لنگراسکیم اور معیشت کا نیا تناظر
صحت کی سہولتیں عام ہونگی ، ڈنگی رسوا ہوکر ملک سے مٹ جائے گا
صحت کی سہولتیں عام ہونگی ، ڈنگی رسوا ہوکر ملک سے مٹ جائے گا۔ فوٹو: فائل
وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت میں غریب اور ضرورت مند افراد کو مفت کھانا فراہم کرنے کے لیے احساس سیلانی لنگر خانہ اسکیم کا افتتاح کر دیا۔ یہ لنگر خانہ اسکیم سیلانی انٹرنیشنل اور حکومت کے احساس پروگرام نے مشترکہ طور پر شروع کی ہے۔ اس کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلایا جائے گا۔ آیندہ سال ملک بھر میں 112 لنگر خانے قائم کیے جائیں گے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم کیے گئے لنگر خانے سے روزانہ 600 غریب اور نادار افراد کھانا کھا سکیں گے۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستحق، نادار اورکمزور طبقات کو سہولیات کی فراہمی سے نئے پاکستان کی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا۔ ہمیں کمزور طبقے کا احساس ہے، کوشش ہے کہ لوگ بھوکے نہ رہیں۔ انھوں نے سیلانی ٹرسٹ کو یہ نیک کام شروع کرنے پر مبارکباد دی۔
حقیقت یہ ہے کہ غربت اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسرکرنے والوں کے لیے اکیسویں صدی بھی گزری صدیوں کے عذابوں سے مختلف ثابت نہیں ہوئی اور دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز سے دنیا کے کروڑوں انسان برس ہا برس پرانے اقتصادی اور سماجی نظام کے شکنجے میں تاحال جکڑے ہوئے ہیں۔
اس سیاق وسباق میں سیلانی کے لنگر اورحکومت کے احساس پروگرام کے اشتراک عمل میں جو بنیادی بات سامنے آتی ہے وہ ایک مستحکم سیاسی و عادلانہ معاشی نظام کے قیام اوراس سے ملحق فلاح و بہبود کے کثیر مقاصد پرمبنی جدید میکنزم کی تشکیلات سے عبارت ہے، اگر اس حوالہ سے 22 کروڑ نفوس پر مشتمل اس ملک میں رزق ، روزگار اور جاب کی فراہمی کے ایسے سسٹم کی ابتدا کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
جس کی شروعات سیلانی انٹرنیشنل اور پی ٹی آئی حکومت کے احساس پروگرام سے ہوئی ہے تو ہر چند اسے غربت اور بیروزگاری کی شدت میں کمی کی سمت ایک مثبت پیش رفت کہا جائے ، تاہم اقتصادیات کے مروجہ تصورات کے پیش نظر عوام حکومت سے ان ہی توقعات اور امیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاشی مسائل پر اظہار خیال کریں جن کا حکومت نے انتخابات سے پہلے یا دھرنے کے دوران اعلان کیا اور عوام سے وعدے بھی کیے۔
کہتے ہیں کہ غریب کو جمہوریت کا جگنوکبھی نظر نہیں آئے گا اگر اسے دو وقت کی روٹی نہ ملے، اسے یوں بھی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ غم دوراں اور فکر معاش کا تسلسل اچھے سیاسی نظام کی بنیادیں ہلا دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک بھی اقتصادی اور مالی استحکام کو قومی سلامتی کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں اور جنگ و بد امنی کے عالمی نقشہ پرکتنے ہی ایسی ملک نظر آتے ہیں جو جنگی تباہ کاریوں کے باعث معاشی بدحالی ، قحط ، بھوک ، بیماری اور نسل کشی کے خطرات سے دوچار ہیں۔ پاکستان بھی ان ہی ممالک معاشی اور سیاسی سیناریوں سے جڑا ہوا ہے جسے خطے کے ناگفتہ حالات، معاشی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام کے مسائل کا سامنا ہے۔
چنانچہ وزیراعظم عمران خان کے سیلانی لنگر پر بعض سیاسی اور معاشی حلقوں نے جہاں اسے مناسب پیش رفت اور غربت و تنگ دستی کے خاتمہ کی سمت ایک درست قدم قرار دیا ہے وہاں عوام کے ذہنوںمیں یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ کیا حکومت اپنے وعدوں ، دعوؤں اور منشورکے انقلابی نکات سے صرف نظرکرچکی ہے اور ملک کو ایک مربوط استحکام معاشی نظام دینے کی اس کی ہمہ جہت اسٹرٹیجی اب مرغی پالنے، لنگرکھولنے اور پناہ گاہیں بنانے پر مرکوز رہے گی۔
