صدر پاکستان‘ وزیر اعظم بھارت کی ملاقات
ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر اتفاق رائے کیا گیا
تہران میں جاری غیروابستہ ممالک کی تحریک (نام) کےاجلاس کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے مابین باضابطہ ملاقات میں اہم امور پر غور اور مذاکرات کو مزید نتیجہ خیز پر اتفاق رائے کیا گیا۔ فوٹو: اے پی پی/ فائل
تہران میں جاری غیروابستہ ممالک کی تحریک (نام) کے 16ویں سربراہ اجلاس کے موقع پر جمعرات کو صدر مملکت آصف علی زرداری اور بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ کے مابین باضابطہ ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ امور، پاک بھارت تعلقات و دیگر ایشوز پر تبادلہ خیال جب کہ سیاچن، سرکریک، مسئلہ کشمیر' دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے سمیت متعدد اہم امور پر غور اور مذاکرات کو مزید نتیجہ خیز بنانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزیر داخلہ رحمان ملک، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی وہاں موجود تھے۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق رائے کیا گیا کہ مرحلہ وار مذاکرات سے پاک بھارت تعلقات بہتر ہوں گے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق صدر زرداری کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم کے جلد دورہ پاکستان کے منتظر ہیں' مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوئی تاہم ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے۔
یہ ملاقات اور اس میں متعدد امور کا زیر غور آنا خوش آیند اور پاک بھارت تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ قبل ازیں دونوں رہنمائوں کی ملاقات امسال اپریل میں ہوئی تھی جب صدر پاکستان آصف علی زرداری معروف صوفی اور بزرگ حضرت معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری کے لیے بھارت تشریف لے گئے تھے اور بھارتی وزیر اعظم نے ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا تھا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے باہمی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق رائے کیا تھا اور بھارتی میڈیا نے قرار دیا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات' جو ممبئی حملوں کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے' ایک بار پھر بتدریج بہتر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ امور آج سے دو تین برس پہلے کی نسبت کافی بہتر ہو چکے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مختلف دیرینہ مسائل اور تنازعات کے حوالے سے مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے جو صدر آصف علی زرداری اور بھارتی وزیر اعظم کے مابین ہونے والی اپریل کی ملاقات سے پہلے سیکریٹریوں کی سطح کے تھے لیکن اب یہ سلسلہ اعلیٰ سطح پر آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات اور سال رواں کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مجوزہ اور ممکنہ دورہ پاکستان سے مذاکرات کے اس عمل کو مہمیز ملے گی۔
علاوہ ازیں باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے' حال ہی میں تجارتی اشیاء کی فہرست پر نظرثانی کی گئی ہے' پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا جا چکا ہے جب کہ بھارت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے' دونوں ملکوں میں آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ویزوں کے اجراء کے معاملات کو بہتر اور سہل بنایا جا رہا ہے' دونوں ملکوں کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں اقدامات کو تیز کیا جائے تاکہ باہمی آمد و رفت کو بڑھایا جا سکے' ان کا کہنا ہے کہ باہمی آمد و رفت بڑھے گی تو ہی تجارتی معاملات میں حقیقی تیزی آئے گی۔
یہ بات خوش آیند ہے کہ جہاں دونوں ممالک تجارت و باہمی تعلقات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں وہاں بھارتی قیادت کو سیاچن، سرکریک، مسئلہ کشمیر اور دیگر اہم مسائل پر بات چیت کے لیے بھی رضامند کر لیا گیا ہے۔ یہ بات دونوں ملکوں کے عوام و خواص کے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت مذاکرات کو مزید نتیجہ خیز بنانے کی خواہش مند ہے' ظاہر ہے کہ دونوں اطراف اس سلسلے میں کوششوں میں تیزی آئے گی۔
پاکستان پہلے ہی ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس نے کافی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں' یہ بات خوش آیند ہے کہ اب بھارتی قیادت نے بھی اس حقیقت کو جان لیا ہے کہ اگر اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے کا کردار ادا نہ کیا تو ایک روز یہ آگ اس کے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے' یہی وجہ ہے کہ صدر زرداری اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ امید کی جاتی ہے آیندہ مہینوں میں اس تعاون اور تعلق کو مزید بڑھانے کے نئے در وا ہوں گے' اس حوالے سے من موہن سنگھ کا دورہ پاکستان یقیناً بے حد اہمیت کا حامل ہے۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق صدر آصف زرداری سے تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن نے ملاقات کی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ملاقات میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان میں تاجک تاجروں کے لیے توانائی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں جن سے وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ صدر زرداری سے سری لنکن صدر مہندا راجہ پکسے نے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر صدر زرداری نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارت کو متنوع بنانے اور وسیع تر اقتصادی شراکت داری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا۔ صدر زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی صورتحال اور پاک ایران اقتصادی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں اور ان میں زیرغور آنے والے ایشوز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس خطے کی سیاسیات میں پاکستان کی اہمیت روز افزوں ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس صورتحال کو پاکستان کے داخلی حالات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
