معاشی بہتری کے اشارے
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہی حکومت کے لیے سردرد بنی ہوئی ہے جس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کررکھا ہے
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہی حکومت کے لیے سردرد بنی ہوئی ہے جس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کررکھا ہے (فوٹو: فائل)
SAO PAULO/BRASILIA:
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے یہ مژدہ جانفزا سنایا ہے کہ حکومت نے جو مشکل فیصلے کیے تھے اس سے معیشت میں بہتری کے ثمرات آنے لگے ہیں، حکومت نے 3 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے بھی کوئی قرض نہیں لیا، رواں مالی سال میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.7ارب ڈالر ہو گیا، ایکسچینج ریٹ مستحکم اور نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے ہفتے کو سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ وترجمان وزارت خزانہ عمر حمید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کا مؤقف ہے کہ منی لا نڈرنگ رکنی چاہیے ، ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کے لیے کئی بلین ڈالرز ضایع کیے گئے، 8لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا، ریونیو میں 16فیصد اضافہ اور اخراجات کو سختی سے کنٹرول کیا ہوا ہے، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کمی کی گئی۔
عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ اچھے پروگرام شروع کیے، ان اداروں سے 10 سال کے لیے اضافی رقوم حاصل کرکے مالیاتی ذخائر کی صورتحال کو بہتر بنایا گیا،کوشش ہے جلد از جلد گرے لسٹ سے نکل آئیں۔ انھوں نے معاشی صورت حال اور حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ٹیکسٹائل سمیت پانچ برآمدی شعبوں کو سپورٹ فراہم کی جاتی ہے، حکومت مزید برآمدی شعبوں کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان نے دو بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے، درآمدات میں کمی لائی گئی ہے اور تجارتی خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی جب کہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت آئی تو ملک کے معاشی حالات برے تھے اور ملک پر 30 ہزار ارب کے قرضے تھے، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک سے قرضے ملے۔حفیظ شیخ جو کہہ رہے ہیں ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ، ملک کا معاشی نظام چلانے کے لیے کن مطلوبہ اشاریوں اور لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے، اس کو حکومتی معاشی بزرجمہر ہی بہتر جانتے ہیں۔
عام آدمی کو معاشی گورکھ دھندوں کی فہم نہیں ہوتی، ملکی معاشی نظام چلانے کے لیے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی، وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ حکومت نے اس کی زندگی کو سہل بنانے کے لیے کن سہولتوں کا اعلان کیا ہے، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی تک اس کی رسائی میں کیا آسانیاں پیدا کی گئی ہیں، یوٹیلیٹی بلز میں کتنی کمی کی گئی ہے۔
اگر تو حکومت اسے یہ تمام مطلوبہ چیزیں بآسانی فراہم کر دیتی ہے تو اس کے لیے حکومت کا معاشی نظام سب سے بہترین ہے اور اگر یہ چیزیں مہنگی ہوتی چلی جائیں اور ان کے حصول میں مالی دشواریاں حائل ہونے لگیں تو وہ حکومت کی ہر معاشی پالیسی سے بیزاری کا اظہار کرنے لگتا ہے۔
اس امر میں کوئی شائبہ نہیں کہ اس وقت ملک کو شدید معاشی مسائل درپیش ہیں اور مالی بحران ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے جس کا اظہار حفیظ شیخ نے کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی تو ملک پر 30 ہزار ارب کے قرضے تھے، دوسری جانب تجارتی خسارہ بھی بہت زیادہ تھا، حکومت اس مالی گرداب سے نکلنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔
انھوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ پاکستان کی معیشت سے متعلق بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا ہے اور گزشتہ تین ماہ میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے، 5 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا اور ریونیو میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، رواں مالی سال تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.7 ارب ڈالر ہو گیا ہے جب کہ پی ایس ڈی پی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال زیادہ پیسے جاری کیے گئے ہیں۔
