امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے قائم مقام سربراہ مستعفیٰ

جج ڈیوڈ بری اونز نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے ٹرمپ کے اعلان کے خلاف بھی فیصلہ دیا ہے

جج ڈیوڈ بری اونز نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے ٹرمپ کے اعلان کے خلاف بھی فیصلہ دیا ہے (فوٹو: فائل)

امریکا کے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے قائم مقام سربراہ کیون میک الینان نے بھی استعفیٰ دیدیا ہے اور اس طرح ٹرمپ انتظامیہ کے چوٹی کے حکام کے استعفوں کی قطار کافی طویل ہوگئی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ کیون میک الینان نے سیکیورٹی چیف کے طور پر امریکا کی سرحد پر دراندازی کو روکنے کے لیے بہت اچھا کام کیا ہے لیکن چونکہ وہ اپنی زندگی کے بہت سال حکومت کے ساتھ گزار چکے ہیں لہذا اب وہ باقی وقت اپنی فیملی کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔ ادھرکیون کے قریبی ذرایع کا کہنا ہے وہ اب حکومت کے بجائے نجی شعبے میں کام کرنا چاہیں گے۔

واضح رہے کیون، کرسٹن نیلسن کی جگہ اس طاقتور عہدے پر متمکن کیے گئے تھے۔ اب وہ کیوں مستعفیٰ ہوئے ہیں، اس کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آسکی تاہم صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ نئے قائم مقام ہوم لینڈ سیکیورٹی سیکریٹری کا اعلان اگلے ہفتے کریں گے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ہنڈوراس، گوئٹے مالا اور ایل سلواڈور سے آنے والے مہاجرین کو کامیابی سے روکنے کا کام سرانجام دیا ہے جب کہ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا میں سیاسی پناہ کے لیے آنے والوں کو پہلے باضابطہ طور پر اس کے لیے درخواست دینی چاہیے ناکہ میکسیکو سے ٹرین میں بیٹھ کر براہ راست امریکا پہنچنے کی کوشش کریں۔واضح رہے ٹرمپ نے غیر قانونی تارکین وطن پر سختی سے پابندی لگانے کا اعلان کیا تھا اور اس ایجنڈے پر وہ خاصی کامیابی کے ساتھ عمل درآمد کرا رہے ہیں۔ اس حوالے سے سرحد عبور کرنے والے ہزاروں افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔


کیون کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی ہدایات کے مطابق امریکی سرحدی محافظوں نے بغیر قانونی دستاویزات امریکا کی سرحد عبور کرنے پر پابندی میں مزید سختی کر دی گئی ہے۔ دوسری طرف امریکا کے ایک وفاقی جج نے صدر ٹرمپ کی طرف سے تمام تارکین وطن کے خلاف سخت پابندیوں کو امریکی خواب کے منافی قرار دیتے ہوئے ان پابندیوں کے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے۔

عدالت کی طرف سے امریکا میں تاریکن وطن کو خوراک اور طبی امداد پر قدغن کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ تارکین وطن کے بارے میں سخت قوانین پر عملدرآمد آیندہ چند روز میں شروع کر دیا جائے گا تاہم نیویارک کے جنوبی ڈسٹرکٹ جج جان ڈینئل نے اس حکم کو ملک بھر میں جامد کر دیا۔

جج نے اپنے فیصلہ میں لکھا ہے کہ حکومت اس حوالے سے کوئی معقول وجہ بیان کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ امریکی عدالتیں اس قسم کے معاملات میں یہ یاد دہانی کرانا ضروری خیال کرتی ہیں کہ امریکی فی الحقیقت تارکین وطن کا ہی ملک ہے۔ اس کے اصل باشندوں کی تعداد بہت کم تھی اور جو باقی بچے انھیں بھی آنے والے سفید فاموں نے معدوم کر دیا گویا ان کی جڑیں ہی کھوکھلی کر دی گئیں لہٰذا وہ معاشرے میں سے ناپید ہی ہو گئے۔

دریں اثناء ہوم لینڈ سیکیورٹی پر ہاؤس کمپنی کے ڈیموکریٹک چیئرمین بینی تھامپسن نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ہوم لینڈ سیکیورٹی کا منصب فوری طور پر بھرنا چاہیے کیونکہ یہ عہدہ اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اسے زیادہ دیر تک خالی نہیں رکھا جانا چاہیے۔

دوسری طرف ٹیکساس کے مغربی ڈسٹرکٹ کے جج ڈیوڈ بری اونز نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کے ٹرمپ کے اعلان کے خلاف بھی فیصلہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ایک طرف تو آپ پڑوس ملک کے لیے غیر فطری رکاوٹ کھڑی کر رہے ہیں اور دوسری طرف آپ کا مطالبہ ہے کہ دیوار کی تعمیر کے اخراجات بھی میکسیکو ہی اٹھائے جوکہ کسی صورت بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ لہٰذا امریکی صدر کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا چاہیے۔
Load Next Story