طالبان قومی دھارے میں آنے کیلیے خود کو تیار کریں فاروق ستار
متحدہ طالبان سے مذاکرات کے خلاف نہیں، مسائل کے حل کیلیے مذکرات ضروری ہیں،رہنما ایم کیو ایم
سندھ حکومت ٹارگٹڈ آپریشن کومتنازع بنارہی ہے، بلاجواز گرفتاریوں پراحتجاج کا حق رکھتے ہیں۔ فوٹو: فائل
متحدہ قومی موومنٹ کے قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈرڈاکٹرفاروق ستارنے کہاہے کہ تحریک طالبان پاکستان کوقومی دھارے میں آنے کیلیے اب خودکوتیار کرنا ہوگا اور مسائل کے حل کیلیے مذکرات ضروری ہیں۔
ایم کیو ایم طالبان سے مذاکرات کے خلاف نہیں،کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے256 میں ووٹوں کے حوالے سے نادرانے الیکشن ٹریبونل کوجو رپورٹ دی ہے اس رپورٹ میں یہ کہیں نہیں کہا گیاکہ الیکشن کے دن ڈالے گئے77 ہزار ووٹ جعلی ہیں بلکہ نادرانے اپنی رپورٹ میں واضح کیاہے کہ یہ ووٹ غیرتصدیق شدہ ہیں ، ہوسکتا ہو یہ ووٹ غلط سیاہی کے استعمال کی وجہ سے ناقابل تصدیق قراردیے گئے ہوں،سندھ حکومت کے اقدامات کراچی آپریشن کومتنازع بنارہے ہیں اوران اقدامات کے باعث یہ آپریشن سیاسی رنگ اختیار کرتاجارہاہے، ایم کیو ایم بلاجواز گرفتاریوں اور چھاپوں کے خلاف احتجاج کا آئینی حق محفوظ رکھتی ہے۔
لندن سے کراچی واپسی پرایئرپورٹ پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، طالبان کو قومی دھارے میں لانے کیلیے مذاکراتی عمل فوری شروع کرنے کی ضرورت ہے اورامن کو موقع دینے کے لیے مذاکرات کو موقع دینا ضروری ہے۔
انھوں نے کہاکہ جرائم پیشہ عناصرکراچی کو تباہ کررہے ہیں،ان تمام جرائم پیشہ عناصر کامافیا کے دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑہے،ایم کیو ایم نے 2002 سے2007 تک کراچی میں امن قائم کر کے دکھایا تھا،جب ہمارے پاس اختیار تھا تو بھتہ خوری، اغوا،دیگر جرائم میں کمی ہوئی تھی،پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت آپریشن میں جوکردار ادا کررہی ہے اورمتحدہ قومی موومنٹ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنارہی ہے اس سے آپریشن متنازع ہوچکاہے،اگر آپریشن کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا تاثر ختم نہ کیا گیا تو آپریشن شروع کرنے کے پیچھے کراچی میں قیام امن کا جو نیک مقصدتھا وہ فوت ہوجائے گا،کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے پیچھے صوبائی حکومت کے کیا مقاصد ہیں انہیں سامنے لانا بے حد ضروری ہے۔
ایم کیو ایم طالبان سے مذاکرات کے خلاف نہیں،کراچی کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے256 میں ووٹوں کے حوالے سے نادرانے الیکشن ٹریبونل کوجو رپورٹ دی ہے اس رپورٹ میں یہ کہیں نہیں کہا گیاکہ الیکشن کے دن ڈالے گئے77 ہزار ووٹ جعلی ہیں بلکہ نادرانے اپنی رپورٹ میں واضح کیاہے کہ یہ ووٹ غیرتصدیق شدہ ہیں ، ہوسکتا ہو یہ ووٹ غلط سیاہی کے استعمال کی وجہ سے ناقابل تصدیق قراردیے گئے ہوں،سندھ حکومت کے اقدامات کراچی آپریشن کومتنازع بنارہے ہیں اوران اقدامات کے باعث یہ آپریشن سیاسی رنگ اختیار کرتاجارہاہے، ایم کیو ایم بلاجواز گرفتاریوں اور چھاپوں کے خلاف احتجاج کا آئینی حق محفوظ رکھتی ہے۔
لندن سے کراچی واپسی پرایئرپورٹ پرصحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور عالمی سطح پر پاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے، طالبان کو قومی دھارے میں لانے کیلیے مذاکراتی عمل فوری شروع کرنے کی ضرورت ہے اورامن کو موقع دینے کے لیے مذاکرات کو موقع دینا ضروری ہے۔
انھوں نے کہاکہ جرائم پیشہ عناصرکراچی کو تباہ کررہے ہیں،ان تمام جرائم پیشہ عناصر کامافیا کے دہشت گردوں کے ساتھ گٹھ جوڑہے،ایم کیو ایم نے 2002 سے2007 تک کراچی میں امن قائم کر کے دکھایا تھا،جب ہمارے پاس اختیار تھا تو بھتہ خوری، اغوا،دیگر جرائم میں کمی ہوئی تھی،پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت آپریشن میں جوکردار ادا کررہی ہے اورمتحدہ قومی موومنٹ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنارہی ہے اس سے آپریشن متنازع ہوچکاہے،اگر آپریشن کے ذریعے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کا تاثر ختم نہ کیا گیا تو آپریشن شروع کرنے کے پیچھے کراچی میں قیام امن کا جو نیک مقصدتھا وہ فوت ہوجائے گا،کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے پیچھے صوبائی حکومت کے کیا مقاصد ہیں انہیں سامنے لانا بے حد ضروری ہے۔