یہاں بنیادی طور پر عوام اپنی زندگی اور تقدیر کے ترازو میں حکومتی فیصلوں کو تولنا چاہیں گے اور عمران خان سے بجا طور پر اپنے مطالبات اور توقعات اور محرومیوں کو فغان درویش کی صورت پیش کریں گے کیونکہ ان کی توقعات ایک نئے پاکستان کی تعمیر و تشکیل سے پیوست تھیں ، وہ امید بہار رکھتے تھے، ان کو یقین تھا ، اور ہے کہ حکومت پچھلی حکومتوں کو لعن طعن کرنے پر اپنی ساری توانائیاں صرف نہیں کرے گی بلکہ خلق خدا کو ایک نیا پاکستان بن کر دکھا دیں گی۔
ابھی اس امید کا چراغ روشن ہے، اور عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ معاملہ لنگر سے آگے جائے گا اور اقتصادی اور سیاسی طور پر پاکستان تمام بحرانوں سے نکل کر دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں نمایاں مقام بنائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بتدریج ملک میں تبدیلی آئے گی، 70 سال کے مسائل کو حل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ لوگ صبر نہیں کرتے اور 13ماہ میں کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ وزیراعظم یاد دلاتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست پہلے دن نہیں بن گئی تھی بلکہ رسول اکرمؐؐ نے جدوجہد کی تھی جس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ لوگ تبدیل ہوئے ، پاکستان بھی بدلے گا ، جب ذہن بدلیں گے ، تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم کمزور طبقے کی مدد کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہورہا ہے، غریب ٹیکس دیتا امیر ٹیکس نہیں دیتا، چاہتے ہیں کہ امیروں سے ٹیکس لیں اور غریب پر خرچ کر یں۔ کوشش ہے کہ کاروباری طبقے کو اوپر اٹھائیں۔ ان ارشادات اور معروضات میں دل سوزی بھی ہے اور ایک اخلاص کی مہک بھی تاہم پاکستانی عوام کو بے صبری کا الزام دینا ان کی قناعت پسندی، تشکر تحمل اور استقامت کو داد دیجیے کہ کروڑوں پاکستانی مہنگائی ، بیروزگاری، اسٹریٹ کرائم، کسمپرسی، خانما بربادی اور دربدری و لاوارثی کے باوجود سڑکوں پر نہیں آئے، شدید افلاس اورگرانی نے انھیں جمہوری اقدار اور سیاسی رواداری سے انحراف پر مجبور نہیں کیا ، وہ اب بھی منتظر ہیں،کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیراعظم ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔
ان کے بچوں کو تعلیم ملے گی، صحت کی سہولتیں عام ہونگی ، ڈنگی رسوا ہوکر ملک سے مٹ جائے گا، لوگوں کو سستی چیزیں ملنا شروع ہوجائیں گی، دواؤں پرکنٹرول سخت ہوگا ، سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر ہوگی، عوام کو ٹرانسپورٹ کی جدید ترین اور باوقار سہولتیںدستیاب ہونگی۔ تاجر برادری کے تحفظات دور ہونگے، اپوزیشن جماعتوں سے مکالمہ ہوگا، بلا امتیاز احتساب یقینی ہوگا اور سیاسی و جمہوری عمل کے پیرامیٹرز مسلمہ جمہوری خطوط پر چلیں گے،کشیدگی دم توڑے گی۔
بلاشبہ ملکی معیشت کی ترقی اور سیاسی ماحول میں فشارکے آثار تو ہیں مگر عوام کی جمہوریت سے کمٹمنٹ لاریب ہے، اپنے سماجی و معاشی حالات پر عوام برہم ضرور ہیں، لیکن سسٹم کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ دریںاثنا وزیر اعظم کی خصوصی معاون اور احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے دل میں محنت کشوں کا خاص احساس رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے پہلے غریبوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے پناہ گاہیں قائم کرنے کا کام شروع کیا اور اب غریبوں کے لیے احساس لنگر اسکیم شروع کی ہے۔ سیلانی ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروق قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان غریبوں اور پسماندہ طبقات کا درد اور احساس اپنے دل میں رکھتے ہیں۔سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اس معاملے پر ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کے معاشی حالات میں خوشگوار تبدیلی اب لازماً آنی چاہیے۔ مسئلہ تیرہ مہینوں کا نہیں معاشی حقائق کے ادراک کا ہے۔ اس اعتماد باہمی اور جمہوری سپورٹ کا ہے جس سے عوام جڑے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم صاحب ! ہمارے عوام صابر و شاکر ہیں انھیں بس اس بات کایقین ہونا چاہیے کہ آپ کی قیادت میں وہ صبح کبھی تو آئے گی۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مستحق، نادار اورکمزور طبقات کو سہولیات کی فراہمی سے نئے پاکستان کی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں آئے گا۔ ہمیں کمزور طبقے کا احساس ہے، کوشش ہے کہ لوگ بھوکے نہ رہیں۔ انھوں نے سیلانی ٹرسٹ کو یہ نیک کام شروع کرنے پر مبارکباد دی۔
حقیقت یہ ہے کہ غربت اور خط افلاس سے نیچے زندگی بسرکرنے والوں کے لیے اکیسویں صدی بھی گزری صدیوں کے عذابوں سے مختلف ثابت نہیں ہوئی اور دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز سے دنیا کے کروڑوں انسان برس ہا برس پرانے اقتصادی اور سماجی نظام کے شکنجے میں تاحال جکڑے ہوئے ہیں۔
اس سیاق وسباق میں سیلانی کے لنگر اورحکومت کے احساس پروگرام کے اشتراک عمل میں جو بنیادی بات سامنے آتی ہے وہ ایک مستحکم سیاسی و عادلانہ معاشی نظام کے قیام اوراس سے ملحق فلاح و بہبود کے کثیر مقاصد پرمبنی جدید میکنزم کی تشکیلات سے عبارت ہے، اگر اس حوالہ سے 22 کروڑ نفوس پر مشتمل اس ملک میں رزق ، روزگار اور جاب کی فراہمی کے ایسے سسٹم کی ابتدا کے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔
جس کی شروعات سیلانی انٹرنیشنل اور پی ٹی آئی حکومت کے احساس پروگرام سے ہوئی ہے تو ہر چند اسے غربت اور بیروزگاری کی شدت میں کمی کی سمت ایک مثبت پیش رفت کہا جائے ، تاہم اقتصادیات کے مروجہ تصورات کے پیش نظر عوام حکومت سے ان ہی توقعات اور امیدوں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے معاشی مسائل پر اظہار خیال کریں جن کا حکومت نے انتخابات سے پہلے یا دھرنے کے دوران اعلان کیا اور عوام سے وعدے بھی کیے۔
کہتے ہیں کہ غریب کو جمہوریت کا جگنوکبھی نظر نہیں آئے گا اگر اسے دو وقت کی روٹی نہ ملے، اسے یوں بھی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ غم دوراں اور فکر معاش کا تسلسل اچھے سیاسی نظام کی بنیادیں ہلا دیتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے انتہائی ترقی یافتہ ممالک بھی اقتصادی اور مالی استحکام کو قومی سلامتی کا بنیادی پتھر قرار دیتے ہیں اور جنگ و بد امنی کے عالمی نقشہ پرکتنے ہی ایسی ملک نظر آتے ہیں جو جنگی تباہ کاریوں کے باعث معاشی بدحالی ، قحط ، بھوک ، بیماری اور نسل کشی کے خطرات سے دوچار ہیں۔ پاکستان بھی ان ہی ممالک معاشی اور سیاسی سیناریوں سے جڑا ہوا ہے جسے خطے کے ناگفتہ حالات، معاشی چیلنجز اور سیاسی عدم استحکام کے مسائل کا سامنا ہے۔
چنانچہ وزیراعظم عمران خان کے سیلانی لنگر پر بعض سیاسی اور معاشی حلقوں نے جہاں اسے مناسب پیش رفت اور غربت و تنگ دستی کے خاتمہ کی سمت ایک درست قدم قرار دیا ہے وہاں عوام کے ذہنوںمیں یہ سوال بھی اٹھا ہے کہ کیا حکومت اپنے وعدوں ، دعوؤں اور منشورکے انقلابی نکات سے صرف نظرکرچکی ہے اور ملک کو ایک مربوط استحکام معاشی نظام دینے کی اس کی ہمہ جہت اسٹرٹیجی اب مرغی پالنے، لنگرکھولنے اور پناہ گاہیں بنانے پر مرکوز رہے گی۔
یہاں بنیادی طور پر عوام اپنی زندگی اور تقدیر کے ترازو میں حکومتی فیصلوں کو تولنا چاہیں گے اور عمران خان سے بجا طور پر اپنے مطالبات اور توقعات اور محرومیوں کو فغان درویش کی صورت پیش کریں گے کیونکہ ان کی توقعات ایک نئے پاکستان کی تعمیر و تشکیل سے پیوست تھیں ، وہ امید بہار رکھتے تھے، ان کو یقین تھا ، اور ہے کہ حکومت پچھلی حکومتوں کو لعن طعن کرنے پر اپنی ساری توانائیاں صرف نہیں کرے گی بلکہ خلق خدا کو ایک نیا پاکستان بن کر دکھا دیں گی۔
