یواے ای سیریز پروٹیز پیسرز زیادہ مہلک ثابت نہیں ہونگے مصباح

سخت کنڈیشنز اور گرمی میں مہمان سائیڈ کیلیے پرفارم کرنا مشکل ہوگا، اسپنرز زیادہ موثر رہ سکتے ہیں، پاکستانی کپتان

پروٹیز عالمی نمبر ون ہیں لیکن یہاں انھیں موسم کا بھی مقابلہ کرنا ہے،مصباح۔ فوٹو: فائل

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی مشکل کنڈیشنز اور سخت گرمی میں جنوبی افریقی پیسرز زیادہ مہلک ثابت نہیں ہونگے۔

کوچ ڈیو واٹمور نے پروٹیز کیخلاف سیریز کو اپنے کیریئر کے مشکل ترین چیلنجز میں سے ایک قرار دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی پلیئرز نے گذشتہ روز کوچ ڈیو واٹمورکی زیرنگرانی3گھنٹے تک ٹریننگ کی،40ڈگری درجہ حرارت اور سخت حبس میں پروٹیزپریشان نظر آئے،دوسری طرف مصباح الحق ان کنڈیشنز کو اپنے حق میں قرار دیتے ہوئے اس کا فائدہ اٹھانے کا سوچ رہے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ یو اے ای کا ماحول یکسر مختلف اور کنڈیشنز مشکل ہیں، پروٹیز عالمی نمبر ون ہیں لیکن یہاں انھیں موسم کا بھی مقابلہ کرنا ہے، ڈیل اسٹین اور ورنون فلینڈر کو ہوم گرائونڈز جیسا فائدہ حاصل نہیں ہوگا، پیسرز کو پچز پر 10سے 15ملی میٹر گھاس نظر نہیں آئے گی تاہم ورلڈ کلاس فاسٹ بولرز کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔




انھوں نے توقع ظاہر کی کہ اسپنرز زیادہ موثر ثابت ہوسکتے ہیں لیکن ہماری ٹیم کو اپنے لیے موزوں کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھانے کیلیے سخت محنت کرنا ہوگی،اگر 2010میں سیریز جیسی کارکردگی دہرائی تو کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ مصباح الحق نے امید ظاہر کی کہ اے ٹیم کے پریکٹس میچ میں کوئی ایک نوجوان کھلاڑی عمدہ پرفارمنس سے اتنا اعتماد حاصل کرلے گا کہ اوپننگ میں محمد حفیظ کا خلا پُر کرسکے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں افتتاحی جوڑی میں تبدیلی کا فیصلہ کرنا پڑا، یو اے ای کی کنڈیشنز میں آل رائونڈر کی شمولیت سے بولنگ زیادہ مضبوط ہوتی۔

محمد حفیظ نے توفیق عمر کے ساتھ مل کر ٹیم کو کئی اچھے اوپننگ اسٹینڈ فراہم کیے لیکن گذشتہ2سیریز میں آئوٹ آف فارم نظر آنے کے بعد انھیں کچھ آرام دینا ہی دانشمندانہ فیصلہ تھا، 3 ماہ کے وقفے سے ٹیسٹ سیریز ملنے سے ہمارے لیے ایسے ہی مسائل پیدا ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اوپننگ آسان کام نہیں، ہماری ٹیم کیلیے اچھا آغاز انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اسی لیے مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ دریں اثناکوچ ڈیو واٹمور نے کہا کہ پروٹیز کے خلاف سیریز میرے کیریئر کے مشکل ترین چیلنجز میں سے ایک ہے، البتہ دورئہ جنوبی افریقہ کی بانسبت اس بار کنڈیشنز مختلف اور ہماری تیاریاں بھی الگ نوعیت کی اور مکمل ہیں۔
Load Next Story