٹھیکیدار بھی گرفتار کرلیے گئے۔

وزیر بلدیات نے پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ ان غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے ٹھیکیداروں اور ملوث واٹر بورڈ کے عملے کے خلاف تحقیقات کرکے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں،ہفتہ کو صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر نے کورنگی، گلشن اقبال اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا اس دوران انھوں نے کورنگی روڈ پر واقع ایک درجن سے زائد غیرقانونی ہائیڈرنٹس مسمار کرنے کے ساتھ وہاں موجود ٹینکرز کو قبضے میں لینے کے احکامات جاری کیے،کورنگی روڈ پر غیر قانونی طور پر ریتی اور بجری ذخیرہ کرنے اور غیر قانونی فروخت پر برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی کورنگی کو فوری طور پر کورنگی روڈ پر ریتی بجری ہٹانے اور وہاں جاری غیرقانونی فروخت کے خلاف کارروائی کے احکامات دیے ہیں۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو میں صوبائی وزیر بلدیات اویس مظفر نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی ان کی دہلیز تک پہنچانا حکومت کی ذمے داری ہے اور شہر میں قائم تمام غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف کارروائی شروع کردی گئی ہے وہ خود شہر کے مختلف علاقوں کا اچانک دورہ کرکے جہاں غیرقانونی ہائیڈرنٹ قائم ہوں گے ان کو نہ صرف مسمار کرائیں گے بلکہ اس غیر قانونی کام ملوث افراد کیخلاف بھی کارروائی کریں گے،اگر واٹر بورڈ کے اعلیٰ افسران بھی ان غیر قانونی کاموں میں ملوث ہوئے تو ان کے خلاف بھی سخت کارروائی ہوگی، مسمار ہائیڈرنٹس دوبارہ تعمیر کیے گئے تو مالکان اور ٹھیکیداروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔




صوبائی وزیر نے کہا کہ پولیس افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے کاروبار میں ملوث واٹر بورڈ کے افسران اور ہائیڈرنٹس مالکان اور ٹھیکیداروں کے خلاف تحقیقات کریں اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کریں ،عوام کو پینے کا صاف پانی فراہم کرنا ہماری اولین ذمے داری ہے اور یہ عوام کا بنیادی حق ہے اور اس میں کسی قسم کی لاپروائی برداشت نہیں کی جائے گی، کراچی میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس کے خلاف مستقل بنیادوں پر کارروائی شروع ہوگئی ہے،اویس مظفر نے اپنی موجودگی میں تمام ہائیڈرنٹس مسمار کرائے اور پولیس حکام کو ہدایت کی کہ تمام مشینری ضبط کرکے مقدمات قائم کیے جائیں۔

اس موقع پر مصطفیٰ میمن نامی شخص نے اویس مظفر سے ہاہینڈرنٹ مسمار نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ اویس مظفر کے دوست ہیں جس پر وزیر بلدیات نے حیران ہوکر کہا کہ وہ کیسے اویس مظفر کے دوست ہیں جو اویس مظفر کی صورت سے بھی واقف نہیں اور یہ تک نہیں پتہ کہ آپ کے سامنے خود اویس مظفر ہی کھڑا ہے،وزیر بلدیات کی ہدایت ایس پی کورنگی نے ٹھیکیدار مصطفیٰ میمن کو گرفتار کرلیا،وزیر بلدیات نے واٹر بورڈ کے ایم ڈی کو ہدایت کی کہ غیر قانونی ہائینڈرنٹس چلانے والے تمام افراد کو سرکاری چالان جاری کیے ہیں۔

تاکہ ماضی میں واٹر بورڈ کے پانی کو غیر قانونی طور پر بیچنے کا ازالہ ہوسکے اور واٹر بورڈ کے ریونیو میں اضافہ ہو،وزیر بلدیات تین گھنٹے تک ہائیڈرنٹس کا معائنہ کرتے رہے اور غیر قانونی ہائیڈرنٹس کی مسمار تک علاقے میں موجود رہے انھوں نے واٹر بورڈ کے اعلیٰ حکام کو متنبہ کیا کہ آئندہ پانی کی چوری میں جو بھی افسران ملوث پائے گئے انھیں اینٹی کرپشن پولیس کے حوالے کردیا جائے گا،عوامی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے اور ہر شہری تک پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔
Load Next Story