ایسا کیوں۔۔۔۔

آخر مُحسن کو بتانا ہی پڑا۔ پاپا! میرا ایک کلاس فیلو ہے عمران، وہ بہت غریب ہے۔

آخر مُحسن کو بتانا ہی پڑا۔ پاپا! میرا ایک کلاس فیلو ہے عمران، وہ بہت غریب ہے۔ فوٹو:اےایف پی

محسن بیٹا! کہاں ہو؟ محسن بیٹا!
کچن میں کام کرتی بیگم معاویہ مسلسل اپنے بیٹے کو پکار رہی تھیں پھر جب دوسری طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو وہ چولھے کی آنچ ہلکی کرکے محسن کے کمرے میں گئیں۔ وہ کسی سوچ میں گم تھا۔
بیٹا! خیریت تو ہے؟ اتنے پریشان کیوں ہو؟ اور ابھی تک یونیفارم بھی تبدیل نہیں کیا؟ بیگم معاویہ نے محسن سے پوچھا تو محسن ایک دم چونکا، جیسے اچانک کسی ایک دنیا سے دوسری دنیا میں آگیا ہو۔ پھر خود کو سنبھالتے ہوئے بولا، نہیں مما! کوئی بات نہیں ہے بس ویسے ہی۔

پھر کیوں اتنے پریشان ہو؟ جب سے آئے ہو، اپنے کمرے ہی میں بیٹھے ہو۔ جلدی سے یونیفارم تبدیل کرکے کھانے کی میز پر پہنچو۔ کھانا تیار ہے، پھر ٹیوشن پڑھنے بھی جانا ہے۔ چلو شاباش، جلدی کرو بیٹا! مما بولیں۔
اچھا مما! آتا ہوں، آپ جائیں۔ محسن نے پھیکی مسکراہٹ چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔
کھانے کی میز پر اُس کے پاپا نے بھی سوال کیا۔ کیا بات ہے بیٹا! تم آج کل بہت پریشان دکھائی دے رہے ہو؟


نہیں پاپا! ایسی کوئی بات نہیں، آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔ محسن نے دوبارہ پھیکی مسکراہٹ اپنے چہرے پر سجاتے ہوئے کہا۔
دیکھو بیٹا! ایسے نہیں چلے گا، تمہیں بتانا پڑے گا۔ ہم تمہارے والدین ہیں۔ ہمیں تمہاری ہر خوشی اور غم کا خیال رہتا ہے۔ بتائو! کیا پریشانی ہے؟ میں ضرور تمہاری مدد کروںگا۔

آخر مُحسن کو بتانا ہی پڑا۔ پاپا! میرا ایک کلاس فیلو ہے عمران، وہ بہت غریب ہے۔ اس کا باپ فوت ہوچکا ہے اور ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتی ہے۔ وہ اپنی چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے۔ ہر والدین کی طرح اس کی ماں کا بھی خواب ہے کہ اُن کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا افسر بننے۔ پاپا! آپ کو پتا ہے، آج بیس تاریخ ہے اور پچھلے دو مہینوں سے عمران کی اسکول فیس جمع نہیں ہوسکی۔ کلاس ٹیچر روزانہ اس کی بہت بے عزتی کرتے ہیں۔ آج تو انہوں نے حد ہی کردی۔ اس کو بہت مارا اور پھر کلاس سے نکال دیا۔

اس کی آنکھوں میں آنے والے آنسوئوں سے میرا دل ٹوٹ گیا۔ مَیں اس کی مدد کرنا چاہتا ہوں مگر کیسے کرسکتا ہوں؟ میری تو اپنی پاکٹ منی اتنی نہیں ہے کہ اُس کی فیس ادا کرسکوں۔ اور آپ کی آمدنی بھی اتنی نہیں ہے۔ مگر پاپا! ہمارے ملک میں ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟ غریبوں کے ساتھ اتنا ناروا سلوک کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا وہ انسان نہیں۔۔۔۔ کیا ان کا اس دنیا میں جینے کا کوئی حق نہیں؟ کیا اسلام ہمیں برابر کا حق نہیں دیتا؟ پھر غریب کے ساتھ اتنا برا سلوک کیوں ہوتا ہے؟

مُحسن کے پاپا کے پاس بھی اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ لیکن کاش۔۔۔!ایسا نہ ہوتا۔
Load Next Story