طالبان کی مبہم باتیں… حکومت علما اور قوم کو اعتماد میں لے
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت ایک عرصے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں کر رہی ہے لیکن۔۔۔
طالبان کی جانب سے بھی حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔ ۔فوٹو: فائل
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت ایک عرصے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی باتیں کر رہی ہے لیکن نہ حکومت اور نہ طالبان کی جانب سے اس معاملے پر کوئی پیشرفت دکھائی دی ہے۔ حکومت نے سیاسی، مذہبی جماعتوں اور عسکری قیادت کی رائے لینے کے لیے اے پی سی بلائی تھی۔ سب نے اس معاملے میں حکومتی پالیسی کی بھرپور تائید کی۔ اے پی سی میں مذہبی و سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت سے تائید حاصل کرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے نہ کوئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور نہ کسی ایجنڈے ہی کا اعلان کیا گیا ہے۔
طالبان کی جانب سے بھی حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔ اس حوالے سے واضح صورتحال سامنے نہ آنے پر پوری قوم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کنفیوژن کا شکار ہے' اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔وفاقی وزیر داخلہ نے یہ خوش کن بات کہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان کے عوام کی امن کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے جید علما نے از خود پہل کی' علما ان کوششوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ علما کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں اور طالبان امن کی راہ پر آتے بھی ہیں یا نہیں۔ طالبان ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے وزیرستان کے نامعلوم مقام سے پہلی بار اپنے ویڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی آئین سیکولر اقوام کا ایجنڈا ہے' اس آئین کے تحت ہم کبھی مذاکرات نہیں کریں گے۔ طالبان تو پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں تو پھر بات آگے کیسے بڑھے گی۔
جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو پاکستانی حکومت کئی بار امریکا سے مطالبہ کر چکی ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں اس سے دہشت کی آگ مزید بھڑک رہی ہے مگر امریکا ڈرون حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عالمی قوتیں ملوث ہیں، اس کا جلد حل ممکن نہیں ہے، اس لیے طالبان کی جانب سے ڈرون حملے بند ہونے تک مذاکرات کرنے کی شرط درست نہیں۔ طالبان کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ حکومت پاکستان چاہتی ہے کہ طالبان دہشت گردی کی کارروائیاں چھوڑ کر پر امن شہری کے طور پر رہیں۔ طالبان ایک جانب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ بے گناہوں کو کبھی نشانہ نہیں بناتے تو دوسری جانب وہ پشاور چرچ پر ہونے والے حملے کو شریعت کے مطابق قرار دے رہے ہیں۔
طالبان کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح جدوجہد نہیں ہونی چاہیے' دین اسلام بندوق نہیں اعتدال کی بات کرتا ہے لیکن ہم بندوق اٹھا کر شریعت کی بات کرتے ہیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ اسلام اعتدال کی بات کرتا ہے اور بے گناہوں کے قتل کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ طالبان سے مذاکرات انتہائی حساس معاملہ ہے' یہ ملک کی بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے، حکومت کو بہت سوچ سمجھ کر اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ اب تک طالبان کا جو موقف سامنے آیا ہے وہ بے لچک ہے اور وہ اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگر طالبان مذاکرات میں سنجیدہ ہوتے تو انھیں سب سے پہلے دہشت گردی کی کارروائیاں ترک کرنا چاہیے تھیں مگر وہ اسے مستقبل میں بھی جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنی مستقبل کی پالیسی واضح کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ان کا ہدف کچھ اور ہے' اب ان کا ہدف اسلام آباد کو حقیقی اسلام آباد بنانا ہے جہاں شریعت کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ جہاں تک طالبان کی شریعت کا تعلق ہے مولانا فضل الرحمن کے بیان سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ علما طالبان کی اپنی طرز کی شریعت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پوری قوم کو گومگو کی کیفیت سے نکالنے کے لیے تمام علما کو بھی اعتماد میں لے اور طالبان کے بارے میں واضح اور دو ٹوک پالیسی کا اعلان کرے۔
طالبان کی جانب سے بھی حکومت سے مذاکرات کے حوالے سے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔ اس حوالے سے واضح صورتحال سامنے نہ آنے پر پوری قوم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ بعض سیاستدانوں کا کہنا ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے حوالے سے حکومت کنفیوژن کا شکار ہے' اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔وفاقی وزیر داخلہ نے یہ خوش کن بات کہی ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان کے عوام کی امن کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے جید علما نے از خود پہل کی' علما ان کوششوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ علما کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی ہیں اور طالبان امن کی راہ پر آتے بھی ہیں یا نہیں۔ طالبان ابھی تک اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے وزیرستان کے نامعلوم مقام سے پہلی بار اپنے ویڈیو انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستانی آئین سیکولر اقوام کا ایجنڈا ہے' اس آئین کے تحت ہم کبھی مذاکرات نہیں کریں گے۔ طالبان تو پاکستانی آئین کو تسلیم کرنے پر تیار ہی نہیں تو پھر بات آگے کیسے بڑھے گی۔
جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو پاکستانی حکومت کئی بار امریکا سے مطالبہ کر چکی ہے کہ ڈرون حملے بند کیے جائیں اس سے دہشت کی آگ مزید بھڑک رہی ہے مگر امریکا ڈرون حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ ایسا معاملہ ہے جس میں عالمی قوتیں ملوث ہیں، اس کا جلد حل ممکن نہیں ہے، اس لیے طالبان کی جانب سے ڈرون حملے بند ہونے تک مذاکرات کرنے کی شرط درست نہیں۔ طالبان کو یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ حکومت پاکستان چاہتی ہے کہ طالبان دہشت گردی کی کارروائیاں چھوڑ کر پر امن شہری کے طور پر رہیں۔ طالبان ایک جانب یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ بے گناہوں کو کبھی نشانہ نہیں بناتے تو دوسری جانب وہ پشاور چرچ پر ہونے والے حملے کو شریعت کے مطابق قرار دے رہے ہیں۔
طالبان کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پشاور میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلح جدوجہد نہیں ہونی چاہیے' دین اسلام بندوق نہیں اعتدال کی بات کرتا ہے لیکن ہم بندوق اٹھا کر شریعت کی بات کرتے ہیں۔ یہ بالکل درست ہے کہ اسلام اعتدال کی بات کرتا ہے اور بے گناہوں کے قتل کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ طالبان سے مذاکرات انتہائی حساس معاملہ ہے' یہ ملک کی بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے، حکومت کو بہت سوچ سمجھ کر اس بارے میں فیصلہ کرنا چاہیے۔ اب تک طالبان کا جو موقف سامنے آیا ہے وہ بے لچک ہے اور وہ اپنی دہشت گردی کی کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اگر طالبان مذاکرات میں سنجیدہ ہوتے تو انھیں سب سے پہلے دہشت گردی کی کارروائیاں ترک کرنا چاہیے تھیں مگر وہ اسے مستقبل میں بھی جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں بلکہ کالعدم تحریک طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے اپنی مستقبل کی پالیسی واضح کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ان کا ہدف کچھ اور ہے' اب ان کا ہدف اسلام آباد کو حقیقی اسلام آباد بنانا ہے جہاں شریعت کے مطابق فیصلے ہوں گے۔ جہاں تک طالبان کی شریعت کا تعلق ہے مولانا فضل الرحمن کے بیان سے اس امر کی غمازی ہوتی ہے کہ علما طالبان کی اپنی طرز کی شریعت کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت پوری قوم کو گومگو کی کیفیت سے نکالنے کے لیے تمام علما کو بھی اعتماد میں لے اور طالبان کے بارے میں واضح اور دو ٹوک پالیسی کا اعلان کرے۔