سوڈانی عوام کی تحریک…

سوڈان کی حکومت نےپٹرولیم مصنوعات پردی جانےوالی سبسڈی واپس لےلی جس کی وجہ سےپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

سوڈان کی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر دی جانے والی سبسڈی واپس لے لی جس کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ اس اضافے کے خلاف سارے سوڈان میں لاکھوں عوام سڑکوں پر آگئے، سوڈان کے صدر مقام خرطوم میں پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو دن کے اندر اندر 150 مظاہرین ہلاک ہوگئے۔ سوڈان میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ خرطوم میں دو دن کے دوران 150 مظاہرین پولیس کی گولیوں سے ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سوڈان میں شروع ہونے والے مظاہرے ''عرب بہار'' کا حصہ نظر آتے ہیں۔

پسماندہ ملکوں میں عوامی استحصال، عوامی تفریق کو قابو میں رکھنے کے لیے ان ملکوں کے حکمران ضروری اشیائے صرف پر سبسڈی دے کر ان اشیا کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی گندم، چینی، پٹرولیم مصنوعات سمیت کئی اشیائے صرف پر حکومتیں سبسڈی دے کر ان کی قیمتوں کو بڑھنے سے روکتی رہی ہیں لیکن ان ملکوں کی مجبوری یہ ہے کہ ان ملکوں کی معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے عالمی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف، ورلڈ بینک جیسے اداروں سے بھاری سود اور بد ترین عوام دشمن شرائط پر قرض لینا پڑتا ہے۔ نواز حکومت جو پیپلزپارٹی پر کشکول اٹھائے عالمی مالیاتی اداروں سے ان کی شرائط پر قرض لینے کے طعنے دیتی رہتی تھی اب برسر اقتدار آنے کے بعد پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کشکول اٹھائے ان کی خدمت میں حاضر ہے اور ان کی شرائط پر قرض حاصل کررہی ہے، ان شرائط میں مختلف اشیاء اور سروسز پر سبسڈی کا خاتمہ اور مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ٹیکسوں میں اضافہ بھی شامل ہے۔

جی ایس ٹی میں اضافہ، پٹرولیم، بجلی، گیس کی قیمتوں میں اضافہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ موجودہ حکومت آٹے، پٹرول، بجلی، گیس کی قیمتوں میں جو بار بار اضافہ کررہی ہے وہ دراصل آئی ایم ایف کی شرائط کا ایک حصہ ہے۔ ابھی پٹرول، ڈیزل، مٹی کے تیل میں جو غیر معمولی اضافہ ہوا ہے وہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ہم نے پاکستان میں آئی ایم ایف کی مہربانیوں کا ذکر اس لیے کیا کہ سوڈان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ آئی ایم ایف کی شرائط ہی کا ایک حصہ ہے۔ سوڈانی عوام اس ظلم کے خلاف سڑکوں پر آگئے ہیں تو ریاستی پولیس ان پر وحشیانہ انداز میں گولیاں چلاتی رہی، پورا ملک عوامی ہیجان کی زد میں ہے۔

پاکستان سمیت دیگر پسماندہ ملکوں کا المیہ یہ ہے کہ ان ملکوں میں سیاسی اشرافیہ نے لوٹ مار کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے اس کی وجہ قومی دولت کا ایک بہت بڑا حصہ اس مٹھی بھر اشرافیائی خاندانوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے اور ان ملکوں کے عوام اپنی محنت کی کمائی سے محروم ہوگئے ہیں۔ مہنگائی، بجلی، گیس، پٹرولیم اور اشیائے صرف کی قیمتوں میں نا قابل برداشت اضافے کی وجہ اشرافیائی کی لوٹ مار ہے، اگر حکمران عوام دوست ہوں تو لوٹ مار کی اس دولت کو سبسڈی دینے میں لگاسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ اشرافیہ عوام کی لوٹی ہوئی دولت کو عوام پر خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں اور عالمی مالیاتی اداروں سے ان کی کڑی شرائط پر قرض لے کر عوام کے مسائل حل کرنے کی پالیسی پر گامزن رہتی ہے لہٰذا وہی صورت پیدا ہوتی ہے جو سوڈان میں پیدا ہوگئی ہے، مشرق وسطیٰ اس صورت حال سے گزر چکا ہے اور پاکستان اس صورت حال کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہے۔


اس حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ عوامی اشتعال، عوامی نفرت، عوام کی نظام بدلنے کی خواہش کو عوام دشمن طاقتیں مختلف روپ دھار کر ہائی جیک کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ آج مشرق وسطیٰ کی بے مثال عوامی تحریکیں عوام دشمنوں نے ہائی جیک کرلی ہیں اور امکان یہی ہے کہ سوڈان کی عوامی تحریک کو بھی عوام دشمن طاقتیں ہائی جیک کرلیںگی اور عوام کی جانی قربانیاں ان ہائی جیکروں کی بھینٹ چڑھ جائیںگی۔ اس حوالے سے سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے پسماندہ ممالک کی امداد کے نام پر جو ڈھونگ رچائے ہوئے ہیں کیا وہ واقعی پسماندہ ممالک کے عوام کی مدد کررہے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام ادارے پسماندہ ملکوں کی مدد کے نام پر پسماندہ ملکوں کے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ ادارے پسماندہ ملکوں کو ایسی کڑی شرائط کے ساتھ قرض دیتے ہیں کہ ان ملکوں کے عوام مزید مہنگائی اور مزید ٹیکسوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