حفیظ شیخ کے پیش کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں معاشی بہتری کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشی نظام درست پٹڑی پر چڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت پانچ برآمدی شعبوں کو سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت مزید برآمدی شعبوں کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے، اسی وجہ سے اب تیل کی قیمتیں نہیں بڑھیں۔ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کے لیے اربوں ڈالرز ضایع کیے گئے،کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور نئی ملازمتیں نکلیں گی۔
اس وقت امریکا اور یورپ کی معاشی ترقی میں سائنس و ٹیکنالوجی کا بڑا ہاتھ ہے اور انھوں نے اس کی فروخت سے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔پاکستانی حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں پر صنعت کاروں اور تاجروں کے طبقے کو بہت سے تحفظات ہیں، وہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ خوش نہیں، یہی وجہ ہے کہ تاجروں کا ایک طبقہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ملک میں ہڑتال کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ تاجروں سے متعدد بار مذاکرات ہو چکے ہیں جو اب بھی جاری ہیں، چھوٹے تاجروں کے فکس ریٹ پر حکومت متفق ہے جب کہ شناختی کارڈ کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس معاملے پر تاجروں کو مطمئن کر لیں گے۔ داخلی مسائل تو رہے ایک طرف، عالمی سطح پر بھی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہی حکومت کے لیے سردرد بنی ہوئی ہے جس نے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی آڑ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر رکھا ہے اور وہ مسلسل دھمکیاں دے رہی ہے کہ اس کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو پاکستان بلیک لسٹ بھی ہو سکتا ہے۔ حفیظ شیخ نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے27 میں سے 20 پر اقدامات کیے جا چکے ہیں، کوشش ہے کہ پاکستان جلد ازجلد گرے لسٹ سے نکل آئے۔ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کر رہی ہے لیکن عام آدمی کی سوچ اس کے برعکس ہے۔
وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، یوٹیلیٹی بلز میں اضافے سے پریشان ہے۔ اس کے نزدیک حکومت کی معاشی پالیسیاں تب ہی کامیاب متصور ہوں گی جب اس کی زندگی میں مالی آسودگی آئے گی۔
مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے یہ مژدہ جانفزا سنایا ہے کہ حکومت نے جو مشکل فیصلے کیے تھے اس سے معیشت میں بہتری کے ثمرات آنے لگے ہیں، حکومت نے 3 ماہ کے دوران اسٹیٹ بینک سے بھی کوئی قرض نہیں لیا، رواں مالی سال میں تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.7ارب ڈالر ہو گیا، ایکسچینج ریٹ مستحکم اور نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔
مشیر خزانہ نے ہفتے کو سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ، چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی اور ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ وترجمان وزارت خزانہ عمر حمید کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام اداروں کا مؤقف ہے کہ منی لا نڈرنگ رکنی چاہیے ، ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کے لیے کئی بلین ڈالرز ضایع کیے گئے، 8لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا، ریونیو میں 16فیصد اضافہ اور اخراجات کو سختی سے کنٹرول کیا ہوا ہے، سویلین حکومت کے اخراجات میں 40ارب روپے کمی کی گئی۔
عالمی مالیاتی فنڈ، عالمی بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے ساتھ اچھے پروگرام شروع کیے، ان اداروں سے 10 سال کے لیے اضافی رقوم حاصل کرکے مالیاتی ذخائر کی صورتحال کو بہتر بنایا گیا،کوشش ہے جلد از جلد گرے لسٹ سے نکل آئیں۔ انھوں نے معاشی صورت حال اور حکومتی ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شروع سے یہ روایت چلی آ رہی ہے کہ ٹیکسٹائل سمیت پانچ برآمدی شعبوں کو سپورٹ فراہم کی جاتی ہے، حکومت مزید برآمدی شعبوں کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے۔
حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان نے دو بڑے خساروں پر قابو پا لیا ہے، درآمدات میں کمی لائی گئی ہے اور تجارتی خسارہ میں 35 فیصد کمی ہوئی جب کہ اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت آئی تو ملک کے معاشی حالات برے تھے اور ملک پر 30 ہزار ارب کے قرضے تھے، آئی ایم ایف، ایشیائی ترقیاتی بینک اور ورلڈ بینک سے قرضے ملے۔حفیظ شیخ جو کہہ رہے ہیں ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ، ملک کا معاشی نظام چلانے کے لیے کن مطلوبہ اشاریوں اور لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے، اس کو حکومتی معاشی بزرجمہر ہی بہتر جانتے ہیں۔