ابھی اس امید کا چراغ روشن ہے، اور عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ معاملہ لنگر سے آگے جائے گا اور اقتصادی اور سیاسی طور پر پاکستان تمام بحرانوں سے نکل کر دنیا کی دس بڑی معیشتوں میں نمایاں مقام بنائے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بتدریج ملک میں تبدیلی آئے گی، 70 سال کے مسائل کو حل کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔ لوگ صبر نہیں کرتے اور 13ماہ میں کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ وزیراعظم یاد دلاتے ہیں کہ مدینہ کی ریاست پہلے دن نہیں بن گئی تھی بلکہ رسول اکرمؐؐ نے جدوجہد کی تھی جس کے نتیجے میں آہستہ آہستہ لوگ تبدیل ہوئے ، پاکستان بھی بدلے گا ، جب ذہن بدلیں گے ، تبدیلی اس وقت آئے گی جب ہم کمزور طبقے کی مدد کریں گے۔
انھوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سال سے غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہورہا ہے، غریب ٹیکس دیتا امیر ٹیکس نہیں دیتا، چاہتے ہیں کہ امیروں سے ٹیکس لیں اور غریب پر خرچ کر یں۔ کوشش ہے کہ کاروباری طبقے کو اوپر اٹھائیں۔ ان ارشادات اور معروضات میں دل سوزی بھی ہے اور ایک اخلاص کی مہک بھی تاہم پاکستانی عوام کو بے صبری کا الزام دینا ان کی قناعت پسندی، تشکر تحمل اور استقامت کو داد دیجیے کہ کروڑوں پاکستانی مہنگائی ، بیروزگاری، اسٹریٹ کرائم، کسمپرسی، خانما بربادی اور دربدری و لاوارثی کے باوجود سڑکوں پر نہیں آئے، شدید افلاس اورگرانی نے انھیں جمہوری اقدار اور سیاسی رواداری سے انحراف پر مجبور نہیں کیا ، وہ اب بھی منتظر ہیں،کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور وزیراعظم ان کے دکھوں کا مداوا کریں گے۔
ان کے بچوں کو تعلیم ملے گی، صحت کی سہولتیں عام ہونگی ، ڈنگی رسوا ہوکر ملک سے مٹ جائے گا، لوگوں کو سستی چیزیں ملنا شروع ہوجائیں گی، دواؤں پرکنٹرول سخت ہوگا ، سرکاری اسپتالوں کی حالت بہتر ہوگی، عوام کو ٹرانسپورٹ کی جدید ترین اور باوقار سہولتیںدستیاب ہونگی۔ تاجر برادری کے تحفظات دور ہونگے، اپوزیشن جماعتوں سے مکالمہ ہوگا، بلا امتیاز احتساب یقینی ہوگا اور سیاسی و جمہوری عمل کے پیرامیٹرز مسلمہ جمہوری خطوط پر چلیں گے،کشیدگی دم توڑے گی۔
بلاشبہ ملکی معیشت کی ترقی اور سیاسی ماحول میں فشارکے آثار تو ہیں مگر عوام کی جمہوریت سے کمٹمنٹ لاریب ہے، اپنے سماجی و معاشی حالات پر عوام برہم ضرور ہیں، لیکن سسٹم کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ دریںاثنا وزیر اعظم کی خصوصی معاون اور احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنے دل میں محنت کشوں کا خاص احساس رکھتے ہیں۔
وزیر اعظم نے پہلے غریبوں کو چھت فراہم کرنے کے لیے پناہ گاہیں قائم کرنے کا کام شروع کیا اور اب غریبوں کے لیے احساس لنگر اسکیم شروع کی ہے۔ سیلانی ٹرسٹ کے سربراہ مولانا بشیر فاروق قادری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان غریبوں اور پسماندہ طبقات کا درد اور احساس اپنے دل میں رکھتے ہیں۔سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ اس معاملے پر ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کے معاشی حالات میں خوشگوار تبدیلی اب لازماً آنی چاہیے۔ مسئلہ تیرہ مہینوں کا نہیں معاشی حقائق کے ادراک کا ہے۔ اس اعتماد باہمی اور جمہوری سپورٹ کا ہے جس سے عوام جڑے ہوئے ہیں۔ وزیراعظم صاحب ! ہمارے عوام صابر و شاکر ہیں انھیں بس اس بات کایقین ہونا چاہیے کہ آپ کی قیادت میں وہ صبح کبھی تو آئے گی۔