پہلا ٹیسٹ انجانے خوف نے کیویز کی دھڑکنیں تیز کردیں
2010 کی تلخ یادیں بھوت بن کر اعصاب پر سوار، بنگال ٹائیگرز کے حوصلے بلند
ہم ہر فارمیٹ میں فتح کا پرچم بلند کرکے ہی دم لیں گے،میک کولم:فوٹو۔فائل
بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلے ٹیسٹ کا آغاز بدھ سے چٹاگانگ میں ہورہا ہے، انجانے خوف نے کیویز کی دھڑکنیں تیز کردیں۔
2010 کی تلخ یادیں بھوت بن کر اعصاب پر سوار ہیں، کپتان برینڈن میک کولم کا کہنا ہے کہ ہم ہر فارمیٹ میں فتح کا پرچم بلند کرکے ہی دم لیں گے۔ دوسری جانب بنگال ٹائیگرز کے حوصلے بلند ہیں، ایک بار پھر اسپن کنڈیشنز کے بل پر وہ نیوزی لینڈ کو پچھاڑنے کے خواب دیکھنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان اب تک 9 ٹیسٹ کھیلے جا چکے، ان میں سے صرف ایک ڈرا ہوا جبکہ 8 میں کیویز نے فتح حاصل کی،5 میں اسے اننگز سے کامیابی حاصل ہوئی، اس کے باوجود ٹیم کے خوف میں مبتلا ہونے کی وجہ 2010 کا ٹور ہے، اس میں نیوزی لینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں بڑی مشکل سے 1-0 سے کامیابی حاصل ہوئی جبکہ ون ڈے میں 0-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کپتان برینڈن میک کولم کا کہنا ہے کہ وہ سیریز ہمارے لیے ایک اچھا سبق تھی کہ ہمیں کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیے، اس شکست کا درد اب بھی محسوس ہوتا ہے، وہ ٹور کئی لوگوں کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہوا تھا ، کھلاڑیوں کے کیریئر اور ملک کا تشخص متاثر ہوا، اب ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم اس بار یہاں پر کھیلے جانے والے تمام فارمیٹس میں کامیابی حاصل کریں۔ مہمان سائیڈ کو اس سیریز میں ٹم سائوتھی اور مارٹن گپٹل کی انجریز کے باعث خدمات حاصل نہیں ہیں، لیفٹ آرم اسپنر بروس مارٹن میدان میں اتریں گے،ڈین برائونلی اور کورے اینڈرسن میں مقابلہ ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کو فکسنگ میں ملوث اپنے سابق کپتان محمد اشرفل کی جگہ بیٹنگ آرڈر میں تیسری پوزیشن پر نئے کھلاڑی کو آزمانا ہوگا، ایوب مارشل کا ڈیبیو ہوسکتا ہے۔
2010 کی تلخ یادیں بھوت بن کر اعصاب پر سوار ہیں، کپتان برینڈن میک کولم کا کہنا ہے کہ ہم ہر فارمیٹ میں فتح کا پرچم بلند کرکے ہی دم لیں گے۔ دوسری جانب بنگال ٹائیگرز کے حوصلے بلند ہیں، ایک بار پھر اسپن کنڈیشنز کے بل پر وہ نیوزی لینڈ کو پچھاڑنے کے خواب دیکھنے لگے۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان اب تک 9 ٹیسٹ کھیلے جا چکے، ان میں سے صرف ایک ڈرا ہوا جبکہ 8 میں کیویز نے فتح حاصل کی،5 میں اسے اننگز سے کامیابی حاصل ہوئی، اس کے باوجود ٹیم کے خوف میں مبتلا ہونے کی وجہ 2010 کا ٹور ہے، اس میں نیوزی لینڈ کو ٹیسٹ سیریز میں بڑی مشکل سے 1-0 سے کامیابی حاصل ہوئی جبکہ ون ڈے میں 0-4 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
کپتان برینڈن میک کولم کا کہنا ہے کہ وہ سیریز ہمارے لیے ایک اچھا سبق تھی کہ ہمیں کیا کرنا اور کیا نہیں کرنا چاہیے، اس شکست کا درد اب بھی محسوس ہوتا ہے، وہ ٹور کئی لوگوں کے لیے کافی نقصان دہ ثابت ہوا تھا ، کھلاڑیوں کے کیریئر اور ملک کا تشخص متاثر ہوا، اب ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہم اس بار یہاں پر کھیلے جانے والے تمام فارمیٹس میں کامیابی حاصل کریں۔ مہمان سائیڈ کو اس سیریز میں ٹم سائوتھی اور مارٹن گپٹل کی انجریز کے باعث خدمات حاصل نہیں ہیں، لیفٹ آرم اسپنر بروس مارٹن میدان میں اتریں گے،ڈین برائونلی اور کورے اینڈرسن میں مقابلہ ہے۔ دوسری جانب بنگلہ دیش کو فکسنگ میں ملوث اپنے سابق کپتان محمد اشرفل کی جگہ بیٹنگ آرڈر میں تیسری پوزیشن پر نئے کھلاڑی کو آزمانا ہوگا، ایوب مارشل کا ڈیبیو ہوسکتا ہے۔