تاجر برادری کا معیشت پراظہار تشویش

موسم یا محبوب کے مزاج کی طرح پالیسی بدلتی نہیں رہنی چاہیے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کے یوٹرن کی گنجائش موجود ہو۔

موسم یا محبوب کے مزاج کی طرح پالیسی بدلتی نہیں رہنی چاہیے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کے یوٹرن کی گنجائش موجود ہو۔ فوٹو : فائل

ملکی معیشت کو تاریخ اور عصرحاضرکے بدترین بحران کا سامنا ہے۔

واشگاف زمینی حقائق ہیں جن سے عوام کو سابقہ پڑتا ہے، ہر روزکسی نہ کسی بے بنیاد افواہ یا قیاس آرائیوں کے باعث تجارتی سرگرمیاں محدود ہونے اور بزنس کمیونٹی کی تشویش میں اضافے کی خبریں آتی ہیں، اقتصادی امور پر تضادات سے آلودہ تبصروں کا بازار گرم ہے، مہنگائی ، بے روزگاری اور جرائم ایسے لازم وملزوم ایشوز ہیں کہ اسے بدقسمتی سے حکومت کے معاشی مسیحاؤں میں کوئی پذیرائی نہیں ملتی۔ اسی طرح بجلی ،گیس اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عام آدمی کی زندگی جن مصائب میں مبتلا ہے۔

اس کا حکمرانوں کو کوئی ادراک نہیں، ادھر بے اندازہ قرض لینے سے پیدا شدہ مسائل پر ارباب اختیارکا نقطہ نظر ایک ہی استدلال سے پیوست ہے کہ سب کچھ تو پچھلی دو حکومتوںکا بیس سال کاکیا دھراہے، ہمارا کیا اس سے لینا دینا ، جب کہ ماہرین معیشت کے نزدیک پہلو تہی اور حقیقت سے گریزکا رویہ اور حکمت عملی میں یکسانیت غیرحقیقت پسندانہ ہے اور یہی انداز نظر(perception)اس ساری خرابی کی جڑہے۔ یوں معاشی جمود اور اقتصادی بریک تھروکا ہر امکان میڈیا میں لایعنی بحث اورکنفیوزن کی شکل میں نکلتا ہے، ایک طرف حکومت معاشی صورتحال سے غیر معمولی الجھن کا شکار ہے۔

دوسری جانب معاشی مسیحاؤں کو پاس کسی درد کا کوئی درمان نہیں کہ کریں توکیا کریں۔ بنیادی حقیقت قطعی واضح ہے کہ معاشی پالیسیوں میں کسی سمت کے تعین کا فقدان ہے۔ پالیسی یہی ہے کہ کوئی پالیسی نہیں جب کہ ایک مربوط اقتصادی ، مالیاتی اور معاشی روڈ میپ کے بغیرکام کیسے چلے گا۔ یقینی معاشی سفرکے شاندار آغاز سے معذوری تو پوری معیشت کو مفلوج سناریو سے جوڑ دے گی اس کا حکومت کو فوری احساس ہونا چاہیے۔

بلاشبہ ہر ذی شعور پاکستانی کے لیے آج معاشی بے یقینی ایک سوالیہ نشان ہے۔ عوام معاشی ریلیف چاہتے ہیں۔ ایک ایسے سیاسی ، سماجی اور معاشی نظام سے جڑنے کا انھیں احساس ملنا چاہیے جو مملکت کے ستونوں میں یکجائی، استحکام اور ہم آہنگی کا مظہر ہو، جس کا سیاسی مفروضوں سے کوئی تعلق نہ ہو یا حکومتی اقتصادی سمت سازی سے کسی مخاصمت کا شائبہ نہیں ملتا۔ سب کو نظر آنا چاہیے کہ حکومت کس سمت ملکی معیشت کے قافلے کو لے جانے پرکمربستہ ہے۔

یہ تو قوم کو یقین ہونا چاہیے کہ معاشی لحاظ سے '' منزل کہاں ہے تیری اے لالہ صحرائی''۔ مزید برآں حکومتی ترجیحات شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے ہوں۔ مہنگائی بے قابو ہے، ایک سال میں مہنگائی کی رفتار دگنی ہوگئی، ستمبر میں افراط زر کی شرح 11.4فیصد تک پہنچ گئی۔ کھانے پینے کی اشیاء، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات، صحت و تعلیم کے اخراجات اور تعمیراتی مٹیریل بھی مہنگا ہوگیا۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق ستمبر 2018 میں افراط زر کی شرح 5.4 فیصد تھی، جولائی تا ستمبر میں افراط زرکی شرح 10.08 فیصد رہی، شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح ستمبر میں 11.6 فیصد رہی، اگست میں شہری مہنگائی 10عشاریہ6 فیصد تھی، دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 11عشاریہ 1فیصد رہی، ستمبر 2018 کے مقابلے میں ستمبر 2019 میں کھانے پینے کی اشیاء کی قیمت میں 15.83 فیصد اضافہ ہوا۔


