پاک ہند تعلقات اورترقی مخالف قوتیں

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات عموماً ناخوشگوار رہے۔

zahedahina@gmail.com

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ آزادی کے بعد ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات عموماً ناخوشگوار رہے۔ بڑی اور چھوٹی کئی جنگیں لڑی گئیں۔ الفاظ کی جنگ تو دونوں کے درمیان ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ 21 ویں صدی کے آغاز نے دونوں ملکوں کے لوگوں کے اندر یہ امید پیدا کی کہ جنوبی ایشیا کے یہ دو سب سے بڑے پڑوسی ملک 20ویں صدی کی روش ترک کرکے مفاہمت اور دوستی کے نئے باب کا اغازکریں گے۔ اس امید کی وجہ یہ تھی کہ انھیں بتایا گیا تھا کہ نئی صدی گزشتہ تمام صدیوں سے یکسر مختلف صدی ہوگی۔ اس صدی میں دنیا دو حصوں میں تقسیم نہیں رہے گی، سرد جنگ ختم ہوچکی اور ٹیکنالوجی کی حیرت انگیز ترقی نے دنیا کے ہر ملک کو ایک دوسرے سے تعاون کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ وہ یہ سن رہے تھے کہ 21 ویں صدی سیاسی محاذ آرائی کے بجائے معاشی تعلقات اور تعاون کی صدی ہے۔ کوئی بھی ملک جو خود کو دنیا سے الگ تھلگ رکھے گا وہ ترقی کی دوڑ میں آگے نہیں بڑھ سکے گا۔

21 ویں صدی اس اعتبار سے بھی ایک مختلف صدی ہے کہ اس صدی کاآغاز ایک بدلی ہوئی دنیا سے ہوتا ہے لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کی پرانی سوچ میں کوئی بہت بڑی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے۔ دونوں ملک آج بھی ماضی کے قیدی ہیں۔ یہ درست ہے کہ تبدیلی ایک سست رفتار عمل ہے۔ پرانی اور جامد سوچ اور انداز نظر میں انقلابی تبدیلی راتوں رات وقوع پذیر نہیں ہوتی لیکن اس کی رفتار اتنی بھی سست نہیں ہوتی کہ دنیا کہیں سے کہیںنکل جائے اور ہم تبدیلی کے امکان پر غور ہی کرتے رہ جائیں۔ اس قدر مایوس کن صورتحال میں من موہن سنگھ اور محمد نواز شریف کا آپس میں ملنا اور ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک گفتگو کرنا بھی ہمارے لیے ایک اہم واقعہ ہے۔

جنگ اور محاذ آرائی کی 66 سالہ تاریخ نے دونوں ملکوں کے اندر سیاسی، سماجی، ثقافتی اور معاشی سطحوں پر بعض مخصوص نوعیت کے مفادات پیدا کردیے ہیں۔ محاذ آرائی اور جنگ جہاں اجتماعی طور پر لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے وہیں انفرادی، طبقاتی اور ادارہ جاتی سطح پر بہت سے لوگوں کے لیے منافع بخش بھی ثابت ہوتی ہے۔ یقینا ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لیکن محاذ آرائی اور جنگی صورتحال میں وہ ریاست پر اپنی بالا دستی قائم کرلیتے ہیں۔ جنگ سے امن اور محاذ آرائی سے مفاہمت اور دوستی کی جانب پیش قدمی ان کے مفادات پر کاری ضرب لگاتی ہے اور وہ اس سمت ہونے والی ہر پیش رفت کو ناکام بنانے کے لیے ہر وقت چوکس رہتے ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اگر تجارتی روابط استوار ہوتے ہیں تو اس کا فائدہ ان کاروباری طبقات کو پہنچے گا جو اب تک اس سے محروم ہیں۔ پاکستان کی جنوبی ایشیا کے ملکوں کے ساتھ تجارت صرف 4 فیصد ہے جب کہ دنیا کے دیگر اہم خطوں مثلاً یورپ، شمالی امریکا، مشرق بعید کے ممالک کی باہمی تجارت 50 فیصد زیادہ ہے۔ اس حوالے سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات میں اضافہ کروڑوں لوگوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ طور پر کتنا فائدہ مند ثابت ہوگا۔ صنعتی اور تجارتی شعبے کے علاوہ خدمات فراہم کرنے والے شعبوں کے کاروبار میں بھی بے پناہ اضافہ ہوجائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان اور ہندوستان کے درمیان معمول کے معاشی تعلقات استوار ہونے کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان کی مجموعی داخلی پیداوار میں سالانہ ایک سے دو فیصد اضافہ ہوجائے گا۔ ایسے دور میں کہ جب پاکستان سنگین معاشی بحران کا شکار ہے، اس کی معاشی نمو میں یہ اضافہ ایک اہم بات ہوگی۔ نئے کاروباری طبقات وجود میں آجائیں گے اور وہ ملک کے ان طبقات سے کہیں زیادہ آگے نکل جائیں گے جو یورپ اور امریکا سے تجارت پر اجارہ داری رکھتے ہیں۔ پہلے سے موجود کاروباری طبقہ اس تبدیلی سے یقینا خوفزدہ ہے۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات بہتر ہوں۔ تعلقات کو خراب رکھنے، جنگی جنون پیدا کرنے اور لوگوںکے دلوںمیں شکوک و شبہات پیدا کرکے اپنے موجودہ مفادات کو بچانے کے لیے وہ سرمایہ کاری کرتی ہیں اور کریں گے۔


