بلوچستان میں بھارتی مداخلت…پاکستان موثر احتجاج کرے
وزیراعظم نوازشریف نے امریکا میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت سے متعلق آگاہ کر دیاتھا۔۔۔
وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکا کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت سے متعلق آگاہ کر دیا تھا، سیکریٹری خارجہ فوٹو: اے ایف پی
سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ہفتے کواسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کے دورہ امریکا کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت سے متعلق آگاہ کر دیا تھا اور اس حوالے سے ثبوت بھی پیش کر دیے تھے اور اس مسئلہ کو عالمی رہنمائوں کے سامنے بھی رکھا گیا تھا۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگو سے قبل سینیٹ کی امور خارجہ کمیٹی کو بھی صورت حال سے آگاہ کیا ۔
بلوچستان کے حالات ایک طویل عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں جہاں بم دھماکے' سرکاری تنصیبات اور سیکیورٹی اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں ۔ایک جانب مرکز گریز گروہ تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب فرقہ ورانہ بنیادوں پر خون کی ہولی بھی کھیلی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے بگڑتے حالات کو حکومت نے سنوارنے کے لیے متعدد اقدامات کیے مگر معاملات قابو میں نہیں آ رہے۔ رخصت ہونے والی پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے ایک پیکیج دیا'لیکن یہ بھی کوئی مثبت نتائج پیدا نہ کر سکا۔بلوچستان میں بد امنی کی بنیادی وجہ غیر ملکی مداخلت ہے۔ متعدد مواقعے پر یہ حقائق منظر عام پر آئے کہ بلوچستان کے حالات بگاڑنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے'بھارت کا نام بھی کئی بار سامنے آیا لیکن اس حوالے سے کبھی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔معاملات صرف باتوں تک محدود رہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ایک ملاقات کے موقعے پر من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے تھے 'اب ایک بار پھر نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعدوزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں من موہن سنگھ کو بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ جب بھارت کو اس کی مداخلت کے ثبوت پیش کیے جا رہے ہیں تو پاکستان کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورم پر اس مسئلے کو بھر پور انداز میں اٹھانا چاہیے اور کسی قسم کی سستی اور لاپروائی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ صرف ثبوت فراہم کرنا کافی نہیں پاکستان کو بھارت سے احتجاج کرنا چاہیے۔
بھارت نے ممبئی حملوں کا پاکستان پر الزام لگا کر پوری دنیا میں واویلا مچا دیا یہاں تک کہ بھارتی مہم کے نتیجے میں امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی اس حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھانا شروع کر دیا۔ بھارتی پراپیگنڈہ اس قدر موثر تھا کہ وہ پوری دنیا کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور پاکستان کو بدنام کرنے میں کامیاب رہا۔ پاکستان کو بھی معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے بلوچستان میں لگائی بھارتی آگ کے حوالے سے پوری دنیا کو آگاہ کرنا اور بھارت پر دبائو بڑھانا چاہیے کہ وہ بلوچستان میں مداخلت سے باز رہے۔ ملکی سلامتی سب سے اہم ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کشمیر اور ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر مداخلت اور دہشت گردی کے الزامات کی بوچھاڑ کرتا رہتا ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جب کہ وہ خود پاکستان کے اندرونی معاملات بگاڑنے کی سازش میں ملوث ہے جس کے ثبوت بھی پاکستان نے اسے فراہم کر دیے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ نے بھی اس صورتحال پر کہا کہ اگر دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کے پاکستان کے بارے میں تحفظات ہیں تو ہمیں ان سے زیادہ تحفظات ہیں۔