ان مالیاتی اداروں کی شرائط میں سب سے بڑی شرط سبسڈی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ پسماندہ ملکوں کے حکمران عوام کی بنیادی ضرورت کی اشیا مثلاً اجناس، بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات وغیرہ پر سبسڈی یعنی حکومتی امداد کے ذریعے عوام کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن عالمی مالیاتی ادارے نہ صرف سبسڈی کے خاتمے کو شرط اول کے طورپر قرض لینے والے ملکوں کے سامنے رکھتے ہیں بلکہ مختلف ضروری اشیا اور سروسز کی قیمتوں میں اضافے کو بھی ان شرائط میں شامل کرتے ہیں، اگر پسماندہ ملکوں کے حکمران عوام سے مخلص ہوں تو ان مالی مشکلات کا ازالہ عالمی مالیاتی اداروں سے مشروط قرض لینے کے بجائے کالے دھن کو باہر لاکر اور مالدار طبقات پر ٹیکس لگاکر کرسکتے ہیں۔ لیکن چونکہ بدقسمتی سے یہ لٹیرے طبقات سیاست اور اقتدار دونوں پر قابض ہیں لہٰذا وہ تمام مالی بوجھ مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافے وغیرہ کو غریب طبقات کے سر منڈھ دیتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی عوامی تحریکیں دراصل حکمران طبقات کی لوٹ مار اور خاندانی حکمرانوں کے خلاف بغاوت تھی، لیکن یہ مستحکم بغاوت اس لیے نامراد رہ گئی کہ اس بغاوت کی رہنمائی کرنے والی اور اسے مثبت سمت دینے والی طاقتیں ان ملکوں میں موجود نہ تھیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ منفی اور عوام دشمن طاقتیں آگے آئیں اور عوامی تحریکوں کو ہائی جیک کرکے ان مقاصد کو پس پشت ڈال دیا جو ان تحریکوں کے محرک تھے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ عوام ایک بار پھر مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوگئے اور یہ ملک افراتفری کے شکار ہیں۔ آج کا مشرق وسطیٰ اسی کیفیت کا شکار ہے۔

سوال یہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے رکھوالے پسماندہ ملکوں میں ایسی قیادت کو آگے آنے کیوں نہیں دیتے جو عوام اور ان کے مستقبل سے مخلص ہوتی ہے اور عوام کے مسائل کی اصل وجہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف عوام کو متحرک کرسکتی ہے۔ افسوس ہی نہیں شرم کا مقام ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرست اور محافظ سامراجی ملک سرمایہ دارانہ نظام کی ایجنٹ جمہوریت کو عوام کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بعض صورتوں میں اس کا استعمال بھی مشکل ہوجاتا ہے جس کی تازہ مثال شام ہے۔ شام کا حکمران بشارالاسد اس خطے میں امریکا کے دشمن کی حیثیت سے پہچانا جاتا ہے اور امریکا کی ضرورت یہ ہے کہ اس پورے خطے میں اپنی تابعدار حکومتیں قائم کرے۔ بشارالاسد حکومت کے خلاف جو جمہوری تحریک امریکا اور اس کے حامی ملکوں نے چلائی اس تحریک میں القاعدہ اور دوسری مذہبی انتہا پسند تنظیموں کے لاکھوں کارکنوں کو استعمال کیا جارہا ہے اور ان کی بھرپور مالی اور فوجی مدد کی جارہی ہے۔ یہ کھیل مختلف شکلوں میں تقریباً تمام پسماندہ ملکوں میں کھیلا جارہا ہے۔

سوڈان کے عوام سبسڈی کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آگئے ہیں اور اب تک 150سوڈانی اپنی جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ سوڈانی پولیس بھی سوڈان کے غریب عوام ہی پر مشتعل ہے لیکن اس شاطر سرمایہ دارانہ نظام نے ہر جگہ مختلف حوالوں سے عوام کو تقسیم کرکے انھیں ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔ یہ صورتحال صرف سوڈان میں نہیں بلکہ پاکستان سمیت سارے پسماندہ ملکوں میں موجود ہے اور ڈر یہ ہے کہ سوڈانی عوام کی تحریک کو بھی کہیں ہائی جیک کرکے اسے بے نتیجہ نہ بنادیا جائے۔ یہ کھیل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک عوام دوست طاقتیں انتشار کا شکار رہیںگی اور عوام کی نظروں سے دور رہیںگی۔
Load Next Story