شہر سے غیر قانونی مویشی منڈیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اویس مظفر
غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے،ہدایات پر عمل نہ ہوا تو متعلقہ حکام کیخلاف کارروائی کی جائیگی
عیدالاضحی سے قبل صفائی کے انتظامات کو مکمل اور آلائشیں اٹھانے کے لیے مربوط پلان مرتب کیا جائے، وزیر بلدیات۔ فوٹو: فائل
سندھ کے وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے کراچی میں غیر قانونی طور پر قائم مویشی منڈیوں کو ہٹانے اور ان کے قیام میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے فوری احکامات جاری کردیے۔
اتوار کو اپنے جاری بیان میں سندھ کے وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جو ازخود مویشی منڈیاں قائم کی گئی ہیں وہ غیر قانونی ہیں، ان غیر قانونی منڈیوں کے قیام کے سبب شہر میں ٹریفک جام سمیت مختلف مسائل پیدا ہورہے ہیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے،سید اویس مظفر نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ان غیر قانونی منڈیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور اگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انھوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پرقائم مویشی منڈیوں کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور جانوروں کی نقل وحمل کے دوران شاہراہوں پر پولیس کی پٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے۔
انھوں نے ایڈمنسٹریٹر کراچی اور پانچوں اضلاع کے میونسپل اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ عیدالاضحی سے قبل شہر میں صفائی کے انتظامات کو مکمل کیا جائے اور عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی آلائشیں اٹھانے کیلیے مربوط پلان مرتب کیا جائے،دوسری جانب سید اویس مظفر نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ کراچی پولیس اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے تعاون سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے، کراچی میں مسمار کیے گئے ہائیڈرنٹس اگر دوبارہ قائم ہوئے تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، علاوہ ازیں سندھ کے وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے ٹھٹھہ میں صفائی کی ناقص صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف میونسپل آفیسر سمیت 3افسران کو معطل کردیا،معطل کیے جانے والے افسران میں چیف میونسپل آفیسر علی شیر جعفری، چیف سینیٹری انسپکٹر غلام مصطفی خشک اور میونسپل انجینئر محمد اقبال شامل ہیں،انھوں نے کہا کہ ٹھٹھہ میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اتوار کو اپنے جاری بیان میں سندھ کے وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے کہا کہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جو ازخود مویشی منڈیاں قائم کی گئی ہیں وہ غیر قانونی ہیں، ان غیر قانونی منڈیوں کے قیام کے سبب شہر میں ٹریفک جام سمیت مختلف مسائل پیدا ہورہے ہیں جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے،سید اویس مظفر نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ ان غیر قانونی منڈیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے اور اگر ان ہدایات پر عمل نہیں کیا گیا تو متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، انھوں نے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ قانونی طور پرقائم مویشی منڈیوں کے اطراف سیکیورٹی کے انتظامات کو بہتر بنایا جائے اور جانوروں کی نقل وحمل کے دوران شاہراہوں پر پولیس کی پٹرولنگ میں اضافہ کیا جائے۔
انھوں نے ایڈمنسٹریٹر کراچی اور پانچوں اضلاع کے میونسپل اداروں کے سربراہان کو ہدایت کی کہ عیدالاضحی سے قبل شہر میں صفائی کے انتظامات کو مکمل کیا جائے اور عیدالاضحی کے موقع پر جانوروں کی آلائشیں اٹھانے کیلیے مربوط پلان مرتب کیا جائے،دوسری جانب سید اویس مظفر نے ایم ڈی واٹر بورڈ کو ہدایت کی کہ کراچی پولیس اور متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کے تعاون سے غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے، کراچی میں مسمار کیے گئے ہائیڈرنٹس اگر دوبارہ قائم ہوئے تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، علاوہ ازیں سندھ کے وزیر بلدیات سید اویس مظفر نے ٹھٹھہ میں صفائی کی ناقص صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف میونسپل آفیسر سمیت 3افسران کو معطل کردیا،معطل کیے جانے والے افسران میں چیف میونسپل آفیسر علی شیر جعفری، چیف سینیٹری انسپکٹر غلام مصطفی خشک اور میونسپل انجینئر محمد اقبال شامل ہیں،انھوں نے کہا کہ ٹھٹھہ میں صفائی ستھرائی کے حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