محکمہ پولیس آئوٹ آف ٹرن ترقیوں کا جائزہ نہ لینے پر عدالت برہم

بڑی مچھلیوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نےچیف سیکریٹری اورآئی جی کو نوٹس،پیرتک جواب داخل اورڈیپوٹیشن پرتعینات افسران کی فہرست بھی پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی. ۔ فوٹو: فائل

TEL AVIV:
سپریم کورٹ آف پاکستان نے محکمہ پولیس میں آوٹ آف ٹرن ترقیوں کے جائزے سے متعلق حکم پر عملدرآمد نہ کرنے برہمی کااظہارکرتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیے ہیں ،عدالت عظمیٰ نے دونوں افسران کو پیر تک جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے ،جسٹس انورظہیر جمالی اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے ہدایت کی ہے کہ ڈیپوٹیشن پرتعینات ہونیوالے افسران کی فہرست بھی پیش کی جائے۔

فاضل عدالت نے ڈیپوٹیشن پر تعینات سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لونڈ اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ذوالفقار نظامانی سمیت دیگر افسران کو ان کے اصل محکموں میں واپس جانے کا بھی حکم دیا ہے، فاضل بینچ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ کانسٹیبل اور چھوٹے افسران کی تنزلی کردی گئی مگر اعلیٰ افسران کا معاملہ جوں کا توں ہے ، بڑی مچھلیوں پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا، سیکریٹری سروسز اقبال درانی اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عدنان کریم نے بینچ کو بتایا کہ عدالت کے حکم پر 5ہزار اہلکاروں کی تنزلی کی گئی،جسٹس امیرہانی مسلم نے ریمارکس دیے کہ نچلی سطح کے افسران کی تو تنزلی کردی گئی لیکن یہ بتایا جائے کہ اعلیٰ افسران میں سے کتنے اپنے اصل عہدوں پر واپس گئے ۔

دو رکنی بینچ نے استفسار کیا کہ عدالت نے رول 8 کے تحت ڈی ایس پیز اور اس سے بالا عہدوں کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی ، بینچ کو بتایا گیا کہ یہ کمیٹی تشکیل دینا چیف سیکریٹری کا اختیار ہے ، تاہم دوسال سے اس کمیٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوسکا، دو رکنی بینچ نے سندھ اسمبلی کی جانب سے ملازمتوں کے انضمام کے ایکٹ کے خلاف درخواستیں سماعت کیلیے بڑے بینچ کو بھجوادیں، تین ججوں پر مشتمل بڑا بینچ انضمام کے قانون کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں کا بھی جائزہ لے گا،جمعہ کوسماعت کے موقع پر سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لوند کے وکیل فروغ نسیم نے موقف اختیار کیا کہ علی احمد لوند ڈی سی او کا عہدہ چھوڑ چکے تھے۔


تاہم انھیں بعدازاں سیکریٹری بلدیات مقرر کیا گیا جو کہ ڈیپوٹیشن کی تعیناتی نہیں،عدالت نے بیرسٹرفروغ نسیم کے موقف سے اتفاق نہیں کیا جس پر انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت اپنے حکم میں حکومت کو یہ اختیاردے کہ حکومت چاہے تو علی احمد لوند کی خدمات سے مستفید ہوتی رہے ،عدالت نے ان کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ علی احمد لوند فوری طور پر اپنے اصل محکمے ٹریڈ اینڈ کامرس(وفاق)میں واپس چلے جائیں،جسٹس امیرہانی مسلم نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ یہ اصول کی بات ہے ہمیں کسی سے ذاتی اختلاف نہیں،ڈپٹی ڈائریکٹراینٹی کرپشن ذوالفقار نظامانی نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ اینٹی کرپشن ،سروسز اینڈجنرل ایڈمنسٹریشن کا حصہ ہے ، اس لیے انکی تعیناتی بھی ڈیپوٹیشن پر نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ سروسز اینڈجنرل ایڈمنسٹریشن میں بعض محکموں کیلیے علیحدہ کوٹہ ہے تاہم درخواست گزار کا اصل محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ہے اس لیے وہ فوری طور پر اپنے محکمے میں واپس جائیں،اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی آغامقصود نے عدالت کو بتایا کہ وہ لوکل گورنمنٹ کے ملازم ہیں اور ایل ڈی اے بھی اسی کا حصہ ہے ، ان کی تعیناتی ڈیپوٹیشن پر نہیں، ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل عدنان کریم نے عدالت کو بتایا کہ جب آغا مقصود کو تعینات کیا تھا تو یہ عہدہ کیڈرپوسٹ کا تھا تاہم ایل ڈی اے اتھارٹی ہے اور اس کے اپنے قوانین ہیں ،اس لیے یہ پوسٹ نان کیڈر ہے،عدالت نے آغا مقصود کو ہدایت کی کہ وہ کمنٹس تحریری طور پر جمع کرادیں۔

عدالت نے آبزرو کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے 2009میںچیف سیکریٹری کو آئوٹ آف ٹرن ترقیوں کا جائزہ لینے کیلیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی مگر اس کمیٹی نے کام شروع نہیں کیا،عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی، فاضل بینچ نے ابزارپشن ایکٹ کے خلاف ڈاکٹر نسیم سہتو اور دیگر کی درخواستیں تین رکنی فل بینچ کو ریفر کردیں۔
Load Next Story