کچرا میدانوں اور پارکوں میں پھینکا جانے لگا

نیشنل پارک میں کافی عرصے سے روزانہ ہزاروں ٹن کچرا ،صنعتی فضلہ، ماربل کا فضلہ ڈمپ کیا جارہا ہے

صدر، وزیراعظم ، گو رنر ، وزیراعلیٰ ، میئر، کمشنرنوٹس لیں،مختلف اداروں کو پارک میں کچراڈمپ کرنے سے منع کیاجائے،آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی کاخط۔ فوٹو: فائل

BENI (DR CONGO):
مختلف اداروں اور شہریوں کی جانب سے کھلے میدانوں، پارکوں ،سڑکوں، گھروں کے باہر، نالوں میں اوردیگر مقامات پرکچراپھینکنے سے جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگ گئے۔

شہر میں کچرے اٹھانا اور اسے ٹھکانے لگانا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے اوراس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے صفائی مہم شروع کی گئی تاہم اب بھی کھلے میدانوں،پارکوں ،سڑکوں، نالوں اوردیگرمقامات پرکچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، مختلف اداروں نے شہر سے کچرا اٹھا کررہائشی آبادیوں اور پارکوں میں ڈمپ کر نا شروع کردیا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کوشدید مشکلات کاسامنا کرنا پڑرہا ہے۔

کے ایم سی آفیسرکو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی نے صدر ، وزیراعظم ، گو رنر سند ھ ، وزیر اعلیٰ ،میئرکراچی سمیت اعلیٰ حکام کو خط لکھ ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے قریب ہزاروں ٹن کچرا، صنعتی فضلہ، ماربل کا فضلہ ڈمپ کیا جا رہاہے جسے روکا جائے ورنہ رہائشی آبادیوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑیں گے۔


خط میں کہاگیا ہے کہ نیشنل پارک (گٹرباغیچہ ) جو 175ایکڑ پر محیط اور نیشنل پارک کی حیثیت رکھتا ہے۔ دن رات کچرا، صنعتی فضلہ ، ماربل کا فضلہ، جو ہزاروں ٹن ہوتا ہے کو پارک میں ڈمپ کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے گٹربا غیجہ کچراکنڈی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے،گندگی سے قریبی رہائشی آبادیوں کے مکینوں کوشدیدمشکلات کاسامناکرنا ہے اوران کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے جبکہ گندگی سے بیماریاں پھیلنے کابھی خدشہ ہے۔

کے ایم سی آفیسرکو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی نے خط میں صدرپاکستان ، وزیراعظم ، گو رنر ، وزیر اعلیٰ ، میئرکراچی ، کمشنر سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ مختلف اداروں کو (گٹر باغیجہ)نیشنل پارک میں کچرا ڈمپ کرنے سے منع کیاجائے تا کہ نیشنل پارک کی اصل شکل سامنے آسکے اورعوام پارک میں صحت مندانہ سرگر میاں شروع کرسکیں۔

علاوہ ازیں چیئرمین ضلع وسطی ریحان ہاشمی نے کہا کہ کچرا اٹھانے والے ادارے تاریخی مقامات بھی بدبو دارکررہے ہیں،کچرا اٹھانے والوں کو ڈمپنگ سائٹ پرڈالنے کا پابند کیا جائے،جہاں خالی جگہ دیکھی کچرا پھینک دیا جاتاہے، سندھ حکومت کے ماتحت ادارے واتر بورڈ کی نااہلی کے باعث گنجان آباد ضلع وسطی کی سڑکوں پر گندہ پانی جمع رہنے لگا جس سے لاکھوں روپے سے مرمت اور ازسرنو تعمیرسڑکیں تباہ ہوچکی ہیں ، سڑکوں کی تباہی سے ٹیکس کی مد میں جمع قوم کی رقوم کازیاں ہورہاہے۔

انھوں نے وزیراعلیٰ اور وزیربلدیات سے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ فراہمی اور نکاسی آب کے ادارے کے افسران کا قبلہ درست کیاجائے مسرکاری افسران کی نااہلی سے گلیاں اور بیشتر سڑکیں تالاب بنی ہوئی ہیں ۔
Load Next Story