عام آدمی کو معاشی گورکھ دھندوں کی فہم نہیں ہوتی، ملکی معاشی نظام چلانے کے لیے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، اسے اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی، وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ حکومت نے اس کی زندگی کو سہل بنانے کے لیے کن سہولتوں کا اعلان کیا ہے، اشیائے خورونوش اور دیگر ضروریاتِ زندگی تک اس کی رسائی میں کیا آسانیاں پیدا کی گئی ہیں، یوٹیلیٹی بلز میں کتنی کمی کی گئی ہے۔
اگر تو حکومت اسے یہ تمام مطلوبہ چیزیں بآسانی فراہم کر دیتی ہے تو اس کے لیے حکومت کا معاشی نظام سب سے بہترین ہے اور اگر یہ چیزیں مہنگی ہوتی چلی جائیں اور ان کے حصول میں مالی دشواریاں حائل ہونے لگیں تو وہ حکومت کی ہر معاشی پالیسی سے بیزاری کا اظہار کرنے لگتا ہے۔
اس امر میں کوئی شائبہ نہیں کہ اس وقت ملک کو شدید معاشی مسائل درپیش ہیں اور مالی بحران ملکی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے جس کا اظہار حفیظ شیخ نے کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی تو ملک پر 30 ہزار ارب کے قرضے تھے، دوسری جانب تجارتی خسارہ بھی بہت زیادہ تھا، حکومت اس مالی گرداب سے نکلنے کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔
انھوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ پاکستان کی معیشت سے متعلق بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو گیا ہے اور گزشتہ تین ماہ میں 340 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی ہے، 5 لاکھ نئے ٹیکس دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا اور ریونیو میں 16 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، رواں مالی سال تجارتی خسارہ 9 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.7 ارب ڈالر ہو گیا ہے جب کہ پی ایس ڈی پی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال زیادہ پیسے جاری کیے گئے ہیں۔
حفیظ شیخ کے پیش کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں معاشی بہتری کے نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں اور معاشی نظام درست پٹڑی پر چڑھ گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل سمیت پانچ برآمدی شعبوں کو سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ حکومت مزید برآمدی شعبوں کو شامل کرنے پر غور کر رہی ہے، ایکسچینج ریٹ میں استحکام آ گیا ہے، اسی وجہ سے اب تیل کی قیمتیں نہیں بڑھیں۔ ماضی میں ایکسچینج ریٹ کو ایک حد پر رکھنے کے لیے اربوں ڈالرز ضایع کیے گئے،کاروباری سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں اور نئی ملازمتیں نکلیں گی۔
اس وقت امریکا اور یورپ کی معاشی ترقی میں سائنس و ٹیکنالوجی کا بڑا ہاتھ ہے اور انھوں نے اس کی فروخت سے اربوں ڈالر کمائے ہیں۔پاکستانی حکومت کو بھی اس جانب توجہ دینی چاہیے۔
حکومت کی معاشی پالیسیوں پر صنعت کاروں اور تاجروں کے طبقے کو بہت سے تحفظات ہیں، وہ حکومتی پالیسیوں سے زیادہ خوش نہیں، یہی وجہ ہے کہ تاجروں کا ایک طبقہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے ملک میں ہڑتال کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ تاجروں سے متعدد بار مذاکرات ہو چکے ہیں جو اب بھی جاری ہیں، چھوٹے تاجروں کے فکس ریٹ پر حکومت متفق ہے جب کہ شناختی کارڈ کوئی مسئلہ نہیں ہے، اس معاملے پر تاجروں کو مطمئن کر لیں گے۔ داخلی مسائل تو رہے ایک طرف، عالمی سطح پر بھی حکومت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ہی حکومت کے لیے سردرد بنی ہوئی ہے جس نے دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کی آڑ میں پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کر رکھا ہے اور وہ مسلسل دھمکیاں دے رہی ہے کہ اس کے مطالبات منظور نہ ہوئے تو پاکستان بلیک لسٹ بھی ہو سکتا ہے۔ حفیظ شیخ نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے27 میں سے 20 پر اقدامات کیے جا چکے ہیں، کوشش ہے کہ پاکستان جلد ازجلد گرے لسٹ سے نکل آئے۔ حکومت دعوے تو بڑے بڑے کر رہی ہے لیکن عام آدمی کی سوچ اس کے برعکس ہے۔
وہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، یوٹیلیٹی بلز میں اضافے سے پریشان ہے۔ اس کے نزدیک حکومت کی معاشی پالیسیاں تب ہی کامیاب متصور ہوں گی جب اس کی زندگی میں مالی آسودگی آئے گی۔