سندھ ہائیکورٹ کے احکام کی خلاف ورزی پرانی گاڑیوں کی کلیئرنس کیلیے درآمد کنندہ کی موجودگی لازمی قرار

کلکٹر ایم سی سی اپریزمنٹ ویسٹ نے آرڈر جاری کر کے حکام کو امپورٹرزکے نمائندوں کی جی ڈیزکلیئرکرنے سے روک دیا

ایک ہفتے میں 4 گاڑیاں کلیئر ہو سکیں، ہائی کورٹ نے امپورٹر کی جگہ کسٹم ایجنٹ کو کلیئرنس کی اجازت دی تھی، ذرائع فوٹو: فائل

ISLAMABAD:
محکمہ کسٹمزنے سندھ ہائی کورٹ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درآمدکی جانے والی استعمال شدہ گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے درآمدکنندہ کی موجودگی کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ماڈل کسٹمز کلکٹریٹ اپریزمنٹ ویسٹ کے کلکٹر محمد سلیم کی جانب سے جاری ہونے والے آرڈرکے تحت کسٹمزحکام کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایسی تمام گڈزڈیکلریشن جو کسٹمز ایجنٹس نے گاڑیوں کے درآمدکنندگان کے نمائندوں کے طورپر جمع کرائی ہیں ان کی کلیئرنس روک دی جائے اور صرف گاڑیوں کے مالکان کی موجودگی پر ہی گاڑیوں کی کلیئرنس کی جائے جس کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران صرف 4گاڑیوں کی کلیئرنس عمل میں آئی ہے جبکہ گاڑیوں کی کلیئرنس نہ ہونے سے ایف بی آر کو ہونے والی محصولات کی وصولی بھی رک گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے 21 جون 2010 کو دیے گئے فیصلے 1861/2010 میں کہا گیا ہے کہ گاڑیوں کی درآمد میں کسٹمزایجنٹ درآمدکنندہ کی جگہ گاڑی کلیئرکراسکتاہے اس کے لیے کسٹمزایجنٹ کے پاس مکمل کاغذات کا ہونا لازمی ہے۔




فیصلہ میں کہاگیا کہ گاڑی کسی بھی انفرادی شخص کے نام پر درآمد ہوئی ہو مگر اس کے کاغذات ڈیلرکے پاس ہوں تووہ ڈیلر کسٹمز ایجنٹ کے ذریعے گاڑی کی کلیئرنس کرا سکتاہے، ان کاغذات کی موجودگی ڈیلرکے پاس اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ درآمدکنندہ نے ڈیلر کو اختیار دیا ہے کہ وہ گاڑی کو محکمہ کسٹمزسے کلیئرکراسکے۔

سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں محکمہ کسٹمزکوپابندکیاگیا کہ کلیئرنگ ایجنٹ کے ذریعے درآمدکی جانے والی گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے جمع کرائے گئے کاغذات پر عمل درآمد کیا جائے۔ واضح رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے کسٹمز افسران کے خلاف درج کی جانے والی جعلسازی کی ایف آئی آرکے خلاف کلکٹراپریزمنٹ ویسٹ محمد سلیم کی جانب سے ممبرکسٹمزکو لکھے گئے مکتوب میں سندھ ہائی کورٹ کے مذکورہ فیصلہ کاحوالہ دیتے ہوئے کسٹمز افسران کے خلاف درج کی جانے والی ایف آئی آرختم کرنے کے لیے 'ایف آئی اے' پر دباؤ بڑھانے کا کہا گیا ہے لیکن دوسری جانے کلکٹر اپریزمنٹ ویسٹ محمد سلیم نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گاڑیوں کی کلیئرنس کے لیے درآمدکنندہ کی موجودگی کولازمی قرار دے دیا ہے۔
Load Next Story