مقبوضہ کشمیر کی پیچیدہ صورتحال
مقبوضہ کشمیر میں روز بروز بھارتی مظالم میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں روز بروز بھارتی مظالم میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)
وزیراعظم عمران خان نے ہفتے کو اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے جاری کرفیو پر آزاد کشمیر کے شہریوں کے غم وغصہ کو سمجھتا ہوں لیکن مقبوضہ کشمیر کے عوام کی حمایت یا انسانی امداد کے لیے لائن آف کنٹرول پار کرنا بھارتی بیانیے سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی آڑ میں دہشت گردی کرا رہا ہے، کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھا اور لائن آف کنٹرول کے پار حملہ کرسکتا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پرآزاد کشمیر بھر سے قافلے مظفرآباد پہنچ گئے اور چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لیے مارچ شروع کردیا ۔ اس مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانا ہے ۔ آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔
کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے جس سے شہریوں کا شدید جانی نقصان ہو سکتا ہے، لائن آف کنٹرول کے قریب عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے۔ جلوس کے شرکاء سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا ہے کہ بھارت سفارت کاری اور نارمل حالات کے بارے اپنے بھاشن اپنے پاس رکھے۔
دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے وزیراعظم عمران خان کے کشمیر کے حوالے سے بیانات پر ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی بیانات مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی عکاسی کرتے ہیں، بھارتی جبر سے متاثر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانا ہماری عالمی اور اخلاقی ذمے داری ہے، بھارت اپنے انتہا پسندانہ نظریات اور بالادستی کے خواب کے وجہ سے سچ کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے، اور اپنے بالادستی پر مبنی طرز عمل کے برعکس خود کو ایک نارمل ریاست ثابت کرنا چاہتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو 63 ویں روز بھی زندگی مفلوج رہی، مسلسل کرفیو سے غذائی بحران سنگین ہوگیا اور ابھی تک حالات بہتر ہونے کے فوری امکانات کے اشارے نہیں مل رہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا جس سے عیاں ہو کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھا رہا اور نہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی ایسی کوشش سامنے آئی ہے کہ وہ بھارت پر اس سلسلے میں بھرپور دباؤ ڈال رہے ہوں۔وہاں صورتحال میں کب بہتری آتی ہے ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
مقبوضہ کشمیر میں روز بروز بھارتی مظالم میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے اب بھارتی سرکار نے حریت پسند کشمیری رہنماؤں کی جائیدادوں کو ضبط کرنا شروع کر دیا ہے ، نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید جموں وکشمیر فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ کا سری نگر میں گھر ضبط کر لیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں جو اقدامات کیے ہیں اقوام متحدہ سمیت مسلم دنیا اور پاکستان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے' زیادہ سے زیادہ بات بیانات اور مذمت تک آ کر دم توڑ جائے گی اور کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ برما کے مسلمانوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے گئے اور برمی فوج ان کا قتل عام کرتی رہی آخر کسی نے اس کا کیا بگاڑ لیا،حتیٰ کہ برما کوئی بڑی قوت بھی نہیں،اس کے پاس نہ تو ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ وہ تجارتی دنیا میں کوئی بڑا مقام رکھتا ہے۔اس سب کے باوجود مسلم دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔
بھارت جانتا ہے کہ وہ ایک بڑی فوجی اور ایٹمی قوت ہے اور مسلم دنیا کے اس سے گہرے تجارتی مفادات وابستہ ہیں بلکہ روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر مسلم دنیا کو کشمیریوں کی زبوں حالی اور بے بسی کا احساس ہوتا تو وہ سب سے پہلے بھارت کا اقتصادی بائیکاٹ کرتے اور اس پر دباؤ بڑھاتے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھائے اور وہاں کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دے۔
مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے آزاد کشمیر کے شہریوں میں غم و غصے کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے' ان کا مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے صرف جذباتی ہی نہیں بلکہ خونی رشتہ بھی ہے لہٰذا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آزاد کشمیر کے شہریوں کا کرب میں مبتلا ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے پاکستانی حکومت کو بھارتی سازش کا بخوبی فہم ہے لہٰذا وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت پر سفارتی ذرایع سے دباؤ ڈال رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان بالکل صائب فرما رہے ہیں کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے کوئی جذباتی اقدام بھارت کو اپنے مذموم عزائم پورا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو پھر اسے کوئی بھی کنٹرول نہیں کر سکے گا اور اگر کسی نے ایٹمی ہتھیار چلانے کی غلطی کر لی تو پھر اس خطے میں جو تباہی پھیلے گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا' ایک فرضی منظرنامے کے مطابق ایٹمی جنگ کی صورت میں 12کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہو جائیں گے، صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
وزیراعظم پاکستان بھی بار بار اس خوفناک منظرنامے کا ذکر کر کے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی لاپروائی اور بے حسی کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی' اگر اس نے اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو اس خطے میں چھڑنے والی کسی بھی جنگ کی ذمے داری جہاں بھارت پر عائد ہو گی وہاں اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات نے بھی اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کر کے انسانی بحران کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرایع کو مکمل طور پر بحال کرے' محاصرہ اور کرفیو اٹھائے اور تمام گرفتار لوگوں کو رہا کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکومت عالمی دباؤ کو کس قدر خاطر میں لاتے ہوئے کب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھاتی ہے۔
وزیراعظم پاکستان اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھتے ہی کشمیریوں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے باہر آجائے گی ایسی صورت میں بھارتی فوج ظلم و ستم کا بازار گرم کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام کر سکتی ہے۔ کسی مہیب اور خوفناک منظرنامے سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا ہو گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کی آڑ میں دہشت گردی کرا رہا ہے، کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کو بہانہ بنا کر بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بڑھا اور لائن آف کنٹرول کے پار حملہ کرسکتا ہے۔
ادھر جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کی کال پرآزاد کشمیر بھر سے قافلے مظفرآباد پہنچ گئے اور چکوٹھی سے لائن آف کنٹرول عبور کرنے کے لیے مارچ شروع کردیا ۔ اس مارچ کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے نفاذ اور انسانیت سوز مظالم پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کروانا ہے ۔ آزادی مارچ میں بزرگ، خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان شریک ہیں۔ مارچ کے شرکاء کو لائن آف کنٹرول کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حکمت عملی ترتیب دے دی ہے۔
کمشنر مظفرآباد ڈویژن نے کہا ہے کہ مارچ کرنے والے شہریوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری کا خدشہ ہے جس سے شہریوں کا شدید جانی نقصان ہو سکتا ہے، لائن آف کنٹرول کے قریب عوامی اجتماع قیمتی جانوں کے ضیاع کا موجب بن سکتا ہے۔ جلوس کے شرکاء سے اپیل ہے کہ ایل او سی کے قریب اجتماع سے پرہیز کریں۔
ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل کا کہنا ہے کہ بھارت سفارت کاری اور نارمل حالات کے بارے اپنے بھاشن اپنے پاس رکھے۔
دفترخارجہ کی جانب سے جاری بیان میں پاکستان نے بھارتی وزارت خارجہ کے وزیراعظم عمران خان کے کشمیر کے حوالے سے بیانات پر ردعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی بیانات مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کی عکاسی کرتے ہیں، بھارتی جبر سے متاثر کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانا ہماری عالمی اور اخلاقی ذمے داری ہے، بھارت اپنے انتہا پسندانہ نظریات اور بالادستی کے خواب کے وجہ سے سچ کا سامنا کرنے سے گریزاں ہے، اور اپنے بالادستی پر مبنی طرز عمل کے برعکس خود کو ایک نارمل ریاست ثابت کرنا چاہتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں اتوار کو 63 ویں روز بھی زندگی مفلوج رہی، مسلسل کرفیو سے غذائی بحران سنگین ہوگیا اور ابھی تک حالات بہتر ہونے کے فوری امکانات کے اشارے نہیں مل رہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ایسا کوئی عندیہ نہیں ملا جس سے عیاں ہو کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھا رہا اور نہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے کوئی ایسی کوشش سامنے آئی ہے کہ وہ بھارت پر اس سلسلے میں بھرپور دباؤ ڈال رہے ہوں۔وہاں صورتحال میں کب بہتری آتی ہے ابھی اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
مقبوضہ کشمیر میں روز بروز بھارتی مظالم میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے اب بھارتی سرکار نے حریت پسند کشمیری رہنماؤں کی جائیدادوں کو ضبط کرنا شروع کر دیا ہے ، نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید جموں وکشمیر فریڈم پارٹی کے چیئرمین شبیر احمد شاہ کا سری نگر میں گھر ضبط کر لیا گیا ہے۔
بھارتی حکومت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کے بارے میں جو اقدامات کیے ہیں اقوام متحدہ سمیت مسلم دنیا اور پاکستان اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے' زیادہ سے زیادہ بات بیانات اور مذمت تک آ کر دم توڑ جائے گی اور کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ برما کے مسلمانوں پر ظلم کے جو پہاڑ توڑے گئے اور برمی فوج ان کا قتل عام کرتی رہی آخر کسی نے اس کا کیا بگاڑ لیا،حتیٰ کہ برما کوئی بڑی قوت بھی نہیں،اس کے پاس نہ تو ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ وہ تجارتی دنیا میں کوئی بڑا مقام رکھتا ہے۔اس سب کے باوجود مسلم دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔
بھارت جانتا ہے کہ وہ ایک بڑی فوجی اور ایٹمی قوت ہے اور مسلم دنیا کے اس سے گہرے تجارتی مفادات وابستہ ہیں بلکہ روز بروز ان میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر مسلم دنیا کو کشمیریوں کی زبوں حالی اور بے بسی کا احساس ہوتا تو وہ سب سے پہلے بھارت کا اقتصادی بائیکاٹ کرتے اور اس پر دباؤ بڑھاتے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھائے اور وہاں کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دے۔
مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے آزاد کشمیر کے شہریوں میں غم و غصے کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے' ان کا مقبوضہ کشمیر کے شہریوں سے صرف جذباتی ہی نہیں بلکہ خونی رشتہ بھی ہے لہٰذا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آزاد کشمیر کے شہریوں کا کرب میں مبتلا ہونا اچنبھے کی بات نہیں۔ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے پاکستانی حکومت کو بھارتی سازش کا بخوبی فہم ہے لہٰذا وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت پر سفارتی ذرایع سے دباؤ ڈال رہا ہے۔
وزیراعظم عمران خان بالکل صائب فرما رہے ہیں کہ بھارت آزاد کشمیر پر حملے کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے کوئی جذباتی اقدام بھارت کو اپنے مذموم عزائم پورا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑ گئی تو پھر اسے کوئی بھی کنٹرول نہیں کر سکے گا اور اگر کسی نے ایٹمی ہتھیار چلانے کی غلطی کر لی تو پھر اس خطے میں جو تباہی پھیلے گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا' ایک فرضی منظرنامے کے مطابق ایٹمی جنگ کی صورت میں 12کروڑ سے زائد افراد ہلاک ہو جائیں گے، صرف یہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے۔
وزیراعظم پاکستان بھی بار بار اس خوفناک منظرنامے کا ذکر کر کے اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کی توجہ اس جانب مبذول کرا رہے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر کے بارے میں روایتی لاپروائی اور بے حسی کی اب کوئی گنجائش باقی نہیں رہی' اگر اس نے اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو اس خطے میں چھڑنے والی کسی بھی جنگ کی ذمے داری جہاں بھارت پر عائد ہو گی وہاں اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ تعلقات نے بھی اپنی رپورٹ میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق بحال کر کے انسانی بحران کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی ذرایع کو مکمل طور پر بحال کرے' محاصرہ اور کرفیو اٹھائے اور تمام گرفتار لوگوں کو رہا کرے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بھارتی حکومت عالمی دباؤ کو کس قدر خاطر میں لاتے ہوئے کب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھاتی ہے۔
وزیراعظم پاکستان اس خدشے کا اظہار کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھتے ہی کشمیریوں کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے باہر آجائے گی ایسی صورت میں بھارتی فوج ظلم و ستم کا بازار گرم کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر کشمیریوں کا قتل عام کر سکتی ہے۔ کسی مہیب اور خوفناک منظرنامے سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا ٹھوس کردار ادا کرنا ہو گا۔