کرائم برانچ پولیس نے ٹارگٹڈ آپریشن کو کمائی کا ذریعہ بنالیا

چھاپوں میں بے گناہوں کو پکڑا جاتا ہے، رہائی کے عوض رقم طلب کی جاتی ہے

رہائی کے عوض ایک سے2 لاکھ روپے طلب کیے جاتے ہیں 30 سے 60 ہزار روپے میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ فوٹو ایکسپریس/فائل

KARACHI:
کرائم برانچ پولیس نے دہشت گردوں ، ٹارگٹ کلرز اور بھتہ خوروں سمیت دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کو کمائی کا ذریعہ بنالیا۔

کرائم برانچ سیل سے جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری کے لیے نکلنے والی پولیس پارٹیاں شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران شک کی بنا پر بے گناہ افراد کو بھی حراست میں لے لیا جاتا ہے اور انھیں حبس بیجا میں رکھ اہلخانہ سے رہائی کے عوض ہزاروں روپے طلب کیے جا رہے ہیں ، پولیس ذرائع کے مطابق شہر میں جاری بدامنی ، ٹارگٹ کلنگ ، دہشت گردی اور بھتہ خوری کے علاوہ دیگر جرائم میں ملوث ملزمان کے خلاف شروع کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشن اور چھاپہ مار کارروائیوں کو کرائم برانچ ون اور ٹو نے کمائی کا ذریعہ بنالیا جو کسی بھی جرم کے الزام میں بے گناہ افراد کو پکڑ کر کیماڑی میں واقع اپنے سیل لے آتے ہیں جہاں انھیں بلاجواز 2 سے3 دن تک حبس بے جا میں رکھ کر اہلخانہ سے ان کی رہائی کے عوض ایک سے2 لاکھ روپے طلب کیے جاتے ہیں اور بعدازاں 30 سے 60 ہزار روپے میں انھیں چھوڑ دیا جاتا ہے۔




کرائم برانچ پولیس نے چند روز قبل اورنگی ٹاؤن کے علاقے سے 3 افراد کو حراست میں لیا جس میں سے ایک شخص کو 60 ہزار روپے عوض چھوڑ دیا گیا جبکہ دیگر 2 افراد کو3دن تک بغیر کسی قانونی کارروائی کے کرائم برانچ پولیس نے اپنی قید میں رکھا اور اس دوران وہ اہلخانہ کو یہ بول کر دھمکاتے رہے کہ ان کے بچے ٹارگٹ کلر ہیں اور انھوں نے پولیس والوں کی بھی ٹارگٹ کلنگ کی ہے اور معاملہ بہت اوپر تک چلا گیا ہے تاہم بعدازاں کرائم برانچ پولیس نے اہلخانہ سے 50 ہزار رشوت وصول کرنے کے بعد دونوں افراد کو ناجائز اسلحے کے الزام میں گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا ، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افراد کے قبضے سے برآمد کیے جانے والا اسلحہ بھی کرائم برانچ کے انسپکٹر نے فراہم کیا تھا،کرائم برانچ ون اور ٹو نے شہر میں جاری آپریشن کو کمائی کا ذریعہ بناتے ہوئے تمام حد کو عبور کر دیا ہے اور سورج ڈھلنے کے بعد سے شروع ہونے والی توڑ جوڑ سورج طلوع ہونے تک چلتی رہتی ہے جو پیسے دیتا ہے وہ اپنا بندہ چھوڑا کر لیجاتا اور جو نہ دے سکے اسے رقم کا بندوبست کرنے کا مشورہ دے کر چلتا کر دیا جاتا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کرائم برانچ پولیس نے لوٹ مار کا جو بازار گرم کیا ہوا ہے اس کا نہ تو کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی چھاپے کے دوران جوڑ توڑ کی غرض سے لائے جانے والے افراد کا کوئی اندراج ہوتا ہے، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کرائم برانچ پولیس نے چند روز قبل لانڈھی سے ایک گٹکے والے کو پکڑا اور بڑی تعداد میں مزدا ٹرک اور سوزوکیوں پر لدے ہوئے گٹکے کو اپنے قبضے میں لے کر کرائم برانچ لے آئی اور بعدازاں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض تمام گٹکا واپس دے دیا گیا اور مختصر تعداد میں گٹکا روک کر اپنی کارکردگی ظاہر کر دی، پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں میں پان کے کیبنوں پر کرائم برانچ چھاپے مار کر گٹکے برآمد کرتی ہے اور بعدازاں ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانے کے بجائے 5 سے 10 ہزار روپے وصول کرنے بعد چھوڑ دیا جاتا ہے۔
Load Next Story