سیکریٹری خارجہ نے بھارت سے تعلقات کے حوالے سے یہ عندیہ دیا کہ بھارت واویلا اور الزام تراشی کے بجائے مذاکرات کی طرف قدم بڑھائے' الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ دہشت گردی دونوں ملکوں کے لیے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہتر راستہ ہے۔ سیکریٹری خارجہ کی گفتگو سے حکومتی پالیسی واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان خطے میں ہمسایہ ممالک کی جانب سے پیدا کردہ مسائل کے باوجود واویلا کرنے کے بجائے تحمل اور زیرکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان بار بار اس عزم کا اظہار کر رہا ہے کہ وہ خطے کے مسائل جارحانہ انداز میں حل کرنے کے بجائے انھیں مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کا متمنی ہے۔ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی کئی بار دعوت دی ہے اور اب سیکریٹری خارجہ نے اس امر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نعم البدل نہیں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے پیدا کردہ پانی کے مسائل اور دہشت گردی سمیت تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ نیو یارک میں وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کر کے پوری دنیا کو اچھا پیغام دیا کہ پاکستان جنگ نہیں امن اور مذاکرات چاہتا ہے۔
اس ملاقات کو روکنے کے لیے امن کے دشمنوں نے ہر حربہ آزمایا مگر وزیر اعظم نواز شریف نے ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ اب بھارتی حکومت کو الزام تراشیاں ترک کر کے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ علاوہ ازیں جہاں تک ڈرون حملوں کا معاملہ ہے سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں وزیر اعظم نواز شریف نے مختلف رہنمائوں سے ملاقات میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان حملوں سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان بھی پاکستان سے مذاکرات کے لیے یہ شرط عائد کر چکے ہیں کہ ڈرون حملے بند کرائے جائیں۔ لیکن یہ امر مدنظر رہنا چاہیے کہ پاکستان امریکا سے بارہا اس کا مطالبہ کر چکا ہے اور اب بھی کر رہا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت متعدد مسائل میں گِھر چکا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بھارت کی جانب سے پیدا کردہ پانی کا مسئلہ اور دہشت گردی اور ڈرون حملے پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لیے امن اور مذاکرات کا راستہ اپنانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ بھارتی حکومت پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے کیونکہ جارحیت سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔
بلوچستان کے حالات ایک طویل عرصے سے خراب چلے آ رہے ہیں جہاں بم دھماکے' سرکاری تنصیبات اور سیکیورٹی اداروں پر حملے معمول بن چکے ہیں ۔ایک جانب مرکز گریز گروہ تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تو دوسری جانب فرقہ ورانہ بنیادوں پر خون کی ہولی بھی کھیلی جا رہی ہے۔ بلوچستان کے بگڑتے حالات کو حکومت نے سنوارنے کے لیے متعدد اقدامات کیے مگر معاملات قابو میں نہیں آ رہے۔ رخصت ہونے والی پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے آغاز حقوق بلوچستان کے نام سے ایک پیکیج دیا'لیکن یہ بھی کوئی مثبت نتائج پیدا نہ کر سکا۔بلوچستان میں بد امنی کی بنیادی وجہ غیر ملکی مداخلت ہے۔ متعدد مواقعے پر یہ حقائق منظر عام پر آئے کہ بلوچستان کے حالات بگاڑنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہے'بھارت کا نام بھی کئی بار سامنے آیا لیکن اس حوالے سے کبھی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔معاملات صرف باتوں تک محدود رہے۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ایک ملاقات کے موقعے پر من موہن سنگھ کو بلوچستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے تھے 'اب ایک بار پھر نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعدوزیراعظم میاں نواز شریف اور وزیراعظم من موہن سنگھ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں من موہن سنگھ کو بھارتی مداخلت کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں۔ جب بھارت کو اس کی مداخلت کے ثبوت پیش کیے جا رہے ہیں تو پاکستان کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورم پر اس مسئلے کو بھر پور انداز میں اٹھانا چاہیے اور کسی قسم کی سستی اور لاپروائی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ صرف ثبوت فراہم کرنا کافی نہیں پاکستان کو بھارت سے احتجاج کرنا چاہیے۔
