کینسر کو پچھاڑنے والے حنیف پوتے کی موت سے بکھر گئے

کرکٹ نے مجھے لڑنا سکھایا مگر2 دن سے آنکھیں برس برس کرتھک گئیں، سابق کپتان

انگلینڈ میں دوران علاج یوراج سمیت کئی کرکٹرز نے حال پوچھا، واپسی پر گفتگو۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے سابق عظیم بیٹسمین حنیف محمد انگلینڈ سے وطن واپس پہنچ گئے، کینسر جیسے موذی مرض کو پچھاڑنے والے فائٹر پوتے کی موت سے بکھر گئے، آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ کرکٹ نے مجھے لڑنا سکھایا مگر 2 دن سے آنکھیں برس برس کر تھک گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سابق کپتان لٹل ماسٹر حنیف محمدکینسر کے مرض سے صحتیاب ہوکر وطن واپس لوٹ آئے ، وہ اس تکلیف کی تشخیص کے بعد انگلینڈ گئے تھے جہاں کئی ماہ زیر علاج رہے، وہیں پر ہی ان کی کیمیو تھراپی کا بھی عمل شروع ہوا جس کے بقیہ مراحل سے وہ کراچی میں ہی گزریں گے۔ اس جان لیوا مرض کا لٹل ماسٹر نے ضعیف العمری کے باوجود جوانمردی سے مقابلہ کیا، ایک لمحے کیلیے بھی خوف و پریشانی چہرے پر نمودار نہیں ہوئی، وہ ویسے ہی ثابت قدم رہے جیسے اپنے کھیلنے کے دنوں میں خوفناک ترین اٹیک کے سامنے ڈٹ جایا کرتے تھے، مگر اس فولادی اعصاب کے مالک حنیف محمد کو اپنے عزیز پوتے ایان کی موت نے بُری طرح توڑ ڈالا۔ شعیب محمد کے 6 سالہ بیٹے کی وفات برین ٹیومر کے سبب تین روز قبل ہوئی تھی۔




حنیف محمد جب کراچی ایئرپورٹ پر پہنچے تو آنسوتھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے، وہ بُری طرح بکھر چکے تھے۔ اس موقع پر میڈیا سے مختصر گفتگو میں انھوں نے کہاکہ کرکٹ نے مجھے ہمیشہ لڑنا سکھایا، میں نے ہتھیار ڈالنا سیکھا ہی نہیں، میری کوشش ہوتی تھی کہ ٹیم اگر جیتے نہیں تو کم سے کم ہار کا بھی منہ نہ دیکھنا پڑے مگر پوتے کی موت نے مجھے توڑ دیا، گذشتہ 2روز سے آنکھیں آنسو بہا بہا کر تھک گئی ہیں۔شعیب محمد پہلے ہی کہہ چکے کہ حنیف اپنے اس پوتے سے بہت محبت کرتے اور اسی کے ساتھ ہی ناشتہ بھی کیا کرتے تھے، اب ناشتے کی میزپر وہ ایان کی کمی شدت سے محسوس کریں گے۔ دوران علاج حنیف محمد کی دنیا کے کئی کرکٹرز نے عیادت کی، وہ اس دوران بھی اپنے محبوب ترین کھیل کرکٹ سے دور نہیں ہوئے ۔
Load Next Story