آیندہ بھی ہمارے یہاں ایسی سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کی کمی نہیں ہے جنہوں نے نفرت کی بنیاد پر سیاست کرنے کا آسان راستہ اختیار کیا۔ ملک کے اندر انھوں نے مسلکی تفریق پیدا کی، خطے میں جنگی جنون کو فروغ دیا اور عالمی سطح پر تمام ملکوں کو اسلام اور پاکستان کا دشمن قرار دیا۔ ان سیاسی قوتوں کی بقا اس میں مضمر ہے کہ دوستی تو دور کی بات ہے دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان تعلقات بھی کبھی بہتر نہ ہوں۔ باہمی تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانا ان قوتوں کی سیاسی بقاء کا معاملہ ہے۔

دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ ملکوں اور قوموں کے درمیان دوستی اور مفاہمت نئی صدی کی ایک عالمی ضرورت ہے۔ دنیا کے ہر ملک کی طرح پاکستان میں بھی ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے پاس اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ یا تو وہ اپنے اندر نظریاتی اور سیاسی تبدیلی لاکر خود کو نئے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں یا پھر ماضی کی سیاسی روش پر کار بند رہ کر رفتہ رفتہ فنا ہوجائیں۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقعے پر میاں نواز شریف اور من موہن سنگھ کے درمیان 60 منٹ سے کچھ زیادہ جاری رہنے والی محض ایک ملاقات پر دونوں ملکوں کی بعض سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں نے جس ہیجانی ردعمل کا مظاہرہ کیا وہ اس حقیقت کا مظہر ہے کہ دونوں ملکوں کی بعض سیاسی قوتیں خود کو تبدیل کرنے پر قادر نہیں ہیں۔

نئی صدی کی نئی سیاست کا نقطۂ آغاز جمہوریت، امن، معاشی تعاون اور حقوق انسانی کے مکمل احترام جیسے اصولوں پر ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کی سیاست کو اب اس نئے سانچے میں ڈھلنا ہوگا۔ پاکستان میں کئی بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے سیاسی نقطۂ نظر اور رویوں کو بدلنے میں زیادہ دیر لگائی تو ان کی جگہ نئی سیاسی قوتیں سامنے آجائیں گی۔ اس تبدیلی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی میں لچک موجود ہے۔ اس وقت ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز بطور سیاسی جماعت، ایسے لوگوں اور کارکنوں پر مشتمل ہے جن کی سیاسی تربیت محاذ آرائی اور ہندوستان مخالفت پر ہوئی ہے ۔ البتہ نواز شریف کے سربراہ وزیر اعظم محمد نواز شریف، بے نظیر شہید کے بعد پاکستان کے وہ واحد قومی رہنما ہیں جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان کے اندر اپنی سیاسی فکر کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ 2013 کے عام انتخابات سے ذرا قبل ان کا یہ بیان کہ میں ''کرش انڈیا'' جیسے نعروں پر یقین نہیں رکھتا، ان کی سیاسی فکر میںایک بے مثال تبدیلی کا واضح اظہار ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان امن اور دوستی کے قیام کے لیے ان کی جرأت مندانہ پیش رفت نے ہندوستان کے منجھے ہوئے اور زیرک سیاستدانوں کو بھی ایک قدم پسپا ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ ادھرپاکستان میں اس وقت ایک سیاسی تقسیم صاف نظر آتی ہے۔ وہ سیاسی قوتیں جو نئی صدی کی سیاست کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں وہ خطے میں امن کی خواہاں نہیں ہیں اور وہ قوتیں جو اپنے طرز سیاست کو تبدیل کرنے کا جوہر رکھتی ہیں وہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان محاذ آرائی کے جلد خاتمے کے لیے پُرجوش ہیں۔

دونوں ملکوں کی طاقت ور نوکر شاہی کی مکمل پیشہ وارانہ تربیت کا محور تنازعات کو ابھارنے، محاذ آرائی پیدا کرنے اور مخاصمت کی فضا کو قائم رکھنا ہے۔ وزارت خارجہ سے وابستہ لوگوں کی لیاقت اور قابلیت اپنی جگہ لیکن ان کی تمام ذہانت تنازعات پیدا کرنے، الزامات لگانے یا دوسرے کے لگائے گئے الزامات کے جواب دینے میں صرف ہوتی ہے۔ ان کی دوسری مہارت یہ ہے کہ امریکا کو پاکستان کی وفاداری کا یقین دلا کر کس طرح اس کی خوشنودی حاصل کی جائے ۔ سیٹو سینٹو معاہدات سے لے کر افغان جہاد تک اور 9/11 کے بعد سے آج تک ہماری بیوروکریسی یہی کام کرتی چلی آئی ہے۔امن، دوستی اور معاشی تعلقات کے بارے میں ان کی پیشہ وارانہ مہارت نہ ہونے کے برابر ہے۔ لہٰذا وہ بھی دونوں ملکوں کے درمیان بہتر اور انقلابی تبدیلی سے خوفزدہ ہے، کیونکہ ایسا ہوگیا تو ان کی جگہ ایک نئی بیورو کریسی آجائے گی جس کا مقصد اور ایجنڈا تنازعات کو فوراً ختم کرنا، باہمی تعاون اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کی نوکر شاہی بہتر باہمی تعلقات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

ان رکاوٹوں کو دور کرنا پاکستانی وزیر اعظم کے بس کی بات نہیں۔اس کے لیے تبدیلی کی خواہاں جمہوری سیاسی قوتوں، سول سوسائٹی، لبرل اور روشن خیال طبقات کے درمیان اتفاق رائے اور بھرپور عزم کی ضرورت ہے۔
Load Next Story