پھل سبزیوں اور دیگر تازہ غذائی اجناس کی قیمت میں 26.68 فیصد،گھروں کے کرایوں، پانی، بجلی گیس اور ایندھن کی قیمتوں میں 6.62 فیصد ، صحت کے اخراجات ایک سال میں 11.67 فیصد ، تعلیمی اخراجات میں 6.18 فیصد، ٹرانسپورٹ کی لاگت 17.76 فیصد ، ملبوسات اور فٹ ویئرزکی قیمتیں 8.94فیصداضافہ ہوا، ایک سال میں پیاز 109 فیصد، مرغی 78 فیصد، دال مونگ 47 فیصد مہنگی ہوگئی، چینی کی قیمت میں 37 فیصد اضافہ ہوا، آلو کی قیمت 36 فیصد، دال ماش 36 فیصد، تازہ سبزیاں 28 فیصد مہنگی ہوئیں، خوردنی تیل کی قیمت 20 فیصد گھی کی قیمت 18 فیصد بڑھ گئی۔

چائے کی پتی 16 فیصد ، مسور کی دال 13 فیصد مہنگی ہوئی، گوشت کی قیمت 14 فیصد، آٹا 12 فیصد مہنگا ہوگیا، خشک دودھ 11 فیصد گندم کی قیمت میں 10.12 فیصد مہنگا ہوا ، ستمبر 2018 کے مقابلے میں ستمبر 2019 میں گیس کی قیمت 115 فیصد بڑھ گئی، پیٹرول کی قیمت میں 22 فیصد، تعمیراتی میٹریل کی قیمت 19 فیصد، ڈاکٹروں کی فیس 16 فیصد، گاڑیوں کی قیمت میں 21 فیصد،گاڑیوں کے پرزہ جات کی قیمت میں 21 فیصد تک اضافہ ہوا۔ لازم ہے کہ بے روزگاری، جرائم کے خاتمے اور نتیجہ خیزومربوط اقتصادی پالیسیوں میں استقامت ہو۔ جو پالیسی طے پا جائے اس پر ثابت قدمی سے عملدرآمد ہونا چاہیے۔

موسم یا محبوب کے مزاج کی طرح پالیسی بدلتی نہیں رہنی چاہیے اور نہ ہی اس میں کسی قسم کے یوٹرن کی گنجائش موجود ہو۔ان حقائق پر وفاقی کابینہ ، بیوروکریسی، حکومت اور وزیراعظم عمران خان کے سا منے کھلی بحث اس لیے ضروری ہے کہ اس نے بزنس کمیونٹی کو ملک گیر معاشی صورتحال سے تشویش میں مبتلا کیا ہے۔ میڈیا کے مطابق تاجر اور صنعتکار برادری نے اپنی تشویش سے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کو آگاہ کیا ہے، اطلاعات کے مطابق کاروباری طبقے نے آرمی چیف سے ایک عشائیہ میں غیر رسمی ملاقات کی جس میں تاجر برادری نے بعض مسائل بیان کیے۔

معاشی اورکاروباری مشکلات پر معاملات پر حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کیا اور تجارتی جمود سے متعلق بعض چشم کشا حقائق ان کے سامنے رکھے۔ تاجر برادی کاکہنا تھا کہ ایک طرف جی ڈی پی میںکمی آئی ہے، دوسری طرف ریونیواور ٹیکسز میں اضافہ ہورہا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے، ان کے پاس تیار مال کا کوئی خریدار نہیں، تاجر کمیونٹی کے بقول آمدنی بڑھانے کے لیے بزنس کمیونٹی کو نچوڑا جارہا ہے، خوف وہراس کا ماحول ہے،کاروباری طبقہ نے آرمی چیف سے شکایت کی کہ ملک میں کاروبار کی بڑھتی ہوئی لاگت سے انھیں بزنس کو معاشی لحاظ سے سازگار سطح پر رکھنے میں دشواریوں کا سامنا ہے۔

حکومت صرف زبانی یقین دہانیاں کرتی ہے، عملاً کچھ نہیں ہورہا ، مختلف صنعتی یونٹس بند ہورہے ہیں ، مزدوروں کی چھانٹیاں ناگزیر ہوجائیں گی ، سرمایہ کاری سکڑگئی ہے، بزنس بڑھنے کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔ بتایا جاتا ہے کہ آرمی چیف نے وفد کی معروضات کو ہمدردی و غور سے سنا ،انھوں نے کاروباری طبقے کی قربانیوں اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ پاکستان سے سب کو محبت ہے، انھوں نے کاروباری برادری کو یقین دلایا کہ حکومت ان کی مشکلات دور کردے گی۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ تاجر برادی حکومت مخالف قوتوں کی کبھی حمایت نہ کرے۔ وہ حکومت سے تعاون کریں۔ میڈیاکے مطابق ملاقات میں نامور کاروباری شخصیات سمیت پاکستان بزنس کونسل ، ٹیکسٹائل اور دیگر ممتاز تاجر شخصیات شامل تھی۔ادھر ترجمان چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو مصطفیٰ نواز کھوکھر نے ارباب اختیار پر کڑی نکتہ چینی کہ معیشت بیٹھ گئی ہے، مگر حکومت کو کوئی ادراک نہیں، انھوں نے بجلی کی قیمتوں میں دوسری بار اضافہ کو مسترد کیا اور اور کہا عوام پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ عوام سے کاروبار چھینا جا رہا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے حکومت ریلیف پر مبنی معاشی پالیسیوں کا اعلان کرے۔ عوام دوست اقدامات نہ ہوئے تو مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔ ملکی معیشت کو بھنور سے نکالنا حکومت کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔
Load Next Story