بھارت نے ممبئی حملوں کا پاکستان پر الزام لگا کر پوری دنیا میں واویلا مچا دیا یہاں تک کہ بھارتی مہم کے نتیجے میں امریکا اور اقوام متحدہ نے بھی اس حوالے سے پاکستان پر دبائو بڑھانا شروع کر دیا۔ بھارتی پراپیگنڈہ اس قدر موثر تھا کہ وہ پوری دنیا کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور پاکستان کو بدنام کرنے میں کامیاب رہا۔ پاکستان کو بھی معذرت خواہانہ رویہ ترک کر کے بلوچستان میں لگائی بھارتی آگ کے حوالے سے پوری دنیا کو آگاہ کرنا اور بھارت پر دبائو بڑھانا چاہیے کہ وہ بلوچستان میں مداخلت سے باز رہے۔ ملکی سلامتی سب سے اہم ہے اس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کشمیر اور ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر مداخلت اور دہشت گردی کے الزامات کی بوچھاڑ کرتا رہتا ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا جب کہ وہ خود پاکستان کے اندرونی معاملات بگاڑنے کی سازش میں ملوث ہے جس کے ثبوت بھی پاکستان نے اسے فراہم کر دیے ہیں۔ سیکریٹری خارجہ نے بھی اس صورتحال پر کہا کہ اگر دہشت گردی کے معاملے پر بھارت کے پاکستان کے بارے میں تحفظات ہیں تو ہمیں ان سے زیادہ تحفظات ہیں۔
سیکریٹری خارجہ نے بھارت سے تعلقات کے حوالے سے یہ عندیہ دیا کہ بھارت واویلا اور الزام تراشی کے بجائے مذاکرات کی طرف قدم بڑھائے' الزام تراشی سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ دہشت گردی دونوں ملکوں کے لیے اہم اور بنیادی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہتر راستہ ہے۔ سیکریٹری خارجہ کی گفتگو سے حکومتی پالیسی واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان خطے میں ہمسایہ ممالک کی جانب سے پیدا کردہ مسائل کے باوجود واویلا کرنے کے بجائے تحمل اور زیرکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے بہتر تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان بار بار اس عزم کا اظہار کر رہا ہے کہ وہ خطے کے مسائل جارحانہ انداز میں حل کرنے کے بجائے انھیں مذاکرات کے ذریعے سلجھانے کا متمنی ہے۔ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات کی کئی بار دعوت دی ہے اور اب سیکریٹری خارجہ نے اس امر کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نعم البدل نہیں۔ پاکستان مسئلہ کشمیر اور بھارت کی جانب سے پیدا کردہ پانی کے مسائل اور دہشت گردی سمیت تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔ نیو یارک میں وزیر اعظم نواز شریف نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کر کے پوری دنیا کو اچھا پیغام دیا کہ پاکستان جنگ نہیں امن اور مذاکرات چاہتا ہے۔
اس ملاقات کو روکنے کے لیے امن کے دشمنوں نے ہر حربہ آزمایا مگر وزیر اعظم نواز شریف نے ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیا۔ اب بھارتی حکومت کو الزام تراشیاں ترک کر کے پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی دعوت کا مثبت جواب دینا چاہیے۔ علاوہ ازیں جہاں تک ڈرون حملوں کا معاملہ ہے سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا میں وزیر اعظم نواز شریف نے مختلف رہنمائوں سے ملاقات میں ڈرون حملوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان حملوں سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ طالبان بھی پاکستان سے مذاکرات کے لیے یہ شرط عائد کر چکے ہیں کہ ڈرون حملے بند کرائے جائیں۔ لیکن یہ امر مدنظر رہنا چاہیے کہ پاکستان امریکا سے بارہا اس کا مطالبہ کر چکا ہے اور اب بھی کر رہا ہے کہ ڈرون حملے دہشت گردی کم کرنے کے بجائے اس میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ پاکستان اس وقت متعدد مسائل میں گِھر چکا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بھارت کی جانب سے پیدا کردہ پانی کا مسئلہ اور دہشت گردی اور ڈرون حملے پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہیں۔ حکومت ان مسائل سے نمٹنے کے لیے امن اور مذاکرات کا راستہ اپنانے کا عندیہ دے رہی ہے۔ بھارتی حکومت پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خطے کے مسائل حل کرنے کے لیے جارحانہ انداز اپنانے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے کیونکہ جارحیت سے مسائل بڑھتے ہیں کم نہیں ہوتے۔