بڑے ریاستی اداروں کی تقرریوں میں شفافیت کو مقدم رکھا جائے چیف جسٹس
ذاتی پسند کی بنیادپر اعلیٰ عہدیداروں کی تقرری کرکےاداروں کے ساتھ انصاف نہیں کیاجاتا،وفاقی محتسب تقرری کیس میں ریمارکس
ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر آنچ نہیں آنے دیں گے،سپریم کورٹ۔ فوٹو: فائل
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کہ ریاست کے بڑے اداروںکے اعلیٰ عہدیداروں کی تقرری میں ذاتی پسند ناپسند کے بجائے شفافیت کو مقدم رکھا جائے۔
منگل کووفاقی محتسب کی تقرری کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران انھوں نے ریمارکس دیے کہ ہمیںکسی کی ذات سے اختلاف یا اس میں دلچسپی نہیں لیکن ذاتی پسند ناپسندکی بنیاد پر اعلیٰ عہدیداروںکی تقرری کرکے بڑے بڑے ریاستی اداروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ کارروائی کے دوران حکومت نے بھی وفاقی محتسب سلمان فاروقی کی تقرری کا دفاع کیا اور تقرری کا عمل قانون کے مطابق قرار دیا ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وفاقی محتسب کوئی معمولی عہدہ نہیں، ہم ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر آنچ نہیں آنے دیںگے، قانون کی حکمرانی اس وقت قائم ہوگی جب تقرریوںکاعمل شفاف اور ذاتی پسند و ناپسند سے پاک ہوگا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ سلمان فاروقی کی تقرری کے بارے میں مختلف حکومتی اداروںکے موقف میں تضاد ہے لیکن حکومت وزارت قانون کے موقف کی تائید کرتی ہے، درخواست گزارکے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔انھوں نے درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔ اس سے پہلے سلمان فاروقی کے وکیل وسیم سجاد نے دلائل نمٹاتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ مقدمہ سننے کا اختیار نہیںکیونکہ تقرری سے درخواست گزارکی حق تلفی نہیں ہوئی،اگر پرنٹنگ پریس میںکہیں پر غلطی ہوئی ہے تو انکوائری ہونی چاہیے لیکن یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست گزارکا موقف ہے کہ تقرری کا عمل غیر شفاف ہے جوعوام کے ساتھ ناانصافی ہے ، عدالت عدم شفافیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔دلائل جاری تھے کہ سماعت آج (بدھ )تک ملتوی کردی گئی ۔
منگل کووفاقی محتسب کی تقرری کیخلاف مقدمے کی سماعت کے دوران انھوں نے ریمارکس دیے کہ ہمیںکسی کی ذات سے اختلاف یا اس میں دلچسپی نہیں لیکن ذاتی پسند ناپسندکی بنیاد پر اعلیٰ عہدیداروںکی تقرری کرکے بڑے بڑے ریاستی اداروں کے ساتھ انصاف نہیں کیا جاتا۔ کارروائی کے دوران حکومت نے بھی وفاقی محتسب سلمان فاروقی کی تقرری کا دفاع کیا اور تقرری کا عمل قانون کے مطابق قرار دیا ۔جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ وفاقی محتسب کوئی معمولی عہدہ نہیں، ہم ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر آنچ نہیں آنے دیںگے، قانون کی حکمرانی اس وقت قائم ہوگی جب تقرریوںکاعمل شفاف اور ذاتی پسند و ناپسند سے پاک ہوگا۔
وفاقی حکومت کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا کہ سلمان فاروقی کی تقرری کے بارے میں مختلف حکومتی اداروںکے موقف میں تضاد ہے لیکن حکومت وزارت قانون کے موقف کی تائید کرتی ہے، درخواست گزارکے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔انھوں نے درخواست خارج کرنے کی استدعا کی۔ اس سے پہلے سلمان فاروقی کے وکیل وسیم سجاد نے دلائل نمٹاتے ہوئے کہا کہ عدالت کو یہ مقدمہ سننے کا اختیار نہیںکیونکہ تقرری سے درخواست گزارکی حق تلفی نہیں ہوئی،اگر پرنٹنگ پریس میںکہیں پر غلطی ہوئی ہے تو انکوائری ہونی چاہیے لیکن یہ عدالت کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ درخواست گزارکا موقف ہے کہ تقرری کا عمل غیر شفاف ہے جوعوام کے ساتھ ناانصافی ہے ، عدالت عدم شفافیت کا جائزہ لے سکتی ہے۔دلائل جاری تھے کہ سماعت آج (بدھ )تک ملتوی کردی گئی ۔