مس امریکا قرار پائی القاعدہ کی ساتھی

بھارتی نژاد نینا کو ٹوئٹر پر ہونے والے کمنٹس میں ’’دہشت گرد‘‘ کہا جارہا ہے۔

ٹوئٹر پر نینا کو کوئی مس دہشت گرد کہہ رہا ہے اور کوئی کہہ رہا ہے، مبارک ہو القاعدہ، ہماری مس امریکا تم میں سے ایک ہے۔ فوٹو: فائل

QUETTA:
ہماری شاعری میں حسن کو قاتل، اہلِ حسن کی نظر کو تیر اور ان کی اداؤں کو دل زخمی کرنے والا قرار دینے کا چلن اتنا ہی پُرانا ہے جتنی اردو شاعری، مگر کسی حسینہ کو واقعتاً ''دہشت گرد'' قرار دے دینا بڑی بھونڈی حرکت ہے اور یہ حرکت کر رہے ہیں بعض امریکی، جنھیں جنوبی ایشیا کی ایک خوب صورت اور دل کش سراپے کی حامل لڑکی کا ''مس امریکا 2014'' بننا ایک آنکھ نہیں بھارہا۔
یہ تذکرہ ہے بھارت سے تعلق رکھنے والی امریکی شہری Nina Davuluri کا۔ نینا کا تعلق بھارت کے ایک تیلگو بولنے والے گھرانے سے ہے اور وہ نیویارک میں پیدا ہوئی۔ اپنے حسین سراپے کے باعث وہ اس سال مس امریکا منتخب ہوئی ہے۔ عام طور پر یہ اعزاز حاصل کرنے والی حسیناؤں کے حصے میں مبارک باد اور ستائشی وتوصیفی جملے آتے ہیں، مگر بے چاری نینا کو اس سب کے ساتھ تنقید، طنز اور تضحیک کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔




ٹوئٹر پر نینا کے بارے میں انتہائی متعصبانہ کمنٹس کیے جارہے ہیں۔ کوئی اسے ''مس دہشت گرد'' کہہ رہا ہے اور کوئی کہہ رہا ہے،''مبارک ہو القاعدہ، ہماری مس امریکا تم میں سے ایک ہے۔'' یہ اور اس طرح کے نفرت آمیز اور حقارت پر مبنی تبصرے ٹوئٹر پر مسلسل کیے جارہے ہیں، جو بتا رہے ہیں کہ تعصب کا شکار امریکیوں کو ایک ایشیائی خاتون کا امریکا کی ملکۂ حُسن قرار پانا کس قدر تکلیف دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ نینا پہلی بھارتی ہیں جنھیں مس امریکا ہونے کا اعزاز ملا ہے۔

تعصب کا شکار امریکیوں کی لاعلمی اور جہالت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک ہندو لڑکی کو مسلمان سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کی تمام تر بے باکی کے باوجود اس کا تعلق القاعدہ سے جوڑ رہے ہیں، جو اسلامی اقدار، تعلیمات اور روایات کے حوالے سے متشدد سمجھی جاتی ہے۔
اسے کہتے ہیں تعصب میں اندھا ہوجانا۔
Load Next Story