ملاقات کے دوران وزیر داخلہ رحمان ملک، وزیر خارجہ حنا ربانی کھر، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا بھی وہاں موجود تھے۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق رائے کیا گیا کہ مرحلہ وار مذاکرات سے پاک بھارت تعلقات بہتر ہوں گے۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق صدر زرداری کا کہنا تھا کہ وہ بھارتی وزیر اعظم کے جلد دورہ پاکستان کے منتظر ہیں' مذاکرات میں کافی پیشرفت ہوئی تاہم ابھی بہت فاصلہ طے کرنا ہے۔
یہ ملاقات اور اس میں متعدد امور کا زیر غور آنا خوش آیند اور پاک بھارت تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ قبل ازیں دونوں رہنمائوں کی ملاقات امسال اپریل میں ہوئی تھی جب صدر پاکستان آصف علی زرداری معروف صوفی اور بزرگ حضرت معین الدین چشتی کے مزار پر حاضری کے لیے بھارت تشریف لے گئے تھے اور بھارتی وزیر اعظم نے ان کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام کیا تھا۔ اس ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے باہمی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق رائے کیا تھا اور بھارتی میڈیا نے قرار دیا تھا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات' جو ممبئی حملوں کے بعد تعطل کا شکار ہو گئے تھے' ایک بار پھر بتدریج بہتر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔
دونوں ملکوں کے مابین دو طرفہ امور آج سے دو تین برس پہلے کی نسبت کافی بہتر ہو چکے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ مختلف دیرینہ مسائل اور تنازعات کے حوالے سے مذاکرات کا عمل شروع ہو چکا ہے جو صدر آصف علی زرداری اور بھارتی وزیر اعظم کے مابین ہونے والی اپریل کی ملاقات سے پہلے سیکریٹریوں کی سطح کے تھے لیکن اب یہ سلسلہ اعلیٰ سطح پر آگے بڑھنے کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ بلاشبہ جمعرات کو ہونے والی ملاقات اور سال رواں کے دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مجوزہ اور ممکنہ دورہ پاکستان سے مذاکرات کے اس عمل کو مہمیز ملے گی۔
علاوہ ازیں باہمی تجارت کو فروغ حاصل ہو رہا ہے' حال ہی میں تجارتی اشیاء کی فہرست پر نظرثانی کی گئی ہے' پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیا جا چکا ہے جب کہ بھارت نے پاکستانی سرمایہ کاروں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کی اجازت دے دی ہے' دونوں ملکوں میں آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ویزوں کے اجراء کے معاملات کو بہتر اور سہل بنایا جا رہا ہے' دونوں ملکوں کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں اقدامات کو تیز کیا جائے تاکہ باہمی آمد و رفت کو بڑھایا جا سکے' ان کا کہنا ہے کہ باہمی آمد و رفت بڑھے گی تو ہی تجارتی معاملات میں حقیقی تیزی آئے گی۔
یہ بات خوش آیند ہے کہ جہاں دونوں ممالک تجارت و باہمی تعلقات بڑھانے پر توجہ دے رہے ہیں وہاں بھارتی قیادت کو سیاچن، سرکریک، مسئلہ کشمیر اور دیگر اہم مسائل پر بات چیت کے لیے بھی رضامند کر لیا گیا ہے۔ یہ بات دونوں ملکوں کے عوام و خواص کے لیے خوشی اور حوصلے کا باعث ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت مذاکرات کو مزید نتیجہ خیز بنانے کی خواہش مند ہے' ظاہر ہے کہ دونوں اطراف اس سلسلے میں کوششوں میں تیزی آئے گی۔
پاکستان پہلے ہی ایک عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں اس نے کافی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں' یہ بات خوش آیند ہے کہ اب بھارتی قیادت نے بھی اس حقیقت کو جان لیا ہے کہ اگر اس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے حصے کا کردار ادا نہ کیا تو ایک روز یہ آگ اس کے دامن تک بھی پہنچ سکتی ہے' یہی وجہ ہے کہ صدر زرداری اور وزیر اعظم من موہن سنگھ کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ امید کی جاتی ہے آیندہ مہینوں میں اس تعاون اور تعلق کو مزید بڑھانے کے نئے در وا ہوں گے' اس حوالے سے من موہن سنگھ کا دورہ پاکستان یقیناً بے حد اہمیت کا حامل ہے۔
اخباری رپورٹوں کے مطابق صدر آصف زرداری سے تاجکستان کے صدر امام علی رحمٰن نے ملاقات کی۔ صدارتی ترجمان کے مطابق ملاقات میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان میں تاجک تاجروں کے لیے توانائی سمیت دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہت مواقع ہیں جن سے وہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ صدر زرداری سے سری لنکن صدر مہندا راجہ پکسے نے بھی ملاقات کی۔
اس موقع پر صدر زرداری نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان تجارت کو متنوع بنانے اور وسیع تر اقتصادی شراکت داری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا۔ صدر زرداری اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے درمیان ہونے والی ملاقات میں خطے کی صورتحال اور پاک ایران اقتصادی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں اور ان میں زیرغور آنے والے ایشوز سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس خطے کی سیاسیات میں پاکستان کی اہمیت روز افزوں ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ اس صورتحال کو پاکستان کے داخلی